یہاں انصاف اور حقوق صرف زبان کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں

پاکستان کی تاریخ اتنی پرانی و دھندلی بھی نہیں کہ ہمیں کچھ یاد ہی نہیں رہے. پاکستان میں ریاست نے عوام کے ساتھ ایسے مزاق کیے ہیں کہ آج تک ہم اسی مزاق میں کہیں گم ہوگے ہیں .جناب آپ کو میری سمجھ نہیں آرہی ہوگی کہ آخر میں کہنا کیا چاہتا ہوں مگر آپکو میری اس تحریر کے عنوان سے اشارہ تو مل گیا ہوگا میں کیا کہنا چاہتا ہوں جناب یہ ایک ایسا عنوان ہے جسے اکثریتی لوگ قبول کرنے سے انکار کرینگے مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں صوبای زبانوں کو قومی زبان پر فوقیت حاصل ہے. پاکستان میں انصاف سچ و جھوٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ زبان کی بنیاد پر ملتا ہے جیسے خیبر پختونخواہ میں پختونوں کے لیے قانون کچھ ہے اور دوسروں کے لیے کچھ , اسی طرح پنجاب میں پنجابی بولنے والوں کے لیے الگ قانون ہے اور دیگر زبانوں کے لیے کچھ اور ہے.اگر میں یہاں بات کروں سندھ کی تو یہاں تو کوی قانون ہی نہیں یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ کراچی میں کس طرح کا آپریشن جاری ہے جہاں عام کراچی کے شہریوں کو آپریشن کی آڑ میں پریشان کیا جارہا ہے اور اسی شہر کراچی میں دہشت گرد دندناتے پھررہے ہیں . ہم نے اور پوری دنیا نے دیکھا کہ کراچی رینجرز نے 11 مارچ کس طرح سے ایک سیاسی جماعت کے دفتر پر چھاپہ مارا اور بھاری اسلحہ برآمد ہونے کا دعوی کیا اور اسے میڈیا  کے سامنے بھی پیش کیا گیا اور اس چھاپہ کے دوران رینجرز کی موجودگی اور رینجرز کے سامنے ہی ایک سیاسی جماعت کے کارکن کو شہید کردیا جاتا ہے مگر قانون کے رکھوالے اس قتل پر آج تک خاموش ہیں اور نہ کوی ان سے سوال کرتا ہے کہ 11 مارچ کو ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپے کے بعد اسی مقام پر قانون نافز کرنے والے ادارے کے سامنے متحدہ کے فعل کارکن سید وقاص علی شاہ کی شہادت کا زمہ دار کون ہے اور اسکی تفتیش کہاں تک پہنچی ؟
جناب اس سے پہلے ہم نے دیکھا کہ کراچی کے ایک معصوم شہری سرفراز شاہ کو رینجرز اہلکار نے کس طرح بے رحمی سے قتل کیا جو آج بھی ریکارڈ پر ہے. ایسے بہت سے کیسیز اور بھی ہیں جو ریکارڈ پر نہیں آسکے.
جناب میں یہاں سندھ میں ماضی کے تلخ حقایق آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں جس کے بعد آپ خود فیصلہ کیجیے گا . جناب 1964 کے صدارتی انتیخابات کے بعد کراچی کے ایسے علاقوں میں جشن کی آڑ میں بستیوں کی بستیاں اجاڑ ڈالی اس میں کس کی املاک جلی ؟ کس کی شہادتیں ہوی ؟ 1974 میں اردو زبان کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش کی گی جس کے بعد اردو زبان کے حق میں مظاہرے کیے گیے اور اس مظاہرے کے شرکائ کو بے دردی سے شہید و زخمی کیا گیا.1986 میں سانحہ سہراب گوٹھ پیش آیا , پھر سانحہ قصبہ و عالیگڑھ کالونی , اور 1988 میں سانحہ پکا قلعہ حیدراباد اور 1992 کے فوجی آپریشن میں سینکڑوں اردو بولنے والے مہاجروں کو شہید کردیا گیا جسکا نہ کوی زکر کرتا ہے اور نہ شرمندگی کا اظہار کرتا ہے اس کے باوجود آج بھی کسی نہ کسی طرح مہاجر اردو بولنے والوں کا قتل عام جاری ہے , جنھیں آج تک پاکستان کی کسی عدالت نے انصاف فراہم نہیں کیا.
