حقیقت بیان کجیے 

reality-sign

پاکستان بے شک آزاد مملکت ہے مگر اس کے باوجود پاکستان میں بسنے والے لوگوں کو سچ کہنے اور سننے کی آزادی نہیں. پاکستان کے قیام سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد رہ نما ہونے والے واقعات , حادثات ,اور انکے اسباب حقیقی طور پر کبھی عام عوام تک پہنچاے ہی نہیں گئے جس کی بنیادی وجہ پاکستان کا ناقص تعلیمی معیار اور ہمارے باشعور لوگوں کا لاعلم ہونا.
پاکستان کے تعلیمی اداروں,اسکولز, کالجز و دیگر تعلیمی اداروں میں طلبہ کو حقیقی تاریخ پڑھای ہی نہیں جاتی یہ ہی وجہ ہے کہ جب وہ حقیقت سے محروم طالبعلم تعلیم مکمل کرنے کے بعد کسی ادارے کے اہم منصب یا اہم زمہ داری پر فرائض انجام دیگا تو وہ اپنے اس اہم زمہ داری پر بھی ان باتوں کو ہی آگے بڑھاے گا جس کا اس کو علم ہوگا جس کی مثال کچھ یوں لے لیجیے کہ اینکر پرسنز , صحافی , کالم نگار, تجزیہ نگار و دیگر کو ہم نے ہمیشہ یہ لکھتے اور کہتے سنا ہے کہ 1980 کے بعد کراچی و سندھ میں تشدد , ظلم و زیادتی , تعصب کی بنیاد رکھی گئی اس سے پہلے کراچی میں کوءتشدد , کوءظلم و زیادتی , تعصب نہیں تھا وہ لوگ اپنی لاعلمی کے عالم میں نہ صرف نئی نسل کو حقائق سے لاعلم رکھ رہے بلکہ وہ تاریخی قربانیوں کو فراموش کررہے ہیں یاد رکھیے جو قومیں اپنی تاریخ بھلادیتی ہیں تو ان قوموں کو تاریخ بھی بھلادیتی ہے .
جناب بات عرض یہ ہے کہ کراچی و سندھ میں تشدد, ظلم و زیادتی اور تعصب کی آگ 1980 کے بعد نہیں بلکہ 1972-73میں رکھی گئی تھی . سقوط ڈھاکہ پاکستان کو دو لخت ہوے چند ماہ ہی ہوے تھے کہ 5 جولای 1972ًًًًًًًًًًًکو سندھ میں تعصب اور لسانیت کے بیج بوے دیے گئے تھے -سندھ حکومت کی جانب سے 7جولای 1972 کو سندھ اسمبلی میں سندھی زبان کو صوبے کی سرکاری زبان بنانے کا بل منظور کیا گیا – سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی اکثریت تھی جس کی بنا پر بل باآسانی منظور ہوگیا . اس دوران سندھ یونیورسٹی جام شورو میں طلبائ نے سندھی زبان کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے جلسہ عام منعقد کیا گیا -اگلے روز لسانیت و تعصب پسند عناصر کی جانب سے سندھ یونیورسٹی کے اردو بولنے والے اساتزہ کرام و طلباء کو دھمکی دی گئیءکہ وہ کلاسیں لینا بند کردیں-
مورخہ 5 جولای 1972 کو یہ لسانی بل ایک سرکاری نوٹیفیکیشن کے زریعے مشتہر کردیا گیا تھا جس کے خلاف مختلیف شعبہ ہاے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور مجوزہ لسانی بل کو سیاہ قانون قرار دیا اور صوبے بھر میں احتجاجی ہڑتال کی اپیل کی – معروف شاعر رئیس امروہوی نے اسی سلسلے میں روزنامہ جنگ میں اردو کا مرثیہ لکھا جس کا بند ہی مصرعہ تھا ” اردو کا جنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے” .اس لسانی بل کے خلاف حیدرآباد ،نواب شاہ ،میرپورخاص،سکھر میں بھی مکمل ہڑتال رہی –
اردو زبان کی حمایت میں نکلنے والے جلوس پر پولیس نے کءبار آنسو گیس پھینکی ،ان پر لاٹھی چارج کیا گیا جس کے نتیجے میں متعدد شہری شدید زخمی ہوے. حکومت کی جانب سے احتجاجی جلوس اور ہڑتال کو ناکام بنانے کے لیے ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور کراچی میں ہولناک خونریزی کی گءجس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق ہوے -اسی طرح حیدرآباد میں بھی پرتشدد واقعات رونما ہوے پولیس نے کراچی و حیدرآباد میں نہتے شہریوں پر فائرنگ کرکے خوف و دہشت کا بازار گرم کردیا -ان واقعات کے نتیجے میں کراچی و حیدرآباد میں 34 افراد شہید ہوے –
کراچی میں دو روز میں 24 اور حیدرآباد میں ایک روز میں 10 افراد کو شہید کیا گیا اور درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا .
اردو کے حق میں احتجاج کے دوران شہید ہونے والے شہدائ اردو کو سلام جنھوں نے اپنی زبان کی بقائ کے لیے اپنی جان کا نزرانہ پیش کیا-
سندھ ¾کراچی میں مورخہ 7¾ 5 جولای 1972 کو لسانیت و تعصب کے بیج بو کر سندھ میں جو آگ لگای گئی وہ تاریخ کا حصہ ہے جسے ضمیر فروش کالم نگار ، تجزیہ نگار، اینکر و صحافی حضرات جتنا بھی جھوٹ بولیں یا حقیقت سے نظریں چرائں مگر سچ کبھی چھپتا نہیں ¾ سامنے ضرور آتا ہے .
آپ نے دیکھا ہوگا سنا ہوگا پڑھا ہوگا جب بھی کوی لکھاری کالم نگار ، تجزیہ نگار ،صحافی ،اینکرپرسنز کراچی و سندھ کی تاریخ پر لب کشای کرتے ہیں تو پورا سچ نہ کہتے ہیں نہ لکھتے ہیں اور نہ بیان کرتے ہیں ..
اس کی وجہ انکی لاعلمی ، کم علمی ،یا پھر انکے ضمیر حق و سچ بیان کرنا ضروری نہیں سمجھتے . بہت سارے تجزیہ نگار کالم نگار ، و دیگر حقیقت سے ناآشنالوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سندھ میں لسانیت کی بنیاد 1980 کے بعد رکھی گئیءمگر میں اپنی اس تحریر میں پہلے ہی حقائق عرض کرچکا ہوں سندھ میں لسانیت کے بیج 1972-73میں بوے گئے اور سندھ میں لسانی فساد کروا کر سندھی اور اردو بولنے والوں میں دوریاں پیدا کی گئیں جسے 1980 کے بعد ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ختم کیا مگر آج بھی سندھ میں ایسے عناصر موجود ہیں جو سندھ میں اپنے زاتی مفادات کے خاطر سندھ میں نفرتیں پھیلانے میں مصروف ہیں اور مختلیف ہتھکنڈوں سے فساد کی آگ پھیلانے کی پاداش میں اردو بولنے والوں کی تزلیل کرکے ان کے جذبات مجروح کر کے سندھ کو لسانیت کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے . -1980  کے بعد کے کراچی کے حالات کا زمہ دار ایم کیو ایم کو ٹہرانے والے بتائیں 1980 سے پہلے رونما ہونے والے سانحات کا زمہ دار کون تھا ؟
یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ الطاف حسین اور انکی جماعت کی ہی وجہ سے سندھ میں لسانی فسادات کی سازش ناکام ہوئیں اور اسی سازش کو ناکام کرنے کی سزا کے طور پر مختلیف ادوار میں ایم کیو ایم کے قائد اور انکی جماعت پر کتنے ہی سنگین الزامات لگتے رہے ہیں اور آج بھی لگ رہے ہیں .
سندھ میں لسانی فساد کی ناکامی کی وجہ سے کراچی ،حیدرآباد میں استحصالی قوتوں نے بیش بہا ظلم کیے مختلیف سانحات میں ہزاروں اردو بولنے والوں کو شہید کیا گیا اور نہ جانے کتنے آج بھی لاپتہ ہیں .
ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے . پاکستان بسنے والی تمام قومیت کو مساوی حقوق ملنا چاہیے

images

لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ سچ کہیے جھوٹ کو فروغ نہ دیجیے .. ان ہی زیادتیوں کے باعث پاکستان 1971 میں بنگلہ دیش کی صورت میں دو لخت ہوچکا ہے بنگالیوں کے بعد سے جو مہاجروں کے ساتھ رویہ رکھا جارہا ہے اور جو انکی حق تلفی کی جارہی ہے اسے بند ہونا چاہیے

پاکستان کے طلباءکو چاہیے کہ وہ تحقیق کریں کہ بنگلہ دیش ( سقوط ڈھاکہ ) کیوں پیش آیا ؟ اسکے پیچھے کیا اسباب تھے آخر پاکستان کی آزادی میں بھرپور حصہ لینے والے آخر پاکستان سے علیحدہ کیوں ہوے ؟
پاکستان کے باشعور طلبا تحقیق کریں کہ سندھ میں بسنے والے اردو بولنے والے مہاجر کیوں اپنے حقوق سے محروم ہیں ؟ بانی پاکستان محترمہ فاطمہ جناح کو “را” کا ایجینٹ کیوں کہا گیا ؟
سندھ میں 7 جولای 1972 کو لسانی بل کیوں پیش کیا گیا ؟
نوجوان نسل کو چاہیے کہ اپنے تعلیمی نصاب کے اعلاوہ ان حقائق کو بھی جاننے کی کوشش کریں جس کی وجہ سے ہمارا ملک ترقی نہیں کرپارہا ہے . پاکستان میں انسانوں کے حقوق کی پامالی ختم ہونا چاہیے ورنہ ہم یوں ہی پستی کا شکار رہینگے.

Advertisements