متحدہ پر پھر الزام ..

پاکستان میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں وہ تمام جماعتیں موروثی سیاست کو پروان چڑھاتی ہیں جو جاگیردرانہ سوچ کی حامل جماعتیں ہیں جو نہیں چاہتی کہ عام کارکن یا پاکستانی سیاست میں حصہ لیں کیونکہ اگر عام پاکستانی اور کارکن جب اپنے مسائل کو خود حل کرنے لگے گے یا آواز اٹھانے لگے گے تو ان جاگیرداروں کی غلامی کون کرےگا.پاکستان کی سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمینٹ کے اشیرباد سے وجود میں آی تو اس سے ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمینٹ میں بھی جاگیردرانہ سوچ کی حمایت پای جاتی ہے تو شاید اسلیے تمام جماعتیں انکی نظر میں بہتر ہیں سواے اس جماعت کے جو اپنے حقوق سے محرومی اور زیادتیوں کے ری ایکشن میں عوام کی بھرپور طاقت سے ابھری .الطاف حسین کی قیادت میں عوام کی بھرپور حمایت سے بننے والی جماعت ایم کیو ایم شروع دن سے ہی جاگیر دار وڈیروں کو ناپسند ہے. ایم کیو ایم کے سیاسی جماعت بننے کے بعد عام عوام کو اپنے حقوق کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ملا جس سے وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکیں. ایم کیو ایم 1987 سے پاکستان میں ہونے والے انتیخابات میں حصہ لے رہی ہے . ایم کیو ایم نے پاکستان کی جاگیردرانہ و وڈیرانہ اور موروثی سیاست کی جماعتوں کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں اسی وجہ سے ایم کیو ایم کو سازشوں کا سامنا ہے. ایم کیوایم کو بنے ہوے 31 سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے مگر ساشیں آج بھی جاری ہیں. ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے فلسفے اور سوچ کو ختم کرنے اور انکے پیغام کو پھیلنے سے روکنے کے لیے انکے ہمدرد سپورٹر اور کارکنان کے خلاف ماضی میں ایک ریاستی آپریشن بھی کیا گیا جس میں ہزاروں اردو بولنے والے مہاجر اسلیے قتل کردیے گے کہ انھوں نے الطاف حسین کا ساتھ دیا. کراچی میں بننے والی جماعت کو سندھ تک محدود رکھنے اور دوسرے صوبے میں پھیلنے سے روکنے کے لیے ایم کیو ایم پر جھوٹے الزامات لگاکر دیگر صوبوں کی عوام میں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ انکا قائم کردہ جاگیردرانہ سوچ کا نظام یوں ہی چلتا رہے.ایم کیو ایم پر پابندی کیوں نہ لگای جاے کیونکہ جہاں صرف جاگیرداروں کو حکمرانی کی اجازت ہو جہاں عام عوام کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کی اجازت نہ ہو تو وہاں یہ بہت بڑا جرم اور دہشت گردی ہے کہ عام پاکستانی کو اپنے حقوق کے لیے پلیٹ فارم دیا جاے اور غریب متوسط طبقے کے پڑھے لکھے لوگوں کو ملک کی قانون ساز اسمبلیوں میں جاگیرداروں وڈیروں کے مد مقابل کھڑا کردیا جاے جو ظالم جابر اور کرپٹ موروثیت کی سیاست کرنے والوں کے لیے دھشت گردی اور ایک بہیت بڑے جرم کے مترادف ہے کہ جنہیں وہ غلام بناکر رکھنا چاہتے ہیں وہ اپنے مسائل خود حل کریں. الطاف حسین نے نہ صرف نوجوانوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا بلکہ پاکستان کو پڑھی لکھی قیادت سے متعارف کروایا اور سیاست میں خدمت کو متعارف کروانے والے بھی ایم کیو ایم کے قائد کا ہی کارنامہ ہے. الطاف حسین نے اپنے کارکنان ,منتخب نمایندوں ایم پی ایز ایم ان ایز اور سینیٹرز اور زمہ دران کو ہمیشہ قوم کی خدمت کا درس دیا جس کی مثال سابق صدر پرویز مشرف کا دور حکومت ہے جس میں انکے منتخب نمایندوں اور ناظمین نے جس طرح سے کراچی و حیدرآباد میں عوام کی خدمت کی اسے دنیا نے بھی سراہا اور انکے پلیٹ فارم سے2005 میں سٹی ناظم کراچی سید مصطفی کمال کو دنیا کا دوسرا بہترین مئیر کا خطاب بھی دیا گیا.
ایم کیوایم اپنے چیریٹی ونگ کے کے ایف کے تحت عوام کی خدمت کا کام بھی انجام دیتی ہے اور پاکستان میں جہاں بھی کوی مشکل پریشانی پیش آتی ہے تو کے کے ایف اپنی بساکھ کے مطابق ہر ممکن اقدام کرتا ہے ہم نے دیکھا چاہے 2005 کا بدترین زلزلہ ہو یا پھر تھر میں پڑنے والا قحط ہو خدمت خلق فاونڈیشن نے ہر بار ہر جگہ بڑ چڑ کر خدمت سرانجام دیں.
