کراچی میں پھر سانحہ

پاکستان اور سانحات دونوں ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہیں کہ جسے دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہو.کراچی میں پچھلے دو دہایوں سے نہ جانے کتنے گھر اجڑ چکے ہیں کتنے ہی معصوم بے گناہ لوگ اپنا لہو قربان کرچکے ہیں مگر کراچی و پاکستان میں آے دن رو نما ہونے والے واقعات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہمارے قانون نافز کرنے والے اداروں اور دیگر ایجنسیز سے زیادہ منظم ہیں جو جب چاہے جہاں چاہے اپنی درندگی مظاہرہ کردیتے ہیں.
سانحہ 1951 خان لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا آج تک پتہ نہ چل سکا اسکے پیچھے کون تھا , 1964 کے انتیخابات کے بعد کراچی میں مہاجر بستیوں کو نشانہ بنایا گیا مہاجر بستیاں اجاڑ دی گی مگر متاثرہ مہاجروں کو آج تک انصاف نہ مل سکا, اسکے بعد 1974 کے لسانی فسادات اس میں بھی سندھ میں معصوم لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی گی انکو انصاف ملا ؟نہیں ملا اور نہ کبھی اس بے حس معاشرے میں انصاف کسی کو مل سکتا ہے, سانحات , سانحات اور پھر سانحات.. کراچی میں 13 مئیءکو اسماعیلی کمیونٹی کی بس پر سفورہ چورنگی کے قریب دہشت گردوں نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوے 40 سے زاید افراد کو فایرنگ کرکے لقمہ اجل بنادیا جس میں 16 خاتون بھی شامل ہیں .یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں انسانی جانوں کے ضیاع پر دل سے افسوس ہوتا ہے ؟ سفورہ چورنگی پر بس میں فایرنگ کا واقع اچانک تو رونما نہیں ہوا ہ دہشت گردوں نے پہلے اس کی سازش تیار کی ہوگی .. ایسا تو ممکن نہیں دہشت گرد صبح اٹھے اور انھوں نے اسمعاعیلی کمیونٹی کو نشانہ بنادیا . دہشت گردوں نے درندگی سے بس میں فایرنگ کرکے 40 سے زاید افراد کو درندگی کا نشانہ بنایا اور جس میں کتنے ہی زخمی بھی ہیں بس اس سانحہ کے بات ہونا کیا ہے … کچھ نہیں ! سیاستدانوں کی کھوکھلی مزمتیں آنا شروع ہوگی جیسے کوی نیو آیر کی مبارکباد پیش کررہے ہوں , وزیر اعلی سندھ نے اپنے آپ کو بری از زمہ کرنے کے لیے فوری طور پر ایس ایس پی ملیر اور دیگر متعلقہ افسران کو معطل کردیا .. جناب کیا معطلی سے پتہ چل جاتا ہے کہ اس سانحہ کا کون زمہ دار ہے ؟ میں ہیاں بتاتا چلوں کہ پاکستان کی سب سے بڑی رینجرز کی چوکی بھی چند فاصلے پر موجود ہے …. اب آپ پاکستان اور کراچی کے شہریوں کی سیکیورٹی کا اندازہ خود کرسکتے ہیں.

