پاکستان کی سیاست میں جاگیردرانہ نظام نے عوام کو جکڑ کر رکھا ہوا ہے جس کی مثال ہمیں ہر جماعت میں مل جاے گی سواے اس جماعت کے جس نے اسٹیبلیشمینٹ کی کوکھ سے جنم نہیں لیا. جس نے ایک طلبہ تنظیم سے ایک سیاسی جماعت کو جنم دیا اور اس جماعت کے قائد نے سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے عوام کی خدمت کے لیے کمیٹی بنای اور پھر اس کمیٹی کو ایک ادارہ بنایا اور پاکستان سے جاگیردرانہ وﮈیرانہ نظام کے خاتمے اور مظلوم محکوم عوام کو آواز بلند کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم دیا اور جو کہا اسے سچ کرکے دکھایا وہ قائد اور کوی نہیں الطاف حسین ہے اور وہ جماعت کوی اور نہیں آج 2015 کی مقبول جماعت متحدہ قومی موومینٹ ہے.

الطاف حسین نے  یونورسٹی سے نکالے جانے کے بعد 18مارچ 1984 کو ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی اور اپنی جماعت کے بنیاد رکھنے کے ٹھیک 3 سال بعد 1987 کے بلدیاتی انتیخابات میں حصہ لیا جس میں عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے ایم کیو ایم کو کامیاب کروایا جس میں ایم کیو ایم کے قائد نے نوجوان قیادت کو متعارف کروایا جس میں ایم کیو ایم کے ﮈاکٹر فاروق ستار کم عمر مئیر منتخب ہوے .ایم کیو ایم نے اپنے پہلے ہی انتخابات میں خوب کامیابیاں سمیٹی اور 1987 کے بلدیاتی انتیخابات کے بعد اسکے اگلے سال 1988 کے عام انتیخابات میں بھی عوام نے ایم کیو ایم کے قائد پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور کراچی حیدراباد  میرپور خاص کے حق پرست امیدواروں کو بھرپور اکثریت سے کامیاب کروایا. مسلسل 2 انتیخابات میں الطاف حسین اور انکے جماعت کی کامیابی اسٹیبلیشمینٹ اور انکی پیداکردہ جماعتوں کو ہضم نہ ہوی اور جب سے ایم کیو ایم کے قائد کو عوام سے دور رکھنے اور انکی جدوجہد کو روکنے کے لیے سازشی ہتھکنﮈوں کا آغاز کردیا گیا. ایم کیو ایم کے قائد کو عوام سے دور رکھنے کے لیے پاکستان کی تاریخ کا پہلا خود کش حملہ الطاف حسین پر کیا گیا ,