اکتوبر کرکٹ مداحوں کے لیے بہت کچھ لایا ہے

دنیا میں سب سے زیادہ دلچسپی سے دیکھا اور کھیلے جانے والا کھیل کرکٹ ہے جس کے مداحوں کی نہ کوئی حد ہے اور نہ کوئی سرحد پاکستان اور دیگر ممالک میں رہنے والے کرکٹ شائقین کےلیے اکتوبر بہت ہی دلچسپ نظر آرہا ہے۔ رواں ماہ اکتوبر 2015 میں کرکٹ کے شائقین بہت لطف اٹھانے والے ہیں کیونکہ ماہ اکتوبر میں کرکٹ کی دنیا کی 4 بڑی ٹیمیں مدمقابل ہونگی بھارت بمقابلہ ساوتھ افریقہ ، اور پاکستان بمقابلہ انگلینڈ۔ بھارت اور ساوتھ افریقہ کے درمیان سریز کا باقاعدہ آغاز ٹی 20 میچز سے ہوچکا یے جس کے ابتدائی دو میچز جیت کر ساوتھ افریقہ نے 3 ٹی 20 میچز کی سریز اپنے نام کرلی ہے۔ سریز کا آخری ٹی 20میچ جمعرات 8 اکتوبر کو کلکتہ میں کھیلا جاےگا ، بھارت اور ساوتھ افریقہ کے درمیان 5 ایک روزہ میچز کی سریز کا آٰغاز 11 اکتوبر سے ہوگا۔ رواں ماہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم پاکستان کی ہوم سریز کے لیے دبئی پہنچ چکی ہے۔ ( سیکورٹی کی بنا پر پاکستان میں ہونے والی سریزءسالوں سے نیوٹرل وینیو پر منعقد کی جاررہی ہیں ) . انگلینڈ کی ٹیم دبئی پہنچ کر پریکٹس میں مصروف ہے اور اسی سلسلے میں پاکستان اے ٹیم اور انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے درمیان تین روزہ پریکٹس میچ بھی جاری ہے دوسری طرف پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ زمبابوے سے کامیابی سمیٹ کر دبئی کے لیے روانہ ہوچکی ہے جہاں اسے ہوم سریز کے طور پر ابوظبی میں انگلینڈ کا سامنا کرنا ہے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان مجموعی طور پر دو ٹیسٹ ، 5 ایک روزہ میچز اور 3 ٹی 20 پر مشتمل سریز کھیلنی ہے جس کا پہلا ٹیسٹ 13سے 17 اکتوبر اور دوسرا ٹیسٹ 21 سے 25 اکتوبر 2015 کو ابوظبی اور متحدہ عرب امارات کے گراو¿نڈ میں کھیلے جائینگے۔ ان بہترین ٹیموں کے درمیان یقیناً کانٹے کا مقابلہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ – ایک طرف ساوتھ آفریقہ ہے جو انڈیا سے سریز سے قبل بنگلہ دیش کے دورے پر 2- 1 سے ون ڈے سریز میں شکست کا سامنا کرکے آیا ہے اور دوسری طرف بھارت ہے جو زمبابوےکو اسی کے گھر میں مختصر سریز میں پچھاڑ کرآیا ہے اور پھر اسکے بعد سری لنکا کو اسکے ہوم گراونڈ میں ٹیسٹ سریز میں 2 – 1 سے شکست دے چکا ہے۔ دونوں طرف بہت اچھے کھلاڑی موجود ہیں دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کے ویرات کوہلی اپنا جلوہ دکھائینگے یا پھر افریقی اپنے چھکے چوکوں سے انکو تگنی کا ناچ نچائنگے۔۔ اب تک بھارت اور ساوتھ افریقہ کے درمیان ہونے والے دو ٹی 20 میچز میں ساو?تھ افریقہ نے اپنے تمام شعبوں میں بھارت کو چت کردیا ہے مگر پکچر ابھی باقی ہے۔۔۔ ابھی صرف کرکٹ سریز کا آغاز ہوا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کے پاس بہت بہترین بلے باز موجود ہیں جو کبھی بھی بازی پلٹ سکتے ہیں کیونکہ کرکٹ بائی چانس جس میں آخری بال تک کچھ نہیں کہا جاسکتا۔۔ مگر ہم یہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ انڈیا ساوتھ افریقہ سے تین ٹی 20 میچز کی سریز 2-0 سے ہار چکا ہے۔ اگر ہم یہاں بات کریں پاکستان اور انگلینڈ کی تو دونوں ہی جیت کے نشے میں ہیں۔ انگلینڈ نے رواں سال ہونے والی ایشیز 2-3 سے جیت کر ورلڈکلاس ٹیم کو دن میں تارے دکھادیے جو انگلینڈ کے کپتان کے لیے بہت ہی بڑا اعزاز ہے۔ دوسری طرف پاکستان بھی اپنے نئے ابھرتے ہوئے باصلاحیت کھلاڑیوں پر اعتماد کرتے ہوے جیت کا عزم رکھتی ہے۔ اس سریز سے قبل پاکستان نے سری لنکا کے خلاف کھیلے جانے والی ٹیسٹ سریز میں 2- 1سے فتح حاصل کی، ایک روزہ میچز کی سریز میں 2-3سے اور ٹی 20 سریز میں 2-0سے فتح حاصل کی اور اسکے بعد زمباوے کے خلاف تین ایک روزہ میچز اور دو ٹی 20میچز پر مشتمل مختصر سریز میں فتح حاصل کرچکی ہے جس میں پاکستان کے نئے کھلاڑیوں نے بھرپور پرفارمنس دی ہے جسکی بنا پر پاکستان بہت پراعتماد نظرآرہا ہے۔پاکستان اس سے قبل 2012 میں انگلینڈ کو 3ٹیسٹ میچز کی سریز میں وائٹ واش کرچکا ہے جس کا زکر انگلینڈ کے کپتان ایلیسٹر کوک نے ابوظہبی پہنچنے کے بعد اپنی پریس کانفرنس میں بھی کیا تھا ایلسٹر کوک کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم 2012کی غلطیوں کو اس دورے پر نہیں دوہراے گی۔اس بار پاکستان کے پاس سعید اجمل یا عبدالرحمان تو نہیں مگر ابھرتے ہوئے نئے نوجوان باولرز ضرور ہیں جو کبھی بھی انگلینڈ بیٹسمینوں کو چکما دے کر آوٹ کرسکتے ہیں۔ دیکھا جاے تو دونوں ہی ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔ پاکستان کی ٹیم کی قیادت ٹیسٹ میچز میں مصباح الحق ، ون ڈے میں اظہر علی اور ٹی 20 میں شاہد خان آفریدی کے سپرد ہوگی۔ اینگلینڈ کی قیادت ٹیسٹ میچز میں ایلسٹر کوک ، ون ڈے اور ٹی20 میں ائن مورگن کے سپرد ہوگی۔

This Blog also Published on Ary news :

Check link اکتوبرکرکٹ مداحوں کے لیے بہت کچھ لایا ہے

http://arynews.asia/1LfzXsS

CQpWidjVEAAIRMl

انگلینڈ اور پاکستان ، ساوتھ افریقہ اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والے میچز کرکٹ مداحوں کو بہت لطف دینے والے ہیں بہت سے ریکارڈز بنےگے اور بہت سے ٹوٹے گے اور اسی کا نام کرکٹ ہے۔ تمام ٹیمیں کسی بھی ٹیم سے کم نہیں اور کرکٹ ایسا کھیل ہے جس میں کوئی بھی ٹیم کسی بھی ٹیم کو مات دے سکتی ہے کسی بھی ٹیم کو ہرانا ناممکن نہیں۔ یاد رکھیں ہمیں اپنی ٹیم کو ضرور سپورٹ کرنا چاہیے مگر اپنی فیوریٹ ٹیم کی شکست پر دلبرداشتہ ہونے کے بجاے اچھی کرکٹ کی تعریف کرنی چاہیے کیونکہ جیت اسی ٹیم کی ہوتی ہے جو ٹیم زیادہ محنت کرتی ہے۔

Advertisements