ایم کیوایم کے کارکنان کو ہر دور میں نامصائب حالات سے گزرنا پڑھتا ہے ایم کیو ایم کو کبھی سنبھلنے کا وقت نہیں دیا گیا اور ہمیشہ کسی نہ کسی سازش میں الجھا کر رکھا .اگر ہم انکے سیاسی دور کے 6 سال مشرف دور کے نکال دیں تو ایسا لگے گا کہ جو اپریشن ایم کیو ایم کے خلاف 1992 میں شروع کیا گیا وہ کبھی ختم نہیں ہوا بس مشرف دور میں تھوڑا ریلیکس ملا تو وہ وقت انھوں نے قوم کی خدمت میں لگادیا اور پھر مشرف دور کے ختم ہوتے ہی ان پر پھر سختی شروع کردی گی اور انھیں سندھ میں بھی پھیلنے سے روکنے کے لیے سازشیں تیز کردی گئیں. ان تمام الزامات پروپگنڈہ کا سلسلہ 2015 میں بھی اسی طرح جاری و ساری ہے جس طرح 1992 میں شروع کیا گیا تھا. دو سال پہلے کراچی جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ آپریشن 458 مجرموں کے خلاف ہے اور آپریشن کے آغاز پر ایک مانیٹرنگ ٹیم کا بھی کہا گیا تھا جو کہ آپریشن کی جانبدارانہ اور غیر جانبدرانہ اقدام کی مانیٹرنگ کریگی. کراچی میں جاری آپریشن کی سب نے حمایت کی اور ایم کیو ایم نے اپنے تحفظات کے باوجود کراچی آپریشن کی بھرپور حمایت کی. میں یہاں ایک بات بتاتا چلوں کہ جس طرح کراچی آپریشن 2013 میں 458 مجرموں اور بڑی مچھلیوں کی لسٹ دکھای گءتھی اسی طرح 1992 میں بھی 72 مجرموں اور بڑی مچھلیوں کی لسٹ دکھای گی تھی اور وہ آپریشن ایم کیو ایم کے خلاف موڑ دیا گیا تھا.ماضی کی طرح اس بار بھی کراچی آپریشن کوی مختلیف نہیں ہے مجرموں کے خلاف شروع ہونے والا اپریشن اب باقاعدہ ایم کیو ایم کے خلاف نظر اتا ہے.رینجرز اور پولیس دونوں قانون نافز کرنے والے ادارے اس میں حصہ لے رہے ہیں جو ہمیشہ سے یہ کہتے آے ہیں کہ کراچی آپریشن کسی جماعت کے خلاف نہیں مگر ایک بات ہر عام شخص کی زبان پر ہے کہ کراچی آپریشن ایم کیو ایم کے خلاف نہیں تو ماوراے عدالت قتل ایم کیو ایم کے کارکنان ہی کیوں ہوے , کیا کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنان کے اعلاوہ سب فرشتے ہیں کیا کراچی میں ہونے والے ہر جرم کے پیچھے ایم کیو ایم تھی اور لیاری , سہراب گوٹھ میں بھی ایم کیو ایم جرائم کرتی تھی , کراچی آپریشن میں کسی جماعت کے لیڈر کے گھر پر چھاپہ نہیں مارا گیا سواے ایم کیو ایم کے قائد کے گھر کے, یہ وہ سوال ہیں جو ہر عام و خاص کی زبان پر ہے اور یہ ہی سوال ایم کیو ایم کا بھی ہے.
ایم کیو ایم کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے سمجھ سے باہر ہے . ایم کیو ایم نے ہمیشہ عوام کے مسائل کے لیے بھرپور آواز اٹھای ہے اور ہر نامسائد حالات میں بھی ایم کیو ایم نے ہمیشہ افواج پاکستان اور قانون نافذکرنے والوں کی حمایت کی اور انکے حق میں ریلیاں بھی نکالی مگر پھر بھی ایم کیو ایم کے خلاف گھناونی سازشیں کرنا اور ملک دشمنی جیسے الزامات لگانا مناسب نہیں.ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو عوام سے دور رکھنے کے لیے پہلے ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپہ مارکر لائسنس یافتہ اسلحہ کو میڈ یا پر اس طرح پیش کیا گیا جیسے یہ کوی غیرقانونی اسلحہ ہو اور پھر اس سے بات نہ بنی تو 1999 میں سزاے موت کی سزا پانے والے اور پھانسی کے منتظر صولت مرزا سے پھانسی کے چند گھنٹے پہلے ریکارڈکیا گیا بیان میڈیا میں پیش کرکے الطاف حسین کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گی اس سے بھی بات نہ بنی تو ایم کیو ایم کے کارکنان و ہمدردوں کو گرفتار کرکے تشدد کے زریعے جھوٹے بیانات دلواے گئے مگر کچھ حازل نہ کرسکے. نبیل گبول کے استعفی سے خالی ہونے والی نشست این اے 246 کے ضمنی الیکشن کے دوران ناقدین کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ختم ہوگءہے حالیہ کراچی آپریشن کی وجہ سے ایم کیو ایم کمزور اور الطاف حسیں کی اپنی پارٹی پر گرفت کمزور ہوچکی ہے مگر این اے 246 کے ضمنی الیکشن میں جو عوام نے ایم کیو ایم پر اعتماد کا اظہار کیا اس کے بعد ایم کیو ایم کے مخالفین کے ہونٹ سل گئے اور 95,644 ووٹ لیکر تاریخی کامیابی کے زریعے سب کو چپ کروادیا مگر ابھی کہانی ختم نہیں ہوی تھی اور پھر 30 اپریل 2015 کو ضلع ملیر کے ایس ایس پی راو انور نے ایک پریس کانفرنس کے زریعے ایم کیو ایم کی قیادت اور رہنماوں کے خلاف الزامات کی پوچھاڑ کردی اور 2 افراد کو پکڑ کر دعوی کیا کہ انکا تعلق ایم کیو ایم سے ہے اور راو انور کے مطابق ایم کیو ایم دہہشت گرد جماعت ہے اور بھارت کی ایجنسی را کے لیے کام کرتی ہے اور اپنے جوش و جنون میں اتنے بہہ گئے کہ ساتھ ہی ایم کیو ایم کو دھشت گردوں سے زیادہ خطرناک قرار دے کر پابندی کا مطالعبہ بھی کردیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک سیاسی پریس کانفرنس تھی جو کی نہیں کروای گی تھی ایس ایس پی راو انور نے جنید و دیگر کو 29 اپریل کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا مگر ایم کیو ایم نے ایس ایس پی ملیر راو انور کے الزامات کو مسترد کرتے ہوے کہا کہ جس ریحان کو وہ 29 اپریل کو گرفتار کرنے کا دعوی کررہے ہیں اسے دراصل 26 فروری کو گرفتار کیاگیا تھا اور 27 فروری کو اسکی فیملی کی جانب سے گرفتاری کے خلاف عدالت میں پٹیشن بھی دائر کی گئی تھی, اور جنید جسے 24 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا اور اسکی فیملی نے 28 مارچ کو جنید کی گرفتاری کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی جو ریکارڈ پر ہے – ایم کیو ایم نے اپنی پریس کانفرنس میں حقیقت سے پردہ اٹھا کر راو انور ایس ایس پی کی پریس کانفرنس پر بہت سے سوالات کھڑے کردیے ہیں -متحدہ قومی موومینٹ جس کے 25 ایم این ایز ,52 ایم پی ایز 8 سینیٹرز ہوں اور ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہے اور اس پر ایسے الزامات ملک کے لیے بہتر نہیں سازش اور سیاسی اسکرپٹ لکھنے والوں کو احتییاط برتنا چاہیے
ایم کیو ایم کی جوابی پریس کانفرنس کے بعد وزیراعلی سندھ نے راو انور کی پریس کانفرنس کے حوالے سے آی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی جس کے تھوڑی دیر بعد سندھ پولیس کے ترجمان کا بیان آیا کہ ایس ایس پی ملیر راو انور کو عہدے سے ہٹادیا گیا ہے مگر یہاں سوال تو یہ ہے کہ ایس ایس پی ملیر راو انور نے جو پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم پر الزامات لگاے اس حوالے سے کوی ٹھوس ثبوت یا شواہد ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو اسے عدالت میں پیش کریں ورنہ اس شخص کا نام واضح کردیں جس کے کہنے پر پریس کانفرنس کی گئی تھی .؟ ایس ایس پی ملیر کی پریس کانفرنس اور پھر انکی برطرفی نے سندھ حکومت اور سندھ پولیس کی کریڈیبلیٹی پر بہت بڑا سوالیہ نشان بنادیا ہے کیا ایس ایس پی ملیر کی پریس کانفرنس کسی مقاصد کے حصول یا پھر سیاسی جماعت کے میڈیا ٹرائل کے لیے کی گئی تھی؟کیا سندھ پولیس کو سیاسی انتیقام کے لیے کراچی میں استعمال کیا جارہا ہے ؟
کیا ایم کیو ایم کو عوامی مسائل کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے ایس ایس پی ملیر کے زریعے سیاسی انتیقام کا نشانہ بناگیا یا پھر عوام کی نمایندگی کی سزا -؟ خیر ابھی تو بات نکلی ہے دیکھتے ہیں کہاں تک جاے گی .

Advertisements