الزامات نہیں ثبوت دیجیے

پاکستان انگریزوں سے آزادی تو حاصل کرچکا مگر آج بھی پاکستان میں عوام اپنی حقیقی آزادی سے محروم ہیں .   آزادی کے نام پر ہجرت کرکے آنے والوں کو یہاں بھی اپنے حق سے محروم رکھا جانے لگا جن میں اردو بولنے والے مہاجر و ں اور , بنگالیوں کی اکثریت شامل تھی.  ہجرت کے چند سال میں ہی پاکستان میں لسانیت کی بنیاد پر نہ جانے کتنا خون بہا وہ بھی بانیان پاکستان کی قربانیوں میں شامل ہے جسے کوی فراموش نہیں کرسکتا

CLWzVocUkAAoqEG.png thumb.
ابھی پاکستان کی آزادی کو 17 سال ہی گزرے تھے کہ کراچی میں لسانیت کی بنیاد پر کتنے ہی مہاجروں کو قتل کردیا گیا جس کی وجہ تھی 3 جنوری 1965کے صدارتی انتیخابات . ا نتیخابات میں کامیابی پر اس وقت کے نومنتخب صدر ایوب خان کے حق میں جنرل ایوب خان کے بیٹے کی قیادت میں ریلی نکالی گئی اور کھلے عام ‘ شہریوں’کو قتل کردیا گیا صرف اس لیے کہ کراچی میں رہنے والوں نے اس صدارتی انتیخابات میں بانی پاکستان کی بہن مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ووٹ دیا اور جنرل ایوب کو کراچی کی عوام نے مسترد کردیا تھا . محترمہ فاطمہ جناح کو 1965کے صدارتی انتیخابات کے بعد بہت سے بہتان کا سامنا کرنا پڑا ہیاں تک جنرل ایوب خان نے بانی پاکستان قائداعظم کی بہن ,پاکستان کے قیام میں جدوجہد کرنے والی خاتون مادرملت کو بھارت کی خفیہ ایجنسی “را”کا ایجینٹ قرار دے دیے گیا اور اس طرح پاکستان بنانے والوں کی تزلیل کی گئی. اور جب دیکھتے ہی دیکھتے بنگالیوں کی احساس محرومی بڑھتی گئی تو انھوں نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھادی اور چند مفاد پرست ٹولے نے معاہدہ کرکے پاکستان کو دولخت کردیا اور آج تک اس کے صحیح اسباب کسی کو نہ ہی معلوم ہیں اور نہ ہی کوی جاننا چاہتا ہے کہ آخری کن وجوہات کی بنا پر بنگلہ دیش وجود میں آیا ..
بنگالیوں نے الگ ملک بنا لیا مگر پاکستان کے قیام کے لیے بیش بہا قربانیاں دینے والے اردو بولنے والے مہاجروں نے آج تک وہ مقام حاصل نہیں کیا جس کا وہ حق رکھتے ہیں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سب کے ظلموں زیادتی کی توپیں اردو بولنے والوں کی جانب موڑ دی گئیں اور جو ملک دشمن غداری کا طعنہ مادرملت محترمہ فاطمہ جناح پر لگایا گیا تھا وہی طعنہ مہاجروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے الطاف حسین پر 1990 -92میں بھی لگایا گیا تھا اور اب 2015 میں ایک بار پھر اسکی بازگشت سنای دے رہی ہے . 70ئ کی دہای میں مادرملت پر ملک دشمن و غدار اور ایجینٹ قرار دینے والوں کی اولادیں آج ایک بار پھر بانیان پاکستان کی اولاد پر ملک دشمن اور غداری جیسے القابات سے نواز رہی ہیں جو ایک بہت برا عمل ہے.