جناب یہ تھیں چند تلخ یادیں اگر تمام حقایق لکھنے بیٹھوں تو قلم کی سیاہی ختم ہوجاےگی مگر اردو بولنے والوں کے ساتھ ہونے والی نہ انصافیوں کی داستان ختم نہیں ہوگی. جناب یہاں بات ہے صوبای زبانوں کو قومی زبان مطلب اردو پر برتری کی.
پاکستان میں اگر آپ کہیں کسی ادارے سے الجھ جایںں اور آپ کا تعلق سندھی , پنجابی , پشتون یا بلوچی زبان سے ہے تو خیر کوی مسلہ نہیں کیوں کہ یہ سب قانون سے ماورائ ہیں .. مسلہ تو جب ہے جب کوی بانیان پاکستان کی اولادوں میں سے کوی اردو بولنے والا کسی ادارے سے الجھ جاے پھر تمام آئین کی شقیں اور قانون کی بالادستی اسی سے وابستہ ہوجاتی ہے .. کیوں کہ یہاں کسی کو مسلہ ہے تو صرف اردو بولنے والوں سے ہے ..
پاکستان میں پچھلے 67 سالوں سے اردو بولنے والوں کا استحصال کیا جارہا ہے. پاکستان کی قومی زبان اردو ہے مگر اسے آج تک پورے پاکستان میں کہیں صحیح طریقے سے لاگو ہی نہیں کیا گیا اور نہ ہی حکومتی سطح پر ایسا کوی اقدام کیاگیا جس سے اردو کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا جاسکے . اردو کو صرف کراچی و سندھ کے شہری علاقوں تک محدود کردیا گیا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ کراچی و شہری سندھ کے عوام کو دوہرے شہری کی طرح سلوک روا رکھا جاتا ہے کیونکہ وہاں کے لوگ قومی زبان کے وارث ہیں جن کے اجداد نے پاکستان کے لیے قربانیاں دی تھیں. جس زبان پر ہمیں قومی سطح فخر کرنا چاہیے تھا ہمارے حکمران اسی زبان کو اپنانے میں حقارت محسوس کرتے ہیں جو ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے اور ہماری تنزلی کی بھی بنیادی وجہ اپنی ثقافت کو نظر انداز کرنا ہے.
پاکستان میں اعلی عہدوں پر فایز متعصب لوگوں نے دوہرا نظام پروان چڑھاکر محرومیوں کو جنم دیا. پاکستان کی قومی زبان اردو ہونے کے باوجود اگر حکمران اپنے فولورز کو اپنی صوبای زبانوں ( سندھی , پنجابی , بلوچی , پشتون ) پر فخر کرنے کا پیغام دینگے تو ان کی فرمایش پر اعلی عہدوں پر بہٹھنے والے بھی اسی تناظر میں فیصلہ کرینگے , یہ ایک ایسی تلخ بات ہے جو نہ کوی بتانا چاہتا ہے اور نہ کوی سننا چاہتا ہے.
کراچی میں قانون نافز کرنے والے ادارے دعوی کرتے ہیں کہ انھوں نے اتنے ہزار دہشت گردوں کو پکڑا جنھیں عدالتوں نے رہا کردیا .. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاستی اداروں نے انھیں گرفتار کیا تو کسی ثبوت کی بنیاد پر کیا ہوگا تو پھر وہ ثبوت عدالتوں میں پیش کیوں نہ ہوے جسکی وجہ سے عدالتوں نے انھیں چھوڑ دیا ؟  کراچی میں ایم کیو ایم کے ان گنت کارکنان کو عدالت نے 90 روز کے لیے پی پی او کے تحت رینجرز کی استدعا پر انکے حوالے کردیا چلیے جی آپ منصف ہیں آپ کا فیصلہ تھا مان لیا سب نے . مگر ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکنان ماوراے عدالت قتل کردیے جاتے ہیں کوی آواز نہیں اٹھاتا اور نہ کوی زمہ داروں کاتعین کرتا ہے اور نہ کوی قانون حرکت میں آتا ہے.
