صحافت یا جہالت                                                                                            

   
صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جسے دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر افسوس کہ پاکستان کے صحافی آج تک وہ صحافت نہیں کرسکے جس کی وجہ سے صحافتی شعبے کی قدر کی جاتی ہے. صحافیوں کا کام عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے اور عام عوام تک حقائق پہنچانا ہے مگر ہمارے پاکستان کے صحافی شائد اپنے صحافتی فرائض سے لاعلم ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے فرائض پورے نہیں کرپارہے ہیں.
پاکستانی نیوز چینلز پر ٹاک شوز ترتیب دینے والوں کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ جسے وہ تجزیہ کار یا اینکر پرسن کے طور پر میزبانی کروارہے ہیں اس میں کوءاخلاقیات یا پھر صحافت کا احترام ہے یا نہیں ؟ فواد چوہدری صحافت نہیں جہالت کو فروغ دے رہے ہیں.
پاکستانی نیوز چینلز پر نشر ہونے والے ٹاک شوز دیکھنے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ جنرل پرویز مشرف کے اچھے دور میں عیش کرنے والے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دور اقتدار کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ایڈوائزر کے عہدے کا مزہ لوٹنے والے اپنی وفاداریاں تبدیل کرکے اب صحافت کے شعبے میں قدم رکھ چکے ہیں اور صحافتی شعبے میں بھی بے پیندی کا لوٹا معلوم ہوتے ہیں نام نہاد اینکر ،تجزیہ کار،صحافی فواد چوہدری جوکہ پہلے ایکسپریس نیوز کے ساتھ منسلک تھے پھر اےآر واءنیوز کے ساتھ منسلک ہوے اور اب کسی اور نیوز چینل پر دکھای دیتے ہیں.
پاکستان کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہاں ملازمت میں قابلیت ،اہلیت یا خصوصیت نہیں دیکھی جاتی بلکہ “پرچی یا سفارش “دیکھی جاتی ہے.
“جناب نام نہاد صحافی / تجزیہ کار فواد چوہدری کا شمار بھی ان سفارش اور پر چی والے لوگوں میں ہوتا ہے جو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں مگر کرتے صحافت ہیں
نام نہاد ،اینکرفواد چوہدری کے مختلیف چینلز پر تجزیے سنے اور انکی میزبانی کے ٹاک شوز دیکھے جس سے انکے دل میں موجود ایک خاص جماعت اور اس جماعت کے قائد سے تعصب کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے.
فواد چوہدری جو کچھ عرصے مشرف صاحب کے ترجمان رہے جب انھیں کہیں کسی سیاست دان میں کوی برای نظر نہیں آی ، نام نہاد تجزیہ کار کو اس وقت بھی کسی سیاست دان میں کوی برای نظر نہیں آی جب وہ پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل تھے . موصوف نام نہاد اینکر و تجزیہ کار کے ٹاک شوز دیکھ کر محسوس ہوا کہ فواد چوہدری صحافت نہیں جہالت کو فروغ دے رہے ہیں .

download
کیا نام نہاد اینکر ،تجزیہ کار کو صحافتی اخلاقیات،صحافتی اصولوں،صحافتی اداب کا علم ہے؟
جس طرح کی زبان آجکل فواد چوہدری پاکستان کے سیاست دانوں یا سیاسی جماعتوں کے لیڈرز یا ان کے قائد کے لیے استعمال کررہے ہیں کیا وہ کسی بھی تجزیہ کار یا اینکر کو زیب دیتا ہے؟ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے والے نام نہاد اینکر پرسن کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے.
پاکستان میں میڈیا کا کردار اسی وجہ سے سوالیہ نشان ہے کہ میڈیا کے حلقوں میں ایسے لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے جن لوگوں کی شخصیت پہلے ہی ایک سوال ہوتی ہے جیسے فواد چوہدری کو ہی لے لیجیے سمجھ نہیں آتا کہ فواد چوہدری کو نام نہاد اینکر ہی بننا تھا تو وکالت کے شعبے میں تعلیم کیوں حاصل کی ؟ اگر فواد چوہدری کو تجزیہ کار ہی بننا تھا تو سیاست میں حصہ کیوں لیا ؟ مخبری یا سیاسی جماعتوں کی جاسوسی کے لیے؟ جناب نام نہاد اینکر پرسنز اور نام نہاد تجزیہ کاروں کو چاہیے کہ مخصوص جماعت اور اس کے قائد کی کرداری کشی کے بجاے اپنے پروگرامز کے زریعے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں.
پاکستانی صحافی اگر اپنے دل میں موجود تعصب کو ختم کرکے غریب عوام کے مسائل اجاگر کرنے لگیں تو ملک کے بیشتر مسائل حل ہوجائیں مگر افسوس کوءایسا کرنے کو تیار نہیں.
پاکستان کے نوجوان طبقہ جو صحافت کے شعبے میں تعلیم حاصل کررہے ہیں انکو چاہیے کہ وہ کسی فواد چوہدری جیسے نام نہاد اینکر پرسن/تجزیہ نگار کو فولو نہ کریں جس کے پروفیشن کا ہی پتا نہیں کہ وہ وکیل ہے یا اینکرپرسن /صحافی. صحافتی شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبائ کو چاہیے کہ وہ صحافت کے حقیقی اصولوں کو اپنائیں تاکہ پاکستان کو فواد چوہدری جیسے بےضمیر صحافیوں سے چھٹکارا مل جاے

Advertisements