جناب کراچی میں صفورہ چورنگی پر بس کی فایرنگ سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور دکھ تو ہے مگر اس سانحہ سے  ماضی کے سانحات بھی تازہ ہوگیے جیسے سانحہ سہراب گوٹھ , سانحہ قصبہ و عالیگڑھ کالونی 14 دسمبر 1986 , سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد 30 ستمبر 1988 اور اس جیسے نہ جانے کتنے سانحات رونما ہوچکے ہیں کوی نہیں بتاتا کہ 90 کی دہای میں اردو بولنے والے مہاجروں کو کیسے شہید کیا گیا تھا جس کا میڈیا 5 منٹ کو بھی زکر نہیں کرتا , سانحہ 27 دسمبر بے نظیر صاحبہ کی شہادت پر میڈیا پر سب اینکر پدسنز روتے اور چیختے ہیں مگر کوی ان مہاجروں کا حال تک نہیں پوچھتا جنھیں بے نظیر صاحبہ کی شہادت کے سوگ میں نشانہ بنایا گیا مہاجر خواتین کی عزت کی پامالی کی گی .. کوی انھیں یاد کیوں نہیں کرتا ؟
جناب میں یہاں ارباب اختیار سے پوچھنا چاہتا ہوں  کہ کراچی میں 2 سال سے جرایم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری ہے جناب یہ کیسا آپریشن ہے کہ جس کے ہوتے ہوے بھی دہشت گرد باآسانی دندناتے پھرتے ہیں اور آپ گھوم پھر کر ساری برایوں کو متحدہ قومی موومینٹ پر ڈال کر اصل مجرموں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جناب آپریشن کے شروع ہونے سے پہلے کہا گیا تھا آپریشن آکروس دا بورڈ ہوگا جس میں بلاتفریق کاروای کی جاے گی اور جس کی مانیٹرنگ کے لیے وفاقی وزیر داخلہ نے ایک غیرجانبدار کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا مگر نہ ہی آپریشن آکروس دا بورڈ ہوا اور نہ کوی کمیٹی بنی. . میں بالکل وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن صرف متحدہ کے خلاف کیا جارہا ہے. کیا کراچی آپریشن میں متحدہ کو نشانہ بنا کر کالعدم تنظیمعوں اور دہشت گردوں کو کراچی میں منظم کرنے کی سازش کی جارہی ہے ؟
دہشت گردوں نے اسمعاعیلی کمیونٹی کو ویلفیر بس میں درندگی کا نشانہ بناکر بس کے اطراف میں داعش کے پمفلٹ بھی پھینکیں تاکہ کراچی میں اپنی موجودگی کا بھی عندیہ دے سکیں .. جناب سوال تو یہ ہے کہ یہ پمفلٹ کہیں چھاپے بھی گے ہونگے . ؟ ان سوالوں کا جواب کون دے گا . ؟پوری دنیا نے دیکھا کہ داعش کے دہشت گردوں نے کراچی میں 40 سے زاید افراد کو شہید و ہلاک کرکے اپنا کس طرح تعارف کروایا … کیا اب بھی کراچی آپریش درست ہے . ؟
جناب جو لوگ کراچی آپریشن سے بہت مطمئین ہیں وہ صفورہ چورنگی پر ہونے والے سانحہ سے اپنی آنکھیں کھولیں. کیا اب بھی آپ یہ کہو گے کہ کراچی آپریشن صحیح سمت میں جارہا ہے , گزشتہ ہفتے کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر اور لاپتہ بلوچیوں کے لیے آواز اٹھانے والی خاتون سبین محمود کو بھی دہشت گردوں نے دن دیہاڑے کراچی میں شہید کردیا تھا اور دیگر بہت سے عام شہریوں کی بھی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے جناب یہ کراچی میں کیسا آپریشن
ہورہا ہے جو آپریشن کے باوجود آج بھی دہشت گرد آزادانہ کاروایوں میں مصروف ہیں.

جناب ارباب اختیار سے میرا سوال ہے کہ یہ جرایم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کے خلاف کراچی میں آپریشن ہورہا ہے یا ٹوپی ڈرامہ ….. ؟
جناب کراچی میں مہاجروں اور ایم کیو ایم کے خلاف سازشوں کے جال بچھانے کے بجاے دہشت گردوں کی مزموم کاروایوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جایئں .
ماضی میں سانحات میں متاثر ہونے والوں کو آج تک کوی انصاف فراہم نہیں کرسکا المیہ تو یہ ہے کہ آج میڈیا میں انکا تزکرہ تو دور انکا نام تک کوی نہیں لیتا.
جناب میں بس اتنا کہنا چاہوگا کہ جو قومیں اپنے ماضی سے سبق حاصل نہیں کرتی وہ دنیا میں کبھی اپنا کوی مقام حاصل نہیں کرپاتیں .
دیکھتے ہیں کہ کیا کوی استعفی سامنے آتا ہے ؟ کسی کی غیرت و انسانیت جاگتی ہے یا نہیں ؟ سندھ حکومت اور کراچی آپریشن کے کپتان چاہے وہ قایم علی شاہ صاحب ہوں یا کوی بھی اعلی عہدے پر فایز افسر ہو اسے زمہ داری میں غفلت قبول کرکے اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے جو شاید پاکستان میں نا ممکن نظر آتا ہے .

Advertisements