حق کی آواز ہے الطاف                                                         

تاریخ عالم کے مفکر کا قول ہے کہ تاریخ کے نازک مراحل اور فیصلہ کن لمحات میں ایک غالب آجانے والی شخصیت کا ظہور حالات کے رخ کو برسوں اور نسلوں کے لیے بدل دیتا ہے . اس قول کی صداقت ہمیں مہاجروں کی قابل رحم اور مایوسی و ناامیدی کی صورتحال میں الطاف حسین کی شخصیت کے ظہور میں دکھای دیتی ہے. منتشر تھے تو ‘مکڑ , تلیر ,پناہ گیر کے طور پر جانے جاتے تھے اور اسکی آواز پر متحد ہوے تو مہاجر قوم بن گےئ .
الطاف حسین وہ واحد شخصیت ہے جو اپنے مخلص کردار , سحر انگیز شخصیت , پرعزم جدوجہد, اپنے مشن میں چٹان کی طرح اٹل , اور انکے ویڑن نے انھیں لیونگ لیجنڈ بنادیا ہے .
جناب الطاف حسین نے مظلوم محکوم عوام کے حقوق کے لیے اپنی آواز اس وقت بلند کی جب وہ اپنی طالب علمی کے دور سے گزر رہے تھے . مہاجروں کے درد کو محسوس کرتے ہوے اور احساس محرومی کا احساس کرکے مہاجروں کو اپنی آواز اٹھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم دیا 11 جون 1978 کو جامعہ کراچی میں اے پی ایم ایس او طلبہ تنظیم کی بنیاد رکھی اور طلبہ کے جایز حقوق کے لیے باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا مگر باطل قوتیں نہیں چاہتی تھیں کہ غریب طلبہ کی آواز انکے کانوں تک پہنچے اسی لیے انھوں نے اپنی بغل بچہ جماعتوں کی طلبہ تنظیموں کے تھنڈر اسکوا ڈکا سہارا لیا تصادم کی صورتحال پیدا کی اور پھر اسکا ملبہ اے پی ایم ایس ا و اور الطاف حسین پر ڈال کر انکے لیے جامعہ کراچی کے دروازے بند کردیے
جناب الطاف حسین نے باطل قوتوں کے آگے جھکنے سے زیادہ اپنے پیغام کو عام کرنے کو ترجیح دی اور جب الطاف حسین اور اے پی ایم ایس او کے طلبہ کے لیے تعلیمی اداروں کے دروازے بند کردیے گےئ تو انھوں نے اپنے پیغام کو گلی کوچوں تک پھیلانا شروع کردیا . دیکھتے ہی دیکھتے الطاف حسین کا پیغام جنگل میں اگ کی طرح پھیلتا گیا اور لوگ جوق در جوق جمع ہونا شروع ہوے اور پھر الطاف حسین کی دن رات کاشوں کے بعد وہ دن بھی آگیا جب ایک طلبہ تنظیم سے ایک سیاسی جماعت و تحریک کا قیام عمل میں آیا. 18 مارچ 1984 کو الطاف حسین صاحب نے طلبہ تنظیم کے بعد سیاسی جماعت مہاجر قومی موومینٹ کے قیام کا اعلان کیا
مہاجر قومی موومینٹ کے قیام کے بعد اسٹیبلشمینٹ کی پیدا کردہ سیاسی و مزہبی جماعتوں اور جاگیر داروں سرمایہ داروں کی نیندین اڑ گئیں کیونکہ کبھی کسی نے نہیں سوچا تھا کہ مہاجروں کے حقوق کے لیے کوی آواز اٹھاے گا
الطاف حسین صاحب نے جب حقوق سے محروم عوام کے حقوق کے لیے بات کی تو یہ بات 2 فیصد مراعات یافتہ طبقے اور 32 خاندانوں کو ناگوار گزری اور جب سے جو ایم کیو ایم کے خلاف سازشوں کے جال بچھنا شروع ہوے ہیں وہ آج بھی جاری ہیں
ایم کیو ایم نے پہلی بار 1987 کے بلدیاتی انتیخابات میں حصہ لیا جس کے نتیجے میں کراچی و حیدرآباد سے ایم کیو ایم کے حق پرست امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوے اور مئیرز بھی منتخب ہوے.
ایم کیو ایم نے اپنے 1988 کے انتیخابات میں بھی بھرپور کامیابی حاصل کی جس سے اسٹیبلشمینٹ کے حلقوں میں ہلچل پیدا ہوگیئ اور یہ بات کسی کو آج تک ہضم نہیں ہوی کہ بنا اسٹیبلشمینٹ کی مدد سے کوی کیسے اتنی بڑی جماعت بناسکتا ہے .