اب سیاستدانوں کو ان ہتھکنڈوں سے باہر آنا چاہیے کیونکہ پاکستان کے قیام سے لیکر آج تک جتنے حب الوطنی اور غدار کے سرٹیفیکٹ پاکستان میں بانٹے جاتے رہے ہیں شاید ہی کسی اور ملک میں ایسا ہوتا ہوگا.
اصولی بات تو یہ ہے کہ اگر کسی جماعت ,گروہ ,یا فرد کے خلاف ملک دشمنی یا غداری کا کوءٹھوس ثبوت ہے تو اسے پہلے عدالت میں ثابت کیا جاے نہ کے اس فرد یا جماعت کی مقدمے سے پہلے یا کوی جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی اسے عوام میں مجرم ثابت کردینا چاہیے .. عدالت سے پہلے کسی کو .جرم کہہ دینا .. ایسا کسی مقبوضہ شہر یا ملک یا کسی جنگل میں تو ہوسکتا ہے مگر آزاد ریاستوں میں ایسا ممکن نہیں .
متحدہ اور الطاف حسین صاحب پر 92میں بھی ملک دشمنی اور جناح پور کے نقشے کے الزامات لگاے گئے اس دوران ایم کیو ایم کو حکومتوں شامل ہونے کی دعوتیں بھی جاتی رہی ایک طرف ایم کیو ایم کو ملک دشمن جماعت بھی قرار دیا جاتا رہا اور ایک طرف حکومتیں بنانے میں مدد بھی لیتے رہے اور ساتھ ساتھ خوب عوام میں بدنام بھی کیا جاتا رہا مگر 2009 تک کچھ ثابت نہ کرپاے اور کی سالوں کے میڈیا ٹرائل کے بعد پتا چلا کہ وہ سب ڈھونگ تھا کوی جناح پور کا نقشہ کسی نے دیکھا  ہی نہ  تھا اور سب سنی سنای باتیں تھی جس کی پاداش میں کتنے ہی اردو بولنے والوں کو ماوراےئ عدالت قتل کردیا گیا آن گنت سانحات پیش آے ..خیر جانے دیجیے اللہ انصاف کرنے والا ہے بس اس سے ثابت ہوا کہ سچ کبھی چھپتا نہیں ..
ماضی میں الطاف حسین پر ملک دشمنی کا الزام لگانے والے ایک بار پھر الطاف حسین اور انکی جماعت کے لیے غداری کے سرٹیفیکٹ بانٹ رہے ہیں اور اب یہ عالم ہے کہ الطاف حسین کی تقاریر کی براہ راست نشریات پر پابندی کے بعد اب انکی اس تقاریر پر بھی پابندی کے حوالے سے غور کیا جارہا ہے جو وہ اپنے کارکنان سے کیا کرتے ہیں .الطاف حسین گزشتہ 23 برسوں سے جلاوطن ہیں اس کے باوجود انکے خلاف مقدمات بناے جارہے ہیں ایف آی آرز کاٹی جارہی ہیں اور پاکستان بنانے والوں کو ملک سے محبت کے درس دیے جارہے ہیں.اگر کسی کے خلاف ملک دشمنی کا ثبوت ہے تو عدالتوں میں ثابت کیا جاے نہ کہ ٹاک شوز میں اینکرز کی عدالتیں سجای جائیں .
یہ ایک ایسا مزاق پاکستان کے عوام کے ساتھ ہورہا ہے جس کا اندازہ شاید کسی پاکستانی کو نہیں ہوگا جو جرم سرزد ہوا ہی نہیں اسکی ایف آی آرز کاٹ دی گئیں کیا یہ کٹنے والی ایف آی آرز کی کوءآئینی و قانونی حیثیت ہے ؟

