صحافتی زمہ داری و اخلاقیات کا مطالعہ

صحافتی اخلاقیات سے مراد ایسے صحافتی معیار ہیں جنکی مدد سے کسی چیز کے اچھے یا برے ، صحیح یا غلط ، اور زمہ دار یا غیر زمہ دار ہونے کی اقدار کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ ان صحافیانہ معیار کو صحافتی اقدار بھی کہا جاتا ہے۔ صحافت کی یہ اقدار صحافی کے لیے اس کے فرائض اور زمہ داریوں کا تعین بھی کرتی ہے۔ صحافتی اخلاقیات سے نہ صرف صحافیوں کے فرائض و زمہ داری بلکہ زرائع ابلاغ کے معیار اور کردار کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

صحافت کے اقدار اور معیار دنیا میں تقریباً ایک جیسے ہی ہیں ۔ مشہور امریکی صحافی جوزف پلٹزر صحافتی اقدار کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” خوشحالی اور اصلاحات کے لیے ہمیشہ جنگ کیجیے ، ناانصافی اور بدعنوانی کو کبھی برداشت مت کیجیے ، ہمیشہ تمام فرقوں کے جزبات کا خیال رکھیں کبھی کسی ایک پارٹی کے موقف کی حمایت نہ کیجیے ، عوام کا حق غضب کرنے والے اونچے طبقات کی مخالفت کیجیے ، غریبوں کے ساتھ ہمدردی کیجیے ، ہمیشہ عوامی بہبود کے لیے خود کو وقف کردیجیے حق کا ساتھ دیجیے ، غلط پر تنقید کرتے ہوئے کبھی مت ڈریں چاہے وہ امرائ کی طرف سے ہو یا غربائ کی طرف سے ہو۔
دنیا کے دوسرے تمام ممالک کی طرح پاکستان میں بھی صحافت کی آزادی ، وقار، احساس زمہ داری اور صحافتی اخلاقیات پر ہمیشہ سے ہی زور دیا جاتا رہا ہے۔ سر سید احمد خان ، مولانا محمد علی جوہر ، اور دیگر بانیان پاکستان بھی اس امر پر زور دیتے رہے کہ آداب صحافت کی پابندی کیجیے.قائد اعظم نے صحافتی شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ “صحافت کو کاروبار نہیں بلکہ قومی خدمت کا موثر وسیلہ سمجھا جاے،یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جسے عالم انسانیت کی فلاح و بہبود اور معاشرے میں عدل و انصاف کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔” .

images (1)ffg

صحافتی اخلاقیات و زمہ داری کو ہم یوں بیان کرسکتے ہیں کہ:
صحافت غیر جانبدار اور تعصب سے پاک ہونا چاہیے۔
صحافت منصفانہ اور جائز ہونا چاہیے۔ صحافت حقائق پر مبنی ہو۔
صحافت زمہ دارانہ اور اپنے مقاصد سے مخلص ہونی چاہیے۔
صحافت شائستہ ، آبرو مندانہ اور مہزب ہونی چاہیے۔
صحافت کو ہر امور پر آزاد ہونا چاہیے۔ ایک صحافی کی صحافتی و اخلاقی زمہ داری ہوتی ہے کہ بنا کسی ثبوت کے کسی فرد یا شخصیت کے خلاف کوئی بات آگے نہ بڑھاے۔
عوام کے مسائل کو اجاگر کرے اور انکے حل کے لیے آواز اٹھاے۔
معاشرتی برائیوں سے تمام عوام کو آگاہ کرے۔
   صحافتی زمہ داریاں اور اخلاقیات کی حقیقی تعریف پڑھنے کے بعد  واضح ہوگیا ہوگا کہ حقیقی صحافت کیا ہے اور اسکی کیا زمہ داریاں ہیں۔

 اوپر بیان کی گئی صحافتی زمہ داریوں کے اہم نکات میں سے کوئی ایک پوائنٹ بھی ایسا ہے، جس پر ہمارے صحافی حضرات عمل کرتے ہوں ؟

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا پر روز شام کو ٹاک شوز کیے جاتے ہیں جس میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں ، تجزیہ کار، و دیگر صحافیوں کو مہمان کے طور پر بلایا جاتا ہے اور لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں،ٹاک شوز میں حقائق بیان کرنے کے بجائے حقائق مسنح کیے جاتے ہیں اور پوری قوم کو گمراہ کیا جاتا ہے اور غریب و مظلوم عوام کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے نجی نیوز چینلز اپنے چینل کی ریٹینگ کو بڑھانے کے لیے ہر نان ایشو کو سنسنی خیز بناکر اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے میں مصروف ہیں، کیا پاکستان میں صحافت صحیح سمت کی جانب گامزن ہے ؟ پاکستان کو آج جتنے مسائل درپیش ہیں وہ تمام مسائل حل ہوجائیں اگر ہمارے صحافی اپنی صحافت کی سمت درست کرلیں اور عوام کے جائزحقوق کے لیے آواز اٹھانا شروع کردیں۔ پاکستان میں صحافتی اقدار کو بہتر بنانے کے لیے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو چاہیے کہ وہ اپنے ادارے میں ایسے لوگوں کو شامل کریں جو صحافتی زمہ داری نبھائیں نہ کے اپنے شعبے کا غلط استعمال کرکے عوام سے حقائق چھپائیں یا پھر کسی کو خوش کرنے کے لیے مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ کریں۔ سالوں سے پاکستان میں صحافتی شعبے کو حکمران اپنے مخالفین کے خلاف میڈیا ٹرائل کے طور پر استعمال کرتے آرہے ہیں اسی وجہ سے پاکستان کو معیاری صحافت دیکھنا نصیب نہ ہوسکی ، پاکستان میں ادارے اپنا حقیقی کردار ادا کرنے لگیں تو 75 فیصد مسائل یوں ہی حل ہوجائیں۔

download (1)dA

Advertisements