الطاف حسین کا پیغام حق و سچ کا پیغام تھا جسے روکنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی . ایم کیو ایم , الطاف حسین کے پیغام کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہر دور میں مہاجروں کا خون بہایا گیا سانحہ سہراب گوٹھ , سانحہ قصبہ عالیگڑھ کالونی 1986 , سانحہ پکا قلعہ 30 ستمبر 1988, سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد 1900, یہ وہ تاریخیں ہیں جس میں ہزاروں بے گناہ مہاجر روند دیے گےئ .جناب الطاف حسین نے ہمیشہ اپنے کارکنان کو حق پر ڈٹے رہنے, ثابت قدم , اور پرامن رہنے کا درس دیا اور اس پر ہمیشہ عمل کرنے کی تلقین کی. ایم کیو ایم کے کارکنان اور الطاف حسین کے کاروان کو ظلم و بربریت سے روکنے میں ناکام ہوے تو پیسے کی چمک سے خریدنا چاہا مگر دنیا میں ہر چیز بکاو نہیں ہوتی .
الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی جدوجہد سے خوف زدہ لوگوں نے پیسے کی چمک سے خریدنے کی کوشش کی مگر الطاف حسین صاحب نے پیسوں سے بھرے بریف کیس کو ٹھوکر ماردی مگر اپنی قوم کے مستقبل کا سودا نہ کیا یہ ہی وجہ ہے کہ آج بھی الطاف حسین صاحب کو پاکستان کے چند حلقوں میں پسند نہیں کیا جاتا کیونکہ اس قائد نے انکی بھیجی رقم کو اپنی قوم کے لیے ٹھوکر ماردی تھی جس کے بعد ایم کیو ایم اور الطاف حسین صاحب کو مزید مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا اور ایسے حالات پیدا کردیے کہ ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین کا پاکستان میں رہنا خطرے سے خالی نہیں رہا , جسکی بنیاد پر ایم کیو ایم کے کارکنان و زمہ داران نے جناب الطاف حسین کی جلاوطنی کا فیصلہ کیا.ایم کیو ایم کے قاید کے بیرون ملک جانے کے چند ہفتے یا ایک ماہ بعد 19 جون 1992 کو جرایم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کی آڑ میں ریاستی جبر کی وہ داستان رقم کی کہ جس کی مثال پاکستان کی 67 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی.ہزاروں مہاجروں کو ریاستی تشدد سے شہید کردیا گیا, کارکنان ریاستی آپریشن کے دوران بھی تحریک کے لیے کام کرتے رہے اور ہر ظلم برداشت کرتے رہے اور وہ صبر و برداشت کا مظاہرہ کیا کہ باطل قوتوں کے حوصلے پست کردیے.چند استحصالی قوتوں کا خیال تھا کہ ایم کیو ایم کے قاید کی غیر موجودگی میں کارکنان و ہمدرد کا خون بہا کر وہ اس تحریک کو ختم کردینگے مگر حقیقت میں اسکے برعکس ہی ہوا اور ایم کیو ایم ریاستی جبر و تشدد کے باوجود پھیلتی گیئ . مہاجروں پر بے بنیاد من گھڑت ملک دشمنی , جناح پور کے نقشے و دیگر الزامات لگاے گےئ اور بے گناہ مہاجروں کو ماوراے عدالت قتل کیا گیا . ایم کیو ایم کے کارکنان نے جناب الطاف حسین کی تعلیمات کے مطابق ریاست کا ہر ظلم سہہ اور ثابت قدم رہے اور تحریک کے مشن و مقصد کو آگے پھیلاتے رہے .
الطاف حسین ہزاروں میل دور رہنے کے باوجود بھی اپنی قوم کے مستقبل کے لیے پریشان رہتے اور مشکل کٹھن حالات کے باوجود جیسے تیسے کرکے اپنا پیغام لندن سے پاکستان پہنچادیا کرتے تھے کیونکہ تحریک کے پاس نہ تو اتنے وسایل تھے اور نہ اتنا جدید دور تھا کہ باآسانی کسی سے رابطہ ہوجاتا . ایم کیو ایم کے کارکنان اپنے قاید سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتے ہیں اور اپنے قاید کو ہی اپنی تحریک کا درجہ دیتے ہیں . الطاف حسین صاحب نے پاکستان میں رہ کر اپنی تحریک کے کارکنان کو جو درس دیا اور جو نظم و ضبط دیا اسکی ہی بدولت آج ایم کیو ایم وہ مقام حاصل ہے جو پاکستان میں کسی جماعت کو حاصل نہیں .جناب الطاف حسین نے لندن میں رہ کر بھی اپنے کارکنان کی تربیت کا عمل جاری رکھا اور اجتماعات سے خطاب کرکے نوجوان کارکنان کو آنے والے مشکل حالات سے آگاہ کرتے رہے اور یوں برسوں سے اپنے کارکنان سے آج بھی رابطے میں ہیں.