گزشتہ 16 سال سے موت کے منتظر قیدی کو 16 سال قید کی سزا کے بعد اسکی پھانسی کو سنسنی خیز انکشاف سے اردو بولنے والوں کی واحد نمایندہ جماعت کو بدنام کیا گیا کوی قانون حرکت میں نہیں آیا .. چلیے جی اسے بھی جانے دیجیے پھر تمام سیاسی قیدیوں کو چھوڑ کر سب سے پہلے صولت مرزا کو پھانسی دے کر مثال سیٹ کی .. اور باقی قیدیوں کو بھی اسی طرح پھانسی دی جاے گی؟ سب جانتے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا صولت مرزا مہاجر تھا اسلیے تمام قانونی تقاضے پورے ہوے . اسے بھی جانے دیجیے 2012 میں کراچی کے علاقے لیاری میں اردو بولنے والوں کے شناختی کارڈ دیکھ دیکھ کر گلے کاٹے , انسانیت سوز تشدد کیا گیا کوی قانون حرکت میں نہیں آیا .. کراچی میں ایم کیو ایم کہ لاپتہ کارکنان کے خلاف عدالتوں میں پٹیشنز دائر ہویں مگر قانون حرکت میں نہیں آیا اور ان پٹیشنز کے جواب میں چند لاپتہ مہاجروں کی کراچی میں لاشیں ضرور ملی .. پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے ہمارے اہم ادارے کے لوگوں کے لیے بزدل کا لفظ استعمال کیا ,  چند ہفتے قبل پیپلزپارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے بہت بھرم سے کسی کی ” اینٹ سے اینٹ ” بجانے کی بات کی تھی مگر کسی کا نہ وقار مجروح ہوا اور نہ ہی کسی محب وطن نے کسی اسمبلی میں مزمتی قرار داد پیش کی اور نہ ہی کسی محب وطن پاکستانی نے آصف زرداری کے خلاف کوی ایف آی آر درج کروای , اور نہ ہی کسی کو انکی تقریر کے سہولت کار ہونے پر گرفتار کیا گیا بلکہ اس بیان کے بعد آصف علی زرداری صاحب کو محفوظ راستہ دے کر دبئ جانے دیا گیا
کیا یہ دوہرا معیار نہیں , پاکستان مسلم لیگ کے موجودہ وفاقی وزرائ پارلیمنٹ ہاوس میں ہمارے حساس اداروں کے لیے کیسی کیسی زبانیں استعمال کرچکے ہیں سب کے علم ہے کیا کبھی انکے خلاف کسی نے ایکشن لیا یا مزمتی قراردادیں پیش کیں ؟ نہیں کیں کیونکہ انکا تعلق بانیان پاکستان یا پھر اردو بولنے والوں میں سے نہیں .. مگر قانون اس وقت بڑی پھرتی سے فعال ہوگیا جب ایم کیو ایم کے قاید الطاف حسین نے ماضی کے چند تلخ حادثات و واقعات کو اپنے کارکنان سے خطاب کرتے ہوے دوہرایا اور اسکے بعد انکے لائیو خطابات نشر کرنے پر پابندی لگادی گئی . یہ دوہرا معیار نہیں , کوی اس پر بات کیوں نہیں کرتا ؟

متحدہ کے خلاف گھنٹوں گھنٹوں پروپیگنڈہ کرنے والے اینکر پرسنز اپنے ضمیر کو جھنجوڑ کر اپنے آپ سے ہی سوال کرلیں کہ کیا پاکستان میں اردو بولنے والوں کہ ساتھ زیادتی نہیں ہورہی ؟  جناب اسکی بھی کوی رپورٹ ترتیب دے کرقوم کو سچای و حقیقت سے آغاہ کیجیے جس کام سے آپ بٹھک چکے ہیں.
