تلخ حقیقت

دنیا میں آپ نے کتنی ہی تحریکیں, آرگنایزیشنز , سیاسی جماعتیں دیکھی ہونگی جو بہت تیزی سے پروان تو چڑھتی ہیں مگر اتنی ہی تیزی سے تنزلی کی جانب بھی بڑھتی ہیں جس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں جن میں سے چند ایک کا زکر میں آج اپنے زاتی تجربے کی بنیاد پر اپنے اس بلاگ میں کرنا چاہونگا جس کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ کسی انسان کو میری بات سے شاید کچھ خرابیوں اور برایوں کو ختم کرنے اور خود احتسابی کا احساس ہوجاے اور میرے الفاظ سے اجتماعیت کے تصور کو فروغ ملے اور سب چیزیں بہتری کی سمت میں آگے بڑھنے لگیں.

جناب تو بات دراصل یہ ہے کہ جب ہم ترقی کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں تو ہمیں اپنی برائیاں اور خامیاں نظر نہیں آتیں کیونکہ ہماری کامیابیاں ان تمام برائیوں پردہ ڈال دیتی ہیں اور وہ برائیاں آگے جاکر بہت بڑی غلطی کی مانند تصورکی جاتی ہیں وہ اسلیے کہ اگر ہم اپنی کامیابیوں پر فخر کرنے کے بجاے اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا عمل نہ کریں تو وہ غلطیاں ہمارے لیے تو نقصان دہ ہوتی ہیں مگر وہ مستقبل میں بہت سے لوگوں کو اپنے لپیٹیں میں لے لیتی ہیں اور یوں ان غلطیوں کی وجہ سے بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے .                                                                یہاں ہم سے مراد کوی بھی آرگنایزیشن خواہ وہ کوی بھی ہو .

یہاں میں بتاتا چلوں کہ دنیا میں جتنی بھی قومیں آج کامیابیاں سمیٹ رہی ہیں اسکی بنیادی وجہ وہاں کا نظام قابلیت اہلیت اور میرٹ کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھتے ہیں باقی چیزیں بعد میں جو انکی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے.

کسی بھی تحریک آرگنایزیشن یا کوی ادراہ,شعبہ جس سے متاثر ہوتا ہے وہ ہے زاتی پسند ,ناپسند اور میرٹ.
جناب اگر ہم کسی بھی شعبے میں کسی انسان کی تقرری کہ عمل کہ دوران میرٹ کو سامنے نہیں رکھیں گے تو وہ شعبہ یا تو اپنے مقصد پر پورا نہیں اترے گا یا پھر اس شعبے کو ترقی پر لے جانے کے بجاے اس شعبے کی شرمندگی کا باعث بنے گا جیسے مثال کہ طور پر اسکول سے بھاگ جانے والا یا یوں کہہ لیجیے کہ تعلیم چور انسان کو پورے تعلیمی شعبے کا زمہ دے دیا جاے تو کیا تعلیم چور انسان معاشرے میں تعلیم عام کرسکتا ہے ؟ جناب یوں کہہ لیجیے کہ کوی چور معاشرے سے چوری ختم کرسکتا ہے؟ پولیس کا کام چوری چکاری اور دیگر جرایم ختم کرنا ہے اگر چوروں ڈکیتوں کو ہی پولیس میں بھرتی کرکے اہم عہدہ دے دیا جاے تو کیا ایسے معاشرے سے چوری چکاری ختم ہوسکتی ہے ؟ جناب یہ ہی مثال اگر ہم اپنے ملک کی سیاسی و تحریکی جماعتوں اور دیگر حکومتی اداروں پر لیں تو وہاں بھی کچھ یوں ہی ہے. اگر کسی ادارے کا سربراہ ہی نااہل ہو یا جاہل ہو تو کیا وہ اس ادارے کو ٹھیک سے چلاسکتا ہے ؟ ایسے نااہل شخص کو جب ہم اہم ادارہ سونپے گے تو ظاہر ہے وہ ادارہ آج نہیں تو کل ضرور ختم ہوجاےگا.
اسی طرح کسی آرگنایزیشن کی بات کریں تو اگر ہم کسی بھی نااہل شخص کو اس آرگنایزیشن میں پسند کی بنیاد بنا کر اہل لوگوں پر نااہل لوگوں کو فوقیت دینگے تو وہ فیصلے بھی اپنے مطابق ہی کرےگا.

اگر ہم اپنے اسٹریکچر کو فولو کرنے کے بجاے اپنے زاتی پسند اور نہ پسند کو بنیاد بناکر فیصلے کرنے لگیں تو ان فیصلوں سے بہت سے لوگ متاثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نااہل لوگ اہل لوگوں پر براجمان ہوجاتے ہیں اور یوں اہلیت اور تعلیم یافتہ لوگوں کو ان تحریکوں اور سیاسی جماعتوں اور اداروں کو الوداع کہنا پڑھتا ہے کیونکہ کوی بھی نااہل شخص یہ نہیں چاہتا کہ کوی اس سے زیادہ اہلیت رکھنے والا شخص اس کے ساتھ کھڑا ہو یا اس سے آگے جاے. سفارش یا زاتی پسند پر اگے بڑھنے والا یا ترقی حاصل کرنے والا اپنے سے قابل شخص کے ساتھ اس طرح سے برتاو کرےگا کہ وہ اس سے بدظن ہوکر خود ہی خاموش ہوجاے اور اس پر ایسے لوگوں کو فوقیت دے گا جو اسی کی طرح خوشامدی یا پھر نااہل ہوں اور یوں ایک سلسلہ چلتا رہے کیونکہ یہ انسان کی فطری سوچ ہے کہ جیسے انسان خود آگے بڑھتا ہے وہ وہی ماحول نیچے والوں کو ڈلیور کرتا ہے کیونکہ یہ حقیقت بات ہے کہ اگر کوی انسان میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر کسی مقام پر پہنچے گا تو وہ فیصلے بھی قابلیت و صلاحیتوں کی بنیاد پر کرےگا اور اگر کسی کی سفارش پرچی یا پھر کسی کی زاتی پسند نہ پسند پر آگے جاے گا تو وہ نیچے والوں کو بھی یہ ہی راہ دکھاے گا اور یوں میرٹ کا کھلے قتل کردیا جاتا ہے.

مگر جو لوگ اپنی اہلیت و قابلیت پر یقین رکھتے ہیں اور میرٹ پر کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہوں وہ بہت سی جگہ پر بے انتیہا زلیل و خوار کیے جاتے ہیں انھیں حقارت سے دیکھا جاتا ہے تاکہ انکے حوصلے پست کیے جاسکیں , مگر وہ لوگوں کے دلوں میں وہ مقام حاصل کرلیتے ہیں جو سفارشی و مفادپرست لوگ کبھی حاصل نہیں کرپاتے کیونکہ سفارشی لوگوں کی جھوٹی کامیابیاں حقیقت و سچای کو کبھی چھپا نہیں سکتی لوگ انکے گفتار اور کردار سے انکی کامیابیوں کہ راز پہچان جاتے ہیں اور یوں انکے چہروں سے انکی اہلیت کا نقاب اٹھ جاتا ہے.

پاکستان میں کوی کام اگر بہت خوبی سے , خوش اسلوبی سے یا اہلیت سے ہوتا ہے تو وہ ہے بدعنوانی و کرپشن اور میرٹ کا قتل عام جو کبھی بھی بھی کہیں بھی ہوجاتا ہے .

کسی بھی تحریک یا آرگنایزیشن میں مسلسل میرٹ کی جگہ زاتی پسند اور نہ پسند کو فوقیت دی جانے لگے تو اس سے عام انسان میں یہ سوچ پیدا ہونے لگتی ہے کہ وہ بھی دوسروں کی طرح اپنے سے بڑے کی خوش آمد کرے انکے قریبی لوگوں میں شامل ہوجاے اور انکی زاتی پسند کا حصہ بن جاے.
وہ شخص اپنے اس عمل سے انفرادی فائدہ تو حاصل کرلیتا ہے مگر اجتماعیت کو بہت نقصان پہنچادیتا ہے.
ہم جانے انجانے میں اپنی زاتی پسند اور ناپسند پر ایسے فیصلے کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو بےجا نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور ہم روشنی کی جانب بڑھنے کے بجاے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں وقت کا تقاضا ہے اگر اب بھی میرٹ پر پسند اور ناپسند کو ترجیح فوقیت دی جاتی رہی تو نتیجہ وہی ہوگا جو ہمشہ ہوتا ہے
جناب کوی بھی شخص میرے اس بلاگ سے اختلاف کرسکتا ہے مگر میں نے جو گزشتہ ایک سال کے دوران جو محسوس کیا اور جو دیکھا وہ اپنی اس تحریر کی نظر کردیا .

Advertisements