الطاف حسین کا فکر و فلسفہ جب پورے پاکستان میں پھیلنے لگا اور جب دوسرے صوبوں کے عوام بھی حق پرستی کے پیغام کو اپنانے لگے اور جب الطاف حسین بھای نے دیکھا کہ مظلوم محکوم عوام کا پورے پاکستان میں کوی پرسان حال نہیں اس کے پیش نظر پاکستان کے تمام صوبوں کے مظلوم محکوم عوام کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا اور 25 جولای 1997 کو ایم کیو ایم کے قاید جناب الطاف حسین نے کارکنان سے خطاب کے دوران مہاجر قومی موومینٹ کو متحدہ قومی موومینٹ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد ایم کیو ایم پورے پاکستان کی نمایندہ جماعت کے طور پر ابھرنے لگی. جس طرح 2002 سے 2007 کے درمیان کراچی و حیدرآباد میں جو ترقیاتی کام ہوے وہ الطاف حسین کی تعلیمات اور ہدایت ہی کا نتیجہ تھا جس میں جناب الطاف حسین نے دن رات جاگ کر پروجیکٹس کے حوالے سے فولو اپ لیا اور ایم این ایز , ایم پی ایز اور ناظمین کو عوام کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی ہدایات دیں.
جناب الطاف حسین اپنی جلاوطنی میں بھی پاکستان کی عوام کے بہتر مستقبل کے لیے کوشاں ہیں .لطاف حسین کی عوام اور پاکستان سے محبت کا اندازہ کوی نہیں لگا سکتا . جناب الطاف حسین پچھلے 23 برسوں سے جلاوطن ہیں اور اسکے باوجود ایک تحریک کو اتنے منظم انداز میں چلانا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے. ایم کیو ایم پاکستان کی چوتھی اور سندھ کی دوسری بڑی جماعت ہے جس میں ایم کیو ایم کے 52 ایم پی ایز, 8 سینیٹرز, 25 ایم این ایز شامل ہیں.
پاکستان میں اگر کوی منظم جماعت ہے تو وہ صرف متحدہ قومی موومینٹ ہے اور اسکا سہرا صرف و صرف متحدہ کے قائد کو جاتا ہے جو تمام چیزوں کو بہتر انداز میں مینیج کررہے ہیں.
متحدہ قومی موومینٹ پاکستان کی وہ واحد جماعت ہے جو اپنے اسٹریکچر میں نظم و ضبط کی وجہ سے جانی جاتی ہے اور اس میں خاصہ مشہور ہے.الطاف حسین نے کارکنان کو بھای چارے اور محبت کا درس دیا جس کی مثال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کا ایک کارکن دوسرے کارکن کو نام کے ساتھ بھای لگا کر مخاطب کرتا ہے ماوں بہنوں کی عزت , بڑے چھوٹے کا احترام , بھای چارہ , یہ سب الطاف حسین کی وہ تعلیمات ہیں جو انھوں نے پاکستان میں رہ کر اور پھر اپنی جلاوطنی کے بعد اپنے ٹیلی فونک خطاب اور فکر نشستوں میں اپنے کارکنان کو دیں.الطاف حسین کا اپنے کارکنان سے دل کا رشتہ ہے جو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا سننے میں یہ بہت سے لوگوں کو عجیب لگتا ہوگا مگر یہ ہی حقیقت ہے جو کبھی جھٹلای نہیں جاسکتی.
جناب الطاف حسین کی مصروفیات کسی سی ڈھکی چھپی نہیں. جناب الطاف حسین کی انتھک محنت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ایم کیو ایم کا پیغام پورے پاکستان میں پھیل رہا ہے.
جناب الطاف حسین لندن میں رہ کر جس طرح تحریک کے مشن و مقصد کو لیکر آگے بڑھ رہے ہیں اس سے باطل قوتیں مزید خوف میں مبتلا ہیں کیونکہ نہ وہ الطاف حسین کو کارکنان سے علیحدہ کرنے میں کامیاب ہوسکی اور نہ ہی ایم کیو ایم کو پاکستان میں پھیلنے سے روک پارہی ہیں.
باطل قوتیں آج بھی الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف سازشوں کے جال بن رہی ہیں کراچی میں جرایم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کی آڑ میں اردو بولنے والوں کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے. ایم کیو ایم کے کارکنان کا ماوراےئ عدالت قتل کیا جارہا ہے.الطاف حسین حق کی آواز ہے جسے نہ کوی دبا سکتا ہے اور نہ کوی چھپا سکتا ہے.ہر عہد میں , ہر دور کے حکمرانوں نے کوشش کی کہ الطاف حسین کے نظریے, فکر و فلسفہ کو مٹادیا جاے مگر تاریخ نے انکو مٹادیا مگر نظریہ الطاف آج بھی زندہ ہے اور پروان چڑ رہا ہے اور یوں حق کا کارواں اگے سفر کرتا جارہا ہے. باطل قوتیں چاہیں کتنے ہی ظلم و ستم ڈھا لیں آخر میں جیت حق کی ہی ہونی ہے کیونکہ حق آنے کو ہے اور باطل مٹ جانے کو ہے

Advertisements