کیا کوی قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اس جرم کی ایف آی آر کاٹ دی جاے جو سرزد ہی نہ ہوا ہو ؟

کیا مادرملت محترمہ فاطمہ جناح پر “را” کے ایجینٹ کا الزام لگانے والوں کے خلاف کوءمزمتی قرارداد یا کوی ایف آی آر کاٹی گئی ؟اگر نہیں تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جاے کہ وہ الزام صحیح تھا ؟
 
80,90ئ کی دہای میں ہونے والے المناک سانحات میں ہونے والی شہادتوں کے لیے کتنے لوگوں اور صوبوں نے آواز اٹھای ؟
آج اس شخص پر غداری کا مقدمہ بنایا جارہا ہے اور عوام میں بدنام کیا جارہا ہے جس نے ملک کی افواج کے لیے مختلیف ادوار میں ریلیاں نکالی , روزے کی حالت میں تپتی دھوپ اور کھلے آسمان تلے دس لاکھ افراد کی ریلی کا انعقاد اور پاک فوج کو دہشت گردوں کے خلاف لڑنے پر سلوٹ کیا, کیا کوی را کا ایجینٹ یا ملک دشمن ملک کے دفاع میں شہید ہونے والے شہدائ کو خراج عقیدت پیش کرسکتا ہے ؟, الطاف حسین صاحب نے ملکی حالات کے پیش نظر ملک و قوم کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عزم کا اظہار کیا , جس شخص نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف میلی نگاہ ڈالنے والوں کو للکارا اور دہشت گردوں کے خلاف کھل کر آواز بلند کی,کیا کوی ایسا شخص ملک دشمنی جیسے گھناونی جرم کا مرتکب ہوسکتا ہے ؟
پاکستان میں آج تک ان لوگوں کو ملک دشمن قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی کسی محب وطن شہری نے پورے ملک میں کہیں ان لوگوں کے خلاف ایف آی آرز کٹوای جنھوں نے ملک کو دو لخت کرنے میں اپنا کردار ادا کیا.کوی یہ بات نہیں کرتا کہ کن وجوہات کی بنا پر بنگلہ دیش وجود میں آیا ؟
آج الطاف حسین صاحب پر ملک دشمنی جیسے الزامات اور مقدمات سمجھ سے باہر ہیں کہ ایک ایسی جماعت کا قائد جس کے 25 ایم این ایز ,52ایم پی ایز, اور 8 سینیٹرز ہوں .
ایم کیو ایم کے سیاسی مخالفین کو اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے .
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب دہشت گردوں کے خلاف افواج پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا اس وقت الطاف حسین کی جماعت ایم کیو ایم واحد جماعت تھی جس نے پاک فوج کو بھر پور سپورٹ کیا.
تحریک انصاف , جماعت اسلامی اور پاکستان مسلم لیگ نواز نے ہر طرح سے پاکستان کے دشمنوں دہشت گردوں کو راہ فرار کا موقع فراہم کیا انکے لیے نرم گوشہ اختیار کیا مگر اس وقت کسی کی حب الوطنی نہیں جاگی اور تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان صاحب آج بھی پاکستان کے معصوم 50,000 عام شہریوں, پاک افواج کو شہید کرنے والے دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں , کیا یہ ملک سے غداری کے ضمرے میں نہیں آتا ؟
عمران خان صاحب نے اپنی جماعت کی میٹینگ میں غیر مہزب الفاظ استعمال کیے مگر اس وقت بھی تمام محب وطنوں کو انکے الفاظ سنای نہ دیے .
خواجہ آصف موجودہ وفاقی وزیر نے اسمبلی کے فلور پر بیہدا الفاظ استعمال کیے مگر انھیں کسے نے غداری کا مرتکب نہیں سمجھا .. کیوں ؟

پاکستان میں اب غداری اور ملک دشمنی کے سرٹیفیکٹ بٹنا بند ہونا چاہیے اس وقت پاکستان کو یکجہتی کی ضرورت ہے. پاکستان میں نفرت اور تعصب کی سیاست کو ختم ہونا چاہیے تاکہ عوام میں محبتوں کو فروغ ملے.
پاکستان میں بسنے والی تمام قومیں خواہ وہ کوی بھی ہو اسے پاکستان کا برابر کا شہری سمجھا جاے ناکہ تیسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیا جاے , پاکستان میں سب کو یکساں حقوق ملیں تاکہ حقوق سے محروم عوام کی احساس محرومی ختم کی جاسکے . پاکستان کے سیاستدانوں کو سقوط ڈھاکہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ آج بنگلہ دیش پاکستان سے زیادہ تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور ہم آج تک غداری اور ملک دشمن یا را کے ایجینٹ جیسے الزامات میں الجھے ہوے ہیں.
طلبائ ,اساتزہ کرام ,کالم نگار , تجزیہ نگار تحقیق کیجیے اور حق وسچ بیان کیجیے کہ ملک دشمن کون ؟ وہ جس نے پاک افواج کے حق میں ریلیاں نکالیں , جس نے ملک کے دشمن دہشت گردوں کے خلاف بھر پور آواز بلند کی , جو ہر مشکل میں عام عوام کی خدمت میں مصروف رہا چاہے 2005 – یا 2008 کا قیامت خیز زلزلہ ہو یا کوی سیلاب ہو یا کوی اور قدرتی آفات   کے کے ایف نے الطاف حسین کی ہدایات پر من و عن عمل کیا مصیبت زدہ عوام کی خدمت کی , کیا کوی کوی ملک دشمن ایسا کرسکتا ہے ؟
اب ہمیں سوچنا ہوگا کہ ملک کا دشمن کون ؟
 وہ جو کھلے عام طالبان دہشت گردوں کی حمایت کرے , پاک فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والے دہشت گردوں کو شہید قرار دے انکے لیے دعائیں کرے ؟ یا ملک کا غدار وہ جو 50,000 عام معصوم شہریوں اور پاک فوج کے نوجونوں کے شہید کرنے والوں سے مزاکرات کی بات کرے ؟

Advertisements