لاپتہ افراد کا اشتہاری معاملہ                                                            

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور پاکستان کا معاشی حب ہے جسے پاکستان کا دل بھی کہا جاتا ہے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کراچی سندھ کا شہر ضرور ہے مگر اسکی اپنی الگ حیثیت اور اہمیت ہے جس کا اندازہ کراچی کے مستقل مقامی شہریوں کو تو ہے مگر کراچی کے باہر رہنے والے ان حکمرانوں اور ریاستی اداروں کو اسکی اہمیت و حساسیت کا اندازہ نہیں ہے جس کی وجہ سے شہر میں رہنے والے شہریوں کو روز نہ جانے کتنی ازیتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔  کراچی میں گزشتہ دو سالوں سے جرائم پیشہ افراد کے خلاف رینجرز اور پولیس آپریشن میں مصروف ہیں بقول رینجرز کے کراچی میں جاری آپریشن کے دوران سنگین جرائم میں ملوث افراد اور دیگر ٹارگٹ کلرز پکڑے گئے ہیں جو بہت خطرناک تھے ( حیرت اس بات کی ہے کہ اتنے خطرناک ٹارگٹ کلرز پکڑ لیے گئے اور انھوں نے مزاحمت بھی نہیں کی ؟ خیر جانے دیجے ۔ ۔ )  کراچی آپریشن کے دوران جہاں خطرناک دہشت گرد پکڑے گئے وہی بہت ہی آرام سے بدنام زمانہ لیاری گینگ وار کے دہشت گرد کیسے کراچی و ملک سے فرار ہوگئے  ؟بہت سے لوگ کراچی آپریشن کے دوران امن و امان کی مصنوعی صورتحال پر کریڈیٹ لینے کی کوشش کررہے ہیں کہ انکی وجہ سے کراچی کے حالات پہلے سے بہتر ہوے ہیں جسکی اصل وجوہات ہیں کہ سندھ کے سابق وزیرداخلہ کے منہ بولے بچے لیاری گینگ کے سرغنہ دہشت گردوں کو آپریشن کے شروع ہوتے ہی فرار کردیاگیاتھا اور یوں کراچی میں چھوٹے موٹے گروپس ابھی بھی لیاری میں موجود ہیں اور آج بھی وہاں خوف کی فضا قائم ہے۔  دو سالہ کراچی آپریشن کے دوران کوئی ایسا فرد آج تک منظرعام پر نہیں آیا جو کراچی میں ہونے والی زیادتیوں کی زمہ داری اپنے اوپر لے اور اس پر معافی مانگے ۔۔ ۔کراچی کا 85فیصد مینڈیٹ وہاں کی سیاسی جماعت متحدہ کے پاس ہے اور اسی لیے کراچی کے ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے معمولات میں ایم کیو ایم کو شامل نہ کرنا کہا کی عقل مندی ہے ؟  متحدہ کی ہی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ کراچی میںجرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کیا جائے کیونکہ کراچی کے حالات پرامن نہ ہونے سے ایم کیو ایم کے ہمدرد اور سپورٹرز متاثر ہورہے تھے مگر وہاں تو گنگا ہی الٹی بہہ گئی۔ آپریشن کے دوران ایم کیو ایم نے احتجاج شروع کردیے کہ اسکے کارکنان ، ہمدرد اور سپورٹرز کو آپریشن کی آڑ میں نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اور جیسے جیسے کراچی آپریشن بڑھتا گیا متحدہ کی شکایات بڑھتی گئی اور پھر کراچی میں عام شہریوں اور ایم کیو ایم کے کارکنان کے لاپتہ ہونے کی خبریں آنے لگی جسکے حوالے سے لاپتہ افراد کے لواحقین کا موقف ہے کہ انھوں نے لاپتہ ہونے والے افراد کی گمشدگی کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کیا ہے اور پٹیشن بھی دائر کی ہوئی ہے۔ لاپتہ افراد کی بازگشت سراٹھانے کے ساتھ ساتھ کراچی کی سڑکوں پر لاپتہ افراد کی تشدد زدہ لعنشیں ملنے لگیں مگر کسی پاکستانی نے اس پر کوئی سازش یا کوئی سنجیدگی کا اظہار نہیں کیا اور یوں کراچی میں ماورائے عدالت قتل ایک عام بات سی محسوس ہونے لگی اور لاپتہ کرنا اشرافیہ کا دھندہ بن گیا کیونکہ لاپتہ ہونے والے کچھ افراد  پیسے دے کر نکل گئے مگر جو پیسہ نہ دے سکے وہ تشدد، دباو اور  خوف سے دم توڑ گئے  کیونکہ کراچی میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے عملی اقدام کیا ہی نہیں جاتا ۔ ۔اسی لیے لاپتہ ہونے والوں کو  کچھ لو اور دو کرنا پڑتا ہے۔    متحدہ نے اپنے کارکنان اور ہمدردوں  کے لاپتہ ہونے پر ہر فورم پر آواز اٹھای اور احتجاج کیا مگر نتیجہ “صفر ” ۔ ۔  اور پھر متحدہ نے آخر میں اپنے کسی فورم پر سنوای نہ ہونے پر احتجاجاً صوبائی و قومی اسمبلی کی تمام نشستوں پر مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ۔ ۔  مگر متحدہ کے 12 اگست کو دیے جانے والے استعفوں کو کافی وقت گزر گیا مگر اب تک منظور نہ ہوسکے۔  متحدہ  کی  نہ ہماری ریاستی اشرافیہ نے ان زیادتیوں پر کوئی تشویش کا اظہار کیا اور نہ ہی کوئی انکے لواحقین کی داد رسی کو گیا جنکے پیارے پاکستان میں بنا کسی قصور کے وحیشیانہ تشدد کے بعد ماورائے عدالت قتل کردیئے گئے ۔  

CQtvUHrWUAE6sBe CQtvTSzWcAAsxJB

رواں ماہ 6 اکتوبر 2015 کو کراچی میں ایک حادثہ رونما ہوا جو کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا ہوا یوں کہ ڈی ایس پی ویسٹ  فخرالسلام کی جانب سے اخبارات   میں  6افراد کے متعلق اشتہار چھپوایا گیا کہ ان چھ افراد کو نامعلوم رینجرز اہلکار اٹھاکر لےگئے ہیں جن کا تاحال پتہ نہیں چل رہا ہے ۔ ۔ اس اشتہار نے کراچی آپریشن کی قلعی کھول دی ۔ ۔ ۔ ۔ مگر کراچی کی عوام کی بدقسمتی ہے کہ پورا میڈیا ان لاپتہ افراد کے حوالے سے گفتگو کرنے کے بجاے اس گفتگو میں الجھ گیا اور کراچی سے باہر رہنے والوں کو بھی اسی میں الجھا دیا کہ  یہ اشتہار کیوں چھپا  ۔  ۔ کیسے چھپا ۔ ۔ بس ابھی ایک دو گھنٹے کی بریکنگ نیوز ہی چلی تھی کہ سندھ کی سوئی ہوئی حکومت سو کر اٹھی اور نامعلوم رینجرز اہلکار کے حوالے سے چھپنے والے اخبارات میں اشتہارات کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی ۔۔ ۔ ۔ ابھی رپورٹ طلب ہی کی تھی کہ لاپتہ افراد کے متعلق اشتہار دینے والے ڈی ایس پی صاحب کو فوراً ہی  معطل کردیا گیا اور آئی جی پولیس نے انکوائری کا حکم دے دیا کہ پتہ لگایا جاے کہ یہ اشتہار کیسے شائع ہوا ۔ ۔ 

CQupY_bWcAET5CM  CQupY4BWUAAzgVP

  چند گھنٹے بعد سندھ  رینجرز کے ترجمان  نے  اخبارات  میں شائع ہونے رینجرز اہلکاروں کے متعلق خبر کو کراچی کے امن کے خلاف سازش قراد دیا اور کہا کہ اس حوالے سے ہم قانونی چارہ جوئی کا بھی حق رکھتے ہیں ۔ بات یہاں کسی محاز آرائی ٹکراؤ یا پھر میڈیا کو ملنے والی بریکنگ نیوز کی نہیں ہونی چاہیے تھی سب اس اشتہار کے بعد اس بات کی تک و دو میں لگ گئے کہ اس اشتہار سے رینجرز اور پولیس کے درمیان ٹکراو ہونے جارہا ہے ۔ ۔ کیا کراچی آپریشن کو فیل کیا جارہا ہے ۔ ۔ کیا یہ کراچی کے امن کے خلاف سازش ہے   ۔ ۔ یہ تھے وہ سوال جو معطل ڈی ایس پی اورنگی فخرالاسلام کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے  چھپوائے جانے والے اشتہارات کے بعد عوام کے زہنوں میں دوڑاے جارہے تھے ہمارے الیکٹرانک میڈیا کے زریعے ۔ ۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اشتہار دینے والے ڈی ایس پی کے بعد چوبیس گھنٹوں میں ہی اورنگی ٹاون کے دوسرے افسر ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو بھی معطل کردیا گیا ۔ ۔ ۔ مگر اشتہار کے گھنٹوں گزرجانے کے باوجود ان 6افراد کے حوالے سے کوئی انویسٹی گیشن منظرعام پر نہیں آئی کہ آیا کہ جن افراد کے لاپتہ ہونے کا اشتہار دیا گیا تھا وہ کہاں ہیں  ؟ نہ یہ سوال میڈیا پر کوئی  سن رہا ہے اور نہ کوئی کررہا ہے ۔۔ ۔ اور نہ ہی کوئی تجزیہ نگار یا کالم نگار اپنے قلم سے اسکی حساسیت بیان کررہا ہے کہشہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت وقت کی وقت کی زمہ داری ہے۔ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت اپنی موج میں مست ہیں اور میڈیا مصروف ہے عوام کی آنکھ میں دھول جھنکنے پر ۔ ۔ ۔  اگر پاکستان میں کوئی واقعی انویسٹی گیشن جرنلسٹ ہوتا تو یقیناً اب تک تو اس معاملے کی حقیقت عوام کے سامنے لاچکا ہوتا ۔ ۔ کیونکہ دیے گئے اشتہار میں بہت کچھ درج ہے ۔ امید ہےیہ معاملہ جلد ہوجائے گا اگر رینجرز کسی بھی طرح ان لاپتہ افراد کو میڈیا یا پھر عوام کے سامنے صحیح سلامت پیش کردے تو ۔ ۔

Advertisements