چلیے ان سب حقایق سے بھی نظریں چرا لیجیے کیا ہماری عدالتوں, ریاستی ادروں کو سندھ کے سابق وزیر داخلہ زولفقار مرزا نظر نہیں آرہے ؟ چند سال پہلے انھوں نے انکشاف کیا تھا کہ انھوں اپنی وزارت داخلہ سندھ کے عہدے پر رہتے ہوے اپنے لوگوں کو اسلحہ فراہم کیا اور 2 لاکھ اسلحہ لاسینس بھی جاری کیے جو ریکارڈ پر بھی موجود ہے. انکی سربراہی میں قتل و غارتگری کرنے والے کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے عزیر بلوچ نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس نے زولفقار مرزا و دیگر پیپلزپارٹی کے رہنماوں کے کہنے پر کراچی میں اردو بولنے والے ایم کیو ایم کے کارکنان کا قتل عام کیا … پھر بھی کوی قانون حرکت میں نہیں آیا اور نہ کوی میڈیا  ٹرایل کیا گیا پیپلز پارٹی کا اور یوں ہی ان حقایق کو دبادیا گیا . جناب یہاں ہم کس سے انصاف کی امید کرسکتے ہیں جہاں عدالتیں بھی اپنے آپ کو غیرجانبدار نہ رکھ پایئں ..
جناب اگر یہ کوی اردو بولنے والا ہوتا تو کیا اسکے ساتھ بھی عدالتیں ایسا سلوک کرتیں ؟ جناب جب بھی کوی قانون نافز ہوا ہے تو اس کا اطلاق کسی پر ہوا ہو یا نہیں ہوا ہو لیکن کراچی میں بسنے والے عام شہریوں پر ضرور ہوتا ہے .
جناب پورے پاکستان میں پانی کا کوی بحران نہیں مگر کراچی و حیدرآباد کی عوام پانی سے بھی محروم ہے. اگر سندھ کی بات کریں تو سکھر , نواب شاہ , لاڑکانہ میں پانی کا کوی بحران کیوں نہیں ؟بجلی , پانی , اور دیگر مسلے مسایل کا سب سے زیادہ اگر کسی کو سامنا ہے تو وہ کراچی کی عوام ہے جس کی اکثریت اردو بولنے والے مہاجروں کی ہے .. کراچی میں پانی کے بحران پر کوی سنجیدہ کیوں نہیں ؟
جناب یہاں انصاف اور حقوق صرف زبان کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں .. آپ مانیں یا نہ مانیں یہ ہی حقیقت ہے.
لسانیت کو پاکستان میں اگر کوی پروان چڑھا رہا ہے اور فروغ دے رہا ہے تو وہ ہیں ہمارے ادار ے بروقت ا نصاف نہ فراہم کرکے عوام میں احساس محرومی کو اس نہج تک لے جارہے جہاں انکے پاس اپنے حقوق حاصل کرنے کے اعلاوہ اور کوی راستہ نہ ہو, مگر یاد رکھیے جس دن عوام اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے اور نہ انصافیوں کے خلاف باہر آگی تو انجام بہت بیہانک ہوسکتا ہے . ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی علاقای زبانوں کو فروغ دینے کے بجاے مادری و قومی زبان کے قومی سطح پر فخریہ نافز کریں اگر اب بھی نہ انصافیوں اور محرومیوں کو ختم نہ کیا گیا تو حالات بہت برے نتایج بھی دے سکتے ہیں جس کا اندازہ ہمارے اداروں کو بھی ہونا چاہیے .

images

Advertisements