﴾ماں ایک عظیم ہستی ﴿

آج کا بے حس معاشرہ اور اس معاشرے میں جب عورت کی بے توقیری دیکھتا ہوں تو دورِ جہالت کی بد صورت رسم ورواج تصوریروں کی صورت آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتے ہیں ۔ مجھے احساس دلاتے ہیں کہ تو بھی کسی مہذب معاشرے کا فرد نہیں بلکہ دورِ جہالت سے ملتے جلتے دور میں پیدا ہواہے ۔جس نسل کی ماں ظلم و زیادتی اور ناانصافی کا شکار ہو وہ کسی بھی طرح پر امن ،باشعور اور با عزت معاشرہ قائم نہیں کر سکتی ۔جو لوگ اپنی ما ﺅں بہنوں بیٹیوں کو عزت و انصاف نہیں دے سکتے وہ کیونکر دنیا میں عزت و سکون کی زندگی گزار سکتے ہیں ؟
غلام بے توقیر اور ظلم کی چکّی میں پِسی ماں کس طرح بچوں کو خددار ، خود مختیار ، ایماندار اور باشعور بنا سکتی ہے؟  ماہ مئی کے دوسرے اتوار کو ہر سال  ماں کے عالمی دن سے منسوب کر کے منایا جاتا ہے اور اپنی ماں سے عقیدت و محبت کا اظہار کیا جاتا ہے ۔او ر دنیا بھر میں ماں کی عظمت اور اہمیت کے پرچار کے لئے مختلف پر وگرام منعقد کئے جاتے ہیں مگر جس معاشرے میں ماں جیسی عظیم ہستی ہی کیا اس معاشرے میں تو بہن بیٹیوں عورتوں کو بھی وہ حقوق حاصل نہیں جس کی وہ حقدار ہیں کےا ایساپولیو زدہ معاشرہ ترقی کی جانب بڑھ سکتا ہے ؟
اسلام سے پہلے معاشر ے میں عورت کو کوئی قدرو منزلت حاصل نہ تھی وہ ظلم و ستم کا شکار تھیں ۔حضرت عمر ِفاروق ؓ فرماتے ہیں کہ “مکہ میں عورتوں کو بالکل ناقابلِ توجہ سمجھا جاتا تھا ،مدینے میں نسبتا عورتوں ، ماﺅں بہنوں کی عزت تھی لیکن اس قدر نہیں جس کی وہ مستحق تھیں ۔”رسول ِ اکرم ﷺ نے حُکم ِ خداوندی کے تحت عورت کو عزت و احترم کا وہ مقام بخشا جس کی تاریخ ِ انسانی میں مثا ل نہیں ملتی ۔پوری کائنات میں اگر کوئی عظیم نعمت ِ خدا وندی اور تحفہ ہے تو وہ صر ف ماں ہے جسے اللہ کے نزدیک بھی بہت اہمیت ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے اور جس نے اپنی ماں کو خوش رکھا اور اس کی فرمانبرداری کی تو اسے جنت کا حقدار بھی قرار دیا۔پوری دنیا میں ماں کا عالمی دن تو منایا جاتا ہے مگر اس لفظ کی اہمیت بہت کم لوگ جانتے ہیں مگر جو لوگ اس ماں لفظ کی اہمیت و افادیت عزت و احترام سمجھ جاتے ہیں وہ دنیا میں تو کامیاب ہو تے ہی ہیں اور آخرت میں بھی اپنا ایک الگ مقام حاصل کر لیتے ہیں ۔جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو وہ سب سے پہلے اپنی ماں کو ہی پکارنا سیکھتا ہے جو ماں کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر افسوس آج کا بے حس معاشرہ اس ہستی کا وہ حق ادا نہیں کر پا رہا جس کی وہ حقدار ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جتنے بھی لوگ آج تک ترقی کی جانب گامزن ہوئے ہیں وہ صرف اپنی ماں کی دعاﺅں کی بدولت ہوئے ہیں۔ ماں کی عزت و احترام اور اس کے حقوق ادا کرنے سے نا صرف ہم اپنی ماںکو راضی کر سکتے ہیں بلکہ اس ماں سے 70گنا زیادہ محبت کرنے والے اپنے رب ِ جل جلال کو بھی راضی کر سکتے ہیں تو لہذا میں اس ماں کے عالمی دن کے موقع پر یہی پیغام دینا چاہوں گا کہ اپنے ماں باپ کی عزت کریں ان سے محبت کریں اور ان کے حقوق ادا کریں اور اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لیں کیونکہ زندگی ایک برف کی مانند ہے پگھل تو رہی ہے ایک دن ختم بھی ہو جائے گی ۔

کھلی جب آنکھ تجھے دیکھا
انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا
سیکھی تجھ سے دنیا داری
ماں تو ہے جگ سے پیاری

Advertisements