شہر کراچی کا مسئلہ یہ ہے کہ

کراچی بہت سے اہم معمولات میں سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کی جانب سے عدم توجہی کا شکار ہے کراچی کی گلیوں اور مین چوراہوں پر ابلتے ہوئے گٹر ، اہم شاہراہوں کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور صحت و صفائی کی بگڑتی ہوئی صورتحال جیسے مسائل ارباب اختیار کی شہر کراچی سے محبت کا ثبوت ہیں۔ کراچی جو قومی و بین الاقوامی سطح پر بہت اہمیت کا حامل شہر ہے اس کے باوجود شہر میں آے روز شہری کبھی بجلی کی بندش کے خلاف سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو کبھی پانی کی فراہمی نہ ہونے پر سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔

بہت سے لوگوں سے ہم یہ جملے بہت سنتے ہیں کہ شہر کراچی کامسئلہ کیا ہے ؟ جی کراچی کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ کراچی آبادی کے لحاظ سے نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ دنیا کے دس بڑے شہروں میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ شہر قائد میں شہریوں کو انکے بنیادی حقوق نہ ملنا یہ حکومتی فیلئر یا ناکامی تو ہے ہی مگر حکومت کے ساتھ ساتھ انتیظامی ناکامی بھی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی گزشتہ سات سالوں سے سندھ میں حکومت کررہی ہے مگر ان سات سالوں میں ہم نے کوئی پروجیکٹ ہوتا نہیں دیکھا ، انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعلانات اور دعوے تو بہت کیے گئے مگر اب تک کراچی کے شہریوں کو کوئی خاص ریلیف تو کیا زندگی کی بنیادی ضرورت ” پانی ” بھی میسر نہ آسکا جو انتیظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
کراچی کا مسلہ یہ ہے کہ سندھ کی حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کا کوئی اہم رکن اسمبلی کراچی سے نہ جیت سکا جسکی وجہ سے حکومت وقت کا کراچی میں سوائے چند ایک علاقوں کے اعلاوہ کہیں کوئی اسٹیک یا نمائندگی نہیں اور نہ کوئی خاص ووٹ بینک ہےاور یہ ہی کراچی کا مسئلہ ہے۔ پیپلزپارٹی نے صرف زولفقار علی بھٹو کے دور میں کراچی میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی اس کے بعد پیپلزپارٹی کو کراچی کی عوام نے ایسا مسترد کیا کہ آج شہر کراچی میں پاکستان پیپلزپارٹی نہ ہونے کے برابر ہے جس کا خمیازہ کراچی کو پیپلزپارٹی کے ہر دور میں بھگتنا پڑتا ہے۔
سندھ کی کل آبادی کے لحاظ سے سندھ کی آدھی آبادی کا حصہ کراچی کی آبادی پر مشتمل ہے – غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق سندھ کی آبادی ساڑھے تین کروڑ ہے جس میں ڈیڑھ کروڑسے زائد آبادی تو شہر قائد کراچی کی ہے۔
شہر قائد کی بدقسمتی ہے کہ سندھ کی حکومت جاگیردارانہ اور وڈیرانہ نظام کے تحت اندرون سندھ سے بنائی جاتی ہے اور یوں پاکستان کا سب سے بڑا شہر جاگیرداروں وڈیروں کو منتخب نہ کرنے کی وجہ سے انتیقام کا نشانہ بنادیا جاتا ہے۔

images

پاکستان میں جاگیردار وڈیروں نے کبھی اپنے شہر اور اپنے حلقوں میں کوئی ترقیاتی کام نہ کیا تو کیا یہ جاگیردارانہ سوچ کے حامل حکمراں کراچی شہر میں ترقی ہوتادیکھ سکتے ہیں؟ آخر کراچی کا مسقبل کیا ہوگا اگر اسی طرح کراچی کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو روشنیوں کا شہر تاریکی میں ڈوب جاےگا۔گزشتہ سات سالہ جمہوری دور کی کاردگی کے بعد اب سوال یہ نہیں کہ کراچی کا مسلہ کیا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ سیاستدانوں ، حکمرانوں کو کراچی کی عوام سے مسلہ کیا ہے ؟ کراچی شہر کا ایک اہم ایشو “اون ” کرنے کا ہے۔ کراچی سے جنریٹ ہونے والے ریونیو پر سندھ حکومت اور وفاقی حکومت دونوں ہی حق جماتے ہیں مگر اس شہر کے ریونیو اور ٹیکس کی مدد سے بننے والے ہر سالانہ بجٹ میں کراچی کے لیے جھوٹے وعدے اور دعوے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔کراچی کی ترقی کا راز کراچی کے شہریوں کے پاس ہی ہے۔اگر ہم اپنی یادداشت کو اس جمہوری دورسے 8 سال قبل کے بلدیاتی دور کی طرف لے کر جائیں تو آپکو محسوس ہوگا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم پر ناظم بننے والے سید مصطفیٰ کمال نے کس طرح سے شہر کراچی کا نقشہ تبدیل کردیا تھا اس وقت مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے کراچی کو دبئی بنادیا ہے ، پیپلزپارٹی کے دور حکومت سے قبل ناظمین کے دور شہر میں چھ اوور ہیڈ اور انڈرپاس تعمیر ہوچکے تھے اور انکی وجہ سے شہر میں گنجان آباد حصوں میں ٹریفک کے دباو میں کمی آنا شروع ہوچکی تھی۔ شہر کراچی حقیقت میں دبئی سے بہتر شکل اختیا کر سکتا تھا اگر ناظمین کے دور کے پروجیکٹس پر کام جاری رہتا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پیپلزپارٹی کراچی کی ترقی کی راہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چند ماہ قبل جون 2015 میں صوبائی بجٹ پیش کیا گیا تھا جس سے صاف ظاہر تھا کہ ” سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی “کو کراچی کے شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے نہ ہی دلچسپی ہے اور نہ وہ شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں۔ رواں سال بجٹ 16-2015 پیش کرتے ہوئے عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھنے کے بجا ئے جاگیرادارنہ سوچ کو مدنظر رکھا گیا اور سندھ اسمبلی سے پاس ہونے والے 739 بلین روپے کے بجٹ میں سندھ کے شہری علاقوں اور کراچی کے لیے کوئی بڑا پروجیکٹ شامل ہی نہ تھا۔ سندھ کے بجٹ میں نہ بجلی کے بحران کے حوالے سے کوئی حکمت عملی تھی اور نہ پانی کی تقسیم اور پانی کی فراہمی کے حوالے سے کوئی جامع پلان تھا۔ دس سال قبل جو شہر ترقی کی جانب گامزن تھا آج وہ شہر اپنے شہریوں کی پیاس نہیں بھجا پارہا ہے۔ شہر کراچی اپنا پیٹ خود بھر سکتا ہے اسکا دم گھوٹنے کے بجائے اسے کھلی فضا میں سانس لینے دیجیے۔ کراچی کے مسائل کامستقل اور واحد حل یہ ہے کہ کراچی کو سندھ کا ایک آزاد خود مختیار یونٹ بنادیا جائے یا پھر ایک علیحدہ صوبہ۔ کراچی ایک الگ یونٹ یا صوبہ بننے کے بعد پاکستان کو تیزی سے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرسکتا ہے۔ کراچی کے معمولات میں جب تک کراچی کے شہریوں کو شامل نہیں کیا جاےگا تب تک مسائل پر قابو پانا ناممکن ہے اورسالوں سے ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔یہ قائد کا شہر پاکستان کے تمام شہروں سے منفرد ہے جو کسی کی غلامی برداشت نہیں کرسکتا۔ کراچی پر قبضے کی خواہش رکھنے والے مایوس ہونگے کراچی کو اپنی دہشت سے نہیں اپنے عمل و کردار سے جیت سکو تو جیت لو ورنہ اس شہر کو اپنے فیصلے خود کرنے دو۔

Advertisements