سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد

وقت پرورش کرتا ہے برسوں , حادثہ یوں ہی رونما نہیں ہوتا . بالکل درست فرمایا ہے جس نے بھی فرمایا ہے . پاکستان میں سانحات اور حادثات کی سب سے بڑی وجہ عام آدمی تک حقایق کا نہ پہنچنا ہے. جناب جب تک پاکستان کے ایک ایک بچے کو ماضی میں ہونے والے سانحات و حادثات کا نہیں پتا چلے گا تب تک ایسے المناک سانحات رونما ہوتے رہینگے. پاکستان نے اپنے نام نہاد آزادی کے 67 سالوں میں بہت سے ایسے زخم کھائیں ہیں جو کبھی نہیں بھرسکتے جسکی بنیادی وجہ ماضی سے سبق نہ حاصل کرنا ہے.
پاکستان میں بسنے والے بنگالیوں کے ساتھ اتنی زیادتیاں کی گی کہ انھیں پاکستان سے اپنے الگ وطن کا مطالبہ کرنا پڑا.ہم سب بس اتنا ہی جانتے ہیں کہ 16 دسمبر 1971 کو سقوط ڈھاکہ پیش آیا اور بنگلہ دیش الگ ہوگیا مگر کوی یہ سوال نہیں کرتا کہ آخر پاکستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو پاکستان میں ایسی کیا پریشانی یا مشکلات پیش آئیں کہ انھیں پاکستان سے علیحدہ ہونا پڑا. سقوط ڈھاکہ کہ حقایق نہ کوی بتانا چاہتا ہے اور نہ کوی دلچسپی رکھتا ہے اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش پاکستان سے علیحدہ ہوکر ہم سے زیادہ خوشحال ہے. جناب پاکستان نے سانحہ مشرقی پاکستان تو برداشت کرلیا مگر ہمارے چند متعصب لوگوں کو پھر بھی سکون نہ ملا. پہلے بنگالیوں کی محرومیوں کو احساس محرومی سے احساس بیگانگی میں تبدیل کیا اور اب وہی روش بانیان پاکستان کی اولادوں سندھ کے اردو بولنے والے سندھیوں کہ ساتھ رکھا جارہا ہے پاکستان کے قیام میں جن لوگوں کے اجداد نے قربانیاں انھی کی اولادوں کے ساتھ غیروں جیسا سلوک پچھلے 50 سالوں سے جاری ہے جس میں اردو بولنے والوں کا اس قدر خون بہایا گیا ہے کہ جسکی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی. سندھ میں بسنے والے مہاجروں کہ ساتھ ماضی میں جو ظلم و بربریت کی وہ کبھی بھلای نہیں جاسکتی حکمران اپنے ماضی کے ظلم و ستم کو جتنا بھی چھپائیں لیکن سچ کبھی کسی سے نہیں چھپایا جاسکتا. محرومیوں اور نہ انصافیوں کی ہی وجہ سے الطاف حسین صاحب نے مہاجر قومی مومینٹ بنای تھی جس کہ بعد مہاجروں کو ہمت و حوصلہ ملا اور مہاجروں نے ایک قوم کی طرح متحد ہو کر باطل قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنایا اور ہر ظلم سہہ اور ریاستی مظالم کے باوجود پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاے.جس سے باطل قوتوں کو مایوسی ہوی مگر اس کے باوجود سازشیں ختم نہ کیں. مہاجروں نے پاکستان سے بغاوت نہ کی تو مہاجروں کی طاقت کو توڑنے کے لیے مہاجروں کو مہاجروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کی مگر اس میں بھی ناکام رہے.

پاکستان میں ہماری نوجوان نسل کو نہیں بتایا جاتا کہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کی اصل وجہ کیا تھی , انکی ساتھ ایسا کیا ہوا جس سے ان میں احساس محرومی اتنی بڑھی کہ وہ الگ ملک کے طور پر پاکستان کے سامنے کھڑے ہوے.
 جناب مشرقی پاکستان تو الگ ہوگیا مگر جو آج بھی پاکستان کا حصہ ہیں مطلب بانیان پاکستان کی اولادیں اردو بولنے والے مہاجر انکے ساتھ تو ظلم و زیادتی بند کی جاے . جو معصوم و بیگناہ اردو بولنے والے مہاجر جو اپنا حق مانگنے کی وجہ سے کچل دیے ان مظالم کو طلبہ و طالبات تک پیش نہیں کیے جاتے ؟جناب کسی کو سانحہ سہراب گوٹھ , سانحہ قصبو عالیگڑھ 1986 , سانحہ 30 ستمبر حیدرآباد 1988 ,سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد 26, 27 مئی ء1990 جس میں ظلم و بربریت کی انتیہا کردی گیءتھی.
اس سانحہ پکا قلعہ 26,27 مئی 1990 سے قبل جاگیردار وڈیروں کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات دیے گئے کہ ” پکا قلعہ حیدرآباد کو ختم کردیں گے” جس کا مقصد شہر میں لسانی فسادات کو ہوا دے کر سندھی و مہاجر عوام میں تناو پیدا کرنا تھا. اس وقت ایم کیو ایم کے قاید لندن میں تھے انھوں نے لندن میں رہتے ہوے ارباب اختیار سے پکا قلعہ حیدرآباد کے علاقہ مکینوں کے تحفظ کے لیے رابطہ کیا اور بے گناہ معصوم شہریوں کی حفاظت کے لیے ان سے فریاد کی مگر مگر اقتدار پر بیٹھے حکمرانوں نے کوی توجہ نہ دی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سانحہ26,27 مئی ایک سوچے سمجھے سازش کے تحت رونما ہو ا تھا .
جرایم پیشہ افراد کو 26 مئی ءکی درمیانی شب جدید اسلحہ فراہم کیا گیا اور گاڑیاں فراہم کی گئیں جس میں سو سے زاید جرایم پیشہ افراد شامل تھے ان گاڑیوں کو ایگل اسکواڈکی گاڑیاں گائیڈ کر رہی تھیں .یہ تمام گاڑیاں 26 مئی کی شب پکا قلعہ حیدرآباد کے اطراف جمع ہوگئیں اسی دوران پورے شہر کی بجلی و ٹیلی فونز کی لاینز کاٹ دی گئیں تھیں اور پانی بھی بند کردیا گیا تھا .مسلح دہشت گرد نشے میں دھت تھے اور ان درندوں نے قلعے میں داخل ہو کر نہتے معصوم سوتے ہوے عام عورتوں اور بچوں پر حملہ کردیا .
سانحہ پکا قلعہ میں دہشت گردوں نے مشین گنز , کلاشنکوف , و دیگر جدید اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا , گھروں میں لوٹ مار کی, خواتین پر تشدد کیا اور سو سے زاید اردو بولنے والے عام مہاجر انتہای وحشیانہ انداز میں شہید کردیا اور دہشت گرد ان لاشوں پر کھڑے ہوکر فاتحانہ نعرہ لگاتے رہے اور عورتوں کی آہ و بکاہ پر قہقہ لگاتے رہے اور بے حسی و درندگی کا مظاہرہ کرتے رہے .پکا قلعہ حیدرآباد کے شہریوں نے کسی طرح سے قلعے کے باہر لوگوں اور اپنے رشتہ داروں کو اطلاعات کرنے کی کوشش کی مگر چاہتے ہوے بھی کوی انکی مدد کو نہ پہنچ سکا , اور کرفیو کے باوجود درندہ صفت دہشت گرد ریاست کی چھتری میں پکا قلعہ حیدرآباد پر ظلم و ستم کی تاریخ رقم کرتے رہے مگر کوی انکی مدد کو نہ پہنچا. پکا قلعہ کے عوام کے لیے وہ منظر ایک خوفناک منظر تھا شیر خوار بچے دودھ سے محروم تھے , گھروں میں فاقے تھے, بجلی کی عدم فراہمی پانی کی قلت سے پکا قلعہ میں محصور آبادی کی زندگی اجیرن ہوگیءتھی .
جب انکی مدد کو کوی نہ پہنچ سکا, حکومت و انتیظامیہ بھی انکی مدد کو نہ آی تو قلعہ میں موجود خواتین نے دیکھا کہ ان ظالموں سے بچنے کا کوی راستہ نہیں تو قلعے میں محصور خواتین سر پر قرآن اٹھا کر دہشت گردی اور درندگی کرنے والوں سے رحم کی بھیک مانگی مگر ان سفاک دہشت گردوں نے قرآن پاک کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا اور سر پر قرآن پاک اٹھانے والی خواتین پر اندھا دھند فایرنگ کردی اور شہید کردیا . دہشتگردوں نے کھلے عام نہتے عوام , مرد , عورتوں اور بچوں پر گولیاں برسائیں اور قلعے میں شہید پونے والوں کو وہی پر دفنادیا گیا.
جب دیگر علاقوں کی عورتوں نے پکا قلعہ میں ہونے والے ظلم کے خلاف اجتجاج کے لیے جمع ہوئیں تو ان پر سرکاری اہلکاروں نے فایرنگ کردی جس سے کیءخواتین موقع پر ہی شہید و زخمی ہوگیءتھیں.اس سازش کے لیے بدنام زمانہ قیدیوں کو پولیس کی وردی پہنا کر جیل سے لایا گیا تھا جنھوں نے ظلم کی داستان رقم کرکے جانے کتنے گھر اجاڑ دیے .
سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد 26,27 مئی ءکو آج 25 سال گزر ہوگےئ کیا کبھی اسکی میڈیا نے کوی رپورٹ یا ڈاکیومینٹری پیش کی ؟ جناب آج تک سانحہ پکا قلعہ میں قتل و غارتگری کرنے والے آج بھی قانون کی گرفت سے دور ہیں. نہ ان سانحات کا کوی زکر کرتا ہے اور نہ انکے ازالے کے لیے کوی اقدام کررہا ہے. کوی کرایم رپورٹر , کالم نگار , تجزیہ نگار , اینکر پرسنز , میڈیا کے نمایندے , اساتزہ کرام , طلبہ و طالبات ان سانحات پر تحقیق کیوں نہیں کرتے ؟ کیا وہ انسان نہیں تھے ؟ آج بھی سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد کے متاثرین انصاف کے منتظر ہیں . کیا کبھی اردو بولنے والے مہاجروں کے ساتھ رونما ہونے والے سانحات پر ہمارا میڈیا کوی ٹاک شو یا کرے گا جس میں ماضی کی تلخ و سرخ داستان نوجوان نسل تک پہنچ سکے ؟ کیا اتنی انسانیت و ہمدردی ہمارے الیکڑونک میڈیا میں ہے ؟

Advertisements