راؤف کلاسرا صاحب یہ بھی تاریخی حقائق ہیں

صحافت ایک زمہ دارانہ شعبہ ہے جس کا مقصد عام عوام تک وہ حقائق پہنچانا ہے جس کے جاننے کا وہ حق رکھتے ہیں مگر خاص طور سے ہمارے ملک پاکستان کی بد قسمتی ہے کہ یہاں صحافی اصولی صحافت کے بجاے ادھوری صحافت کرتے ہیں.دراصل میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے صحافی حضرات
( بشمول اینکر پرسنز , کالم نگار , تجزیہ نگار ) اپنے کسی کالم کو لکھتے وقت یہ خیال نہیں رکھتے کہ کیا وہ اپنی تحریر یا کسی ٹاک شو کے دوران انکا کردار بیلنس ہے یا وہ یکطرفہ کہانی یا رپورٹ پیش کررہے ہیں ..
گزشتہ کچھ روز قبل میں نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے اینکر پرسن , کالم نگار اور تجزیہ نگار راو¿ف کلاسرا صاحب کا ایک کالم ( ہمارے ادیب ہی واپس کردو) پڑھا. جناب راو¿ف کلاسرا صاحب پاکستان کے جانے مانے صحافی ہیں مگر مجھے انکا کالم پڑھ کر بے حد تعجب اور حیرانی ہوی کہ وہ کیسے یکطرفہ کالم اپنے قارئین کے نظر کرسکتے ہیں جو حقایق کے بالکل منافی ہے.

راؤف کلاسرا صاحب نے اپنے سرائیکی بھائیوں و دیگر کی احساس محرومی,انکے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ اور انکے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو نہ صرف خود محسوس کیا بلکہ اسے اپنے کالم میں بیان بھی کیا اور اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ مہاجر قوم ایک باشعور قوم ہے جس نے پاکستان کے دیگر لوگوں کو سلیقہ سیکھایا بھارت سے ہجرت کرنے والے مہاجروں کی قابلیت کو بھی سراہا مگر موصوف نے اپنے کالم میںایم کیو ایم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کردی.
جناب راؤف کلاسرا صاحب لکھتے ہیں کہ 1947 سے لیکر 1980 تک مہاجروں کو کوءاحساس محرومی , کوی ظلم و زیادتی یا کوءپریشانی کا سامنا نہیں تھا مگر اس کے بعد اردو بولنے والے مہاجروں کے ساتھ ایسا کیا ہوا , ایسا کیا ملنا بند ہوگیا کہ جو 1980 سے پہلے انھیں مل رہا تھا جس کی وجہ سے وہ مطمعین تھے ,
موصوف لکھتے ہیں کہ اردو بولنے والے ادیب و شاعروں کی بہت لمبی فہرست ہے مگر 1980 کے بعد ایسا کیا ہوا جو یہ قوم ادب کے حوالے سے جانی جاتی تھی اسکی شناخت ہی گم ہوگیئ

جناب راوف کلاسرا صاحب کا کالم ” ہمارے ادیب ہی واپس کردو”

images

.
جناب کلاسرا صاحب نے بہت ہی بے دردی کے ساتھ حقائق کو مسنح کرکے اپنے کالم کی نظر کردیا اور ایسا تاثر دیا کہ جیسے کراچی میں اور سندھ کے دیگر شہروں میں جو کچھ مہاجروں کے ساتھ ہورہا ہے وہ ایم کیو ایم کے قیام کے بعد سے ہورہا ہے اس سے پہلے مہاجروں کے ساتھ کوی زیادتی, ظلم یا حق تلفیاں نہیں ہوئیں, ایم کیو ایم سے پہلے کراچی میں کبھی کوی ناحق خون بہایہ ہی نہیں گیا ..
پاکستان کی سیاست اور صحافت میں ایم کیو ایم اور مہاجر سب سے آسان ہدف ہیں جس کا جب دل چاہتا ہے وہ اپنی تخلیق کردہ کہانی لکھنا شروع کردیتا ہے ہر بات , ہر الزام کو ایسے بیان کیا جاتا ہے جیسے پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں ایم کیو ایم ملوث ہے.

جناب راؤف کلاسرا صاحب اگر آپ اپنے کالم ” ہمارے ادیب ہی واپس کردو”لکھنے سے پہلے تاریخ پڑھ لیتے یا کسی مہاجر ( اردو بولنے والے) سے مہاجروں کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویے کے بارے میں پوچھ لیتے تو مجھے آج آپکے کالم کے جواب میں لکھنے کی ضرورت پیش نہ آتی .
جناب راو¿ف کلاسرا صاحب اس میں کوءشک نہیں کہ پاکستان کے قیام کے بعد مہاجر اردو بولنے والوں نے ہی ملک کو سنبھالا , ملکی ترقی کے لیے دن رات کام کیا , ہر شعبے کو درستگی سے چلایا قیام پاکستان کے ایک سال بعد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح انتیقال کرگےئ اور اس کے بعد پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کو1951 میں شہید کردیا گیا جس کا آج تک پتا نہ چل سکا کہ کس نے اور کیوں انھیں شہید کیا اور نہ کوی اس کے بارے میں تحقیقات کرنا چاہتا ہے ..

جناب کلاسرا صاحب کراچی میں قتل و غارت 1980 کے بعد نہیں بلکہ کراچی میں قتل و غارت , مہاجروں کی نسل کشی کی شروعات 3 جنوری 1965 کو ہونے والے صدارتی انتیخابات سے ہویءجس میں 4 امیدوار حصہ لے رہے تھے جن میں جنرل ایوب خان (مسلم لیگ) اور بانی پاکستان قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح بھی شامل تھیں .ان دنوں جنرل ایوب خان مسلم لیگ کے صدر اور زولفقار علی بھٹو مسل لیگ کے جنرل سیکریٹری تھے ان انتیخابات میں کراچی کے شہریوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی جس کے باعث مغربی پاکستان میں صرف کراچی سے جنرل ایوب خان کو بھاری شکست کا کرنا پڑا اور کراچی کی عوام نے فاطمہ جناح پر اپنے اعتماد کی مہر لگای .
صدارتی انتیخابات 1965 میں جنرل ایوب خان کو کراچی کے اعلاوہ دیگر تمام شہروں میں بھرپور کامیابی ملی اور وہ دوبارہ صدر منتخب ہوے اور اسی کامیابی کے سلسلے میں کراچی میں انکی جانب سے جشن منایا گیا اور اس جشن کی آڑ میں اردو بولنے والوں کا قتل عام کروایا گیا ایوب خان نے ملک کے مختلیف شہروں سے اپنے حمایتیوں کو کراچی بلایا اور جلوس نکالے اور حمایتیوں کو بس میں سوار کروا کر کلا کوٹ , ناظم آباد سے جو قتل و غرتگری کا سلسلہ شروع ہوا وہ پورے شہر میں پھیل گیا اور اس جشن فساد میں درجنوں افراد کو ہلاک و زخمی کردیا –

7 جولای 1972 کو اردو زبان کے حق میں نکلنے والے جلوسوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گیئ , لاٹھی چارج کیا گیا, ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کرکے اردو زبان کے حق میں جلوس نکالنے والوں پر تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں 34 افراد شہید ہوے.
ایم کیو ایم سے پہلے بھی کراچی , حیدرآباد ,اور سندھ کے دیگر شہروں میں اردو بولنے والوں کو ناحق قتل کیا جاتا رہا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ 1980 سے پہلے مہاجروں کے لیے کوی بات کرنے والا نہیں تھا
کیونکہ 1980 سے پہلے اردو بولنے والوں کے پاس ایسا کوی پلیٹ فارم موجود نہیں جو انکی آواز اعلی ایوانوں تک پہنچاتا ..
جناب 1980 سے پہلے صرف مہاجر اور بانیان پاکستان کی اولاد ہونے کی بنیاد پر استحصالی قوتوں نے اردو بولنے والوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی اور 1980 کے بعد اپنے حقوق کے حصول اور اپنے آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کرنے کے جرم میں قتل کردیے گےئ ,
جناب راو¿ف کلاسرا صاحب ایم کیو ایم کے قیام کے 2 سال بعدہی کراچی میں سانحہ سہراب گوٹھ 31 اکتوبر 1986 کو پیش آیا جس میں 8 نوجون شہید اور 15 سے زائد زخمی ہوے کیا اسکی زمہ دار بھی ایم کیو ایم ہے ¿

سانحہ قصبہ و عالیگڑھ کالونی 14 دسمبر 1986 اس سانحہ میں 60افراد شہید اور 310 افراد کو زخمی کردیا گیا اور 350 دکانوں اور مکانات کو نزرآتش کردیاگیا , کءگھنٹوں تک مسلح دہشت گرد درندگی کا مظاہرہ کرتے رہے مگر کسی نے کان نہیں دھرے ..

سانحہ 30 ستمبر 1988 حیدرآباد کے مختلیف علاقوں میں مسلح دہشت گردوں نے مہاجروں کے خون سے ہولی کھیلی جس کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد شہید و زخمی ہوے.

سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد 26,27 مئی 1990 اس سانحہ میں نشے میں دھت پیشہ وار مجرموں نے وہ ظلم کی داستان رقم کی جس کی کوی مثال نہیں ملتی , عورتوں , بچوں , بوڑھوں اور نوجوانوں کو کھلے عام شہید کردیا گیا
جناب ان سانحات کے بارے میں بھی تھوڑی تحقیق کرلیتے آپ تو ہوسکتا ہے کہ آپکے کالم کے زریعے کتنے ہی لوگوں کو بھی صحیح حقیقت کا علم ہوجاتا ایم کیو ایم سے پہلے بھی اردو بولنے والوں کو شہید کیا جاتا رہا ہے مگر آج تک پتا نہ چل سکا کہ ایم کیو ایم کے قیام سے پہلے کراچی میں ہونے والے سانحات کے پیچھے کوں تھا .© ؟
یہ وہ سیاہ تاریخ جسکا زکر کوی نہیں کرتا …

جناح پور کے نقشے اور ملک دشمنی جیسے جھوٹے الزامات لگا کر مہاجروں کے خلاف اور ایم کیو ایم کے خلاف 19 جون 1992 کو آپریش کلین اپ شروع کیا گیا تھا جو ہر دور میں جاری رہا اور آج بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے ہزاروں مہاجروں کو لاپتہ کیا گیا اور پچھلے 25 سالوں میں ان گنت ماوراے عدالت قتل کردیے گے مگر آج تک کسی بھی الزام کو ثابت نہ کرسکے ..
جناح پور کے نقشے برآمد کرنے کا جھوٹ بولنے والوں نے اپنے اس جھوٹ کا 17 سال بعد اعتراف تو کرلیا مگر ان شہدائ کا کیا جو اس جھوٹ کے بھینٹ چڑھادیے گے .© ؟
1992 میں جناح پور کی سازش رچانے والے آج پھر پرانے تیر آزما رہے ہیں اور 2015 میں بھی مہاجروں , ایم کیو ایم پر ملک دشمنی جیسے گھناونے الزامات لگاے جارہے ہیں اور اس بار پاکستان کی طاقت ور قوتیں سر دھڑ کی بازی لگارہی ہیں اور 1992 کی جناح پور کی ناکام سازش کے بعد 2015 میں بھی باطل قوتوں کی ناکام کوشش کا سلسلہ جاری ہے اور اس بار کہا جارہا ہے کہ ” ایم کیو ایم بھارتی خفیہ ایجینسی “را” کے لیے کام کرتی ہے اور بھارتی خفیہ ایجینسی انھیں مالی مدد بھی فراہم کرتی ہے” .
جناب پہلی بار سنا ہے کہ ایک ایسی جماعت پر ملک دشمنی کا الزام لگایا جارہا جو پاکستان کی واحد جماعت ہے جس نے ایک ,دو دن کے نوٹس پر افواج پاکستان کے حق میں ریلیاں نکالی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی …
ایک نہیں بلکہ ایم کیو ایم نے الطاف حسین کی آواز پر لبیک کہتے ہوے کتنی ہی بار افواج پاکستان کے حق میں ریلیاں نکالی اور انکی قربانیوں کو سراہا مگر اس کے باوجود اس طرح کا سلوک انکے ساتھ سمجھ سے بالاتر ہے .

ارشاد باری تعالی ہے کہ :
باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناو اور جان بوجھ کر حق کو چھپانے کی کوشش نہ کرو . البقرہ: 42

جناب راوف کلاسرا صاحب آپ تو حق گوی کیجیے سچ کو سچ اور حق کو حق کہیے ..
اس میں کوءدو را نہیں کہ پورے پاکستان میں اکثریتی عوام اپنے حقوق سے محروم ہے مگر اس بات کو بھی تسلیم کیجیے کہ کراچی و سندھ میں بسنے والے اردو بولنے والوں کے ساتھ جو ظلم و زیادتیاں کی گیئ ہیں وہ کسی اور کے ساتھ نہیں کی گیئں.
اردو بولنے والے مہاجروں کو پچھلے 60 سالوں سے دبایا جارہا ہے مگر اردو بولنے والے مہاجروں نے اپنے حق کے لیے آواز 1980 کے بعد اٹھای .

امید کرتا ہوں راؤف کلاسرا صاحب آپ مہاجروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور انکی اصل تاریخ کو بھی اپنے کالم کے زریعے عوام تک پہنچاینگے..

Advertisements