طلبہ تنظیموں کا کردار اور اے پی ایم ایس او

جب سے تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں کا قیام عمل میں آیا ہے تب سے لیکر آج تک تعلیمی اداروں کو ہر طرح سے مضبوط و مستحکم بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے پاکستان میں واحد اے پی ایم ایس او ہے جو طلبہ تنظیم ہونے کا کردار بخوبی نبھارہی ہے یوں تو ماضی میں بہت سی طلبہ تنظیموں نے جنم لیا مگر وہ اپنی سیاسی بصیرت کی وجہ سے طلبہ کو اپنے منشور اور فلسفہ سے متاثر نہ کرسکیں کیونکہ بنا عمل کے تو ہم اپنے ضمیر کو بھی متاثر نہیں کرسکتے تو بھلا ایک طالب علم کو کیسے متاثر کرینگے اس کے لیے ہمیں اپنے قول و فعل کو بھی سامنے رکھنا ہوگا الطاف حسین ایک ایسے قائد ہیں جنھوں نے اپنے قول و فعل سے اپنا لوہا منوایا
قیام پاکستان سے قبل جس طرح سے سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو جدید علوم سے بیدار کرنے کے لیے تحریک چلائی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے سر سید احمد خان بھی تعلیمی شعور کے زریعے مسلمانوں میں تبدیلی لانا چاہتے تھے جس کے لیےانھوں نے تحریک چلائی ، یاد رکھیں تحریک ہمیشہ بڑی تبدیلی کے لیےچلاءجاتی ہے جو اپنے منزل مقصود تک جاری رہتی ہے .
جب سر سید احمد خان اپنی اعلی تعلیم مکمل کر کے برطانیہ سے واپس آے تو انھوں نے مسلمانوں سے کہا اگر مسلمان ایک کامیاب زندگی گذارنا چاہتے ہیں تو انگریزوں کے قدم سے قدم ملا کر چلو اور جدید تعلیمی نظام کو سمجھو. سر سید احمد کا کہنا تھا کہ جب تک ہم western سیاست کو نہیں سمجھے گے تب تک مسلمان کامیابی حاصل نہیں کرسکے گے انھوں نے کبھی مسلمانوں کو سیاست میں دھکیلنے کی کوشش نہیں کی. انکا صرف مقصد یہ تھاکہ مسلمان انگریزوں کے جدید تعلیمی نظام کے قدم سے قدم ملا کر چلیں. خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو احساس جس کو خود اپنی حالت بدلنے کا

indexsss

ٹھیک اسی طرح طلبہ تنظیم کا تعلیمی اداروں میں یہ ہی کردارہے کہ طلبہ کو سوچ و فکر دینا اور تعلیمی میدان میں ہر ممکن مدد فراہم کرنا ہےطلبہ تنظیموں کے تعلیمی اداروں کے قیام سے طلبہ کے اندر شعور بیدار ہوتا ہے اور وہ اپنی عملی زندگی شروع کرنے سے پہلے اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو مزید بہتر کرتے ہیں طلبہ تنظیموں کے قیام کا مقصد درس گاہوں میں ہفتہ کتب منا کر غریب نادار اور کمزور طلبہ کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ تعلیمی میدان میں پیچھے نہ رہ جایئں.
 

imagesssff

indexssewr1
http://www.mqm.org/English-News/Nov-2006/news061111b.htm

imagesvvvvvvv

imagesssss

indexsswwwe

پاکستان بالخصوص سندھ کے تعلیمی اداروں میں اے پی ایم ایس او ایک واحد طلبہ تنظیم ہے جو اپنے طلبہ تنظیم ہونے کا حق صحیح طریقے سے ادا کر رہی ہے اور آج  بھی اپنے قائد الطاف حسین کے دیے ہوے فلسفے اور نظریے پر عمل پیرا ہے .اے پی ایم ایس او اور قائد الطاف حسین کو ایک بہت بڑا اعزاز حاصل یہ ہے کہ انھوں نے طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او سے ایک سیاسی جماعت متحدہ قومی موومینٹ کو جنم دیا جو پاکستان میں ایک بہت بڑی تبدیلی اور انقلاب تھا اور وہ انقلاب تمام مشکلات اور بیش بہا قربانیوں کے بعد بھی اپنی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے. الطاف حسین اپنی نوجوانی کے ایام سے لیکر آج تک غریب مظلوم محکوم عوام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں انکی اس جدوجہد کو اب 37 سا ل ہوگے ہیں اے پی ایم ایس او اپنا 37 واں یوم تاسیس منارہی ہے

یوں تو پاکستان میں بہت سی نام نہاد طلبہ تنظیمیں ہیں مگر انھیں کچھ سیاسی و مذہبی تنظیموں نے اپنے سیاسی مقاصد کیلیئے تعلیمی اداروں میں متعارف کروایا تاکہ وہ طلبہ کا برین واش کرکے انھیں اپنے ناپاک مقاصد میں استعمال کرسکیں مگر افسوس الطاف حسین نے اے پی ایم ایس او کے قیام سے دیگر نام نہاد طلبہ تنظیموں کی کمر توڑ دی ہے اور یہ الطاف حسین اور اے پی ایم ایس او نے زبانی ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی کر کے دکھایا طلبہ تنظیموں کا تعلیمی اداروں میں اصل کردار الطاف حسین اور اے پی ایم ایس او نے متعارف کروایا اور طلبہ کے زہنی ورزش کے لیے اسپورٹس میلہ، کرکٹ ٹورنامنٹ، یونیورسٹیز کے ٹیسٹ سے پہلے طلبہ کی زہنی آزمائش کے لیے مختلیف گروپس کے ماڈل ٹیسٹ تاکہ طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کا اندازہ ہوسکے انجینیئرز کی صلاحیتوں کو اور نکھارنے کے لیے ری-انجینیرنگ ، بحث و مباحثہ ، تقریری پروگرامز اور دیگر صحت مند اور طلبہ دوست پروگرامزاے پی ایم ایس او کا شعار رہا ہے جو تعلیمی اداروں میں طلبہ کے اضافے کا باعث بنتے ہیں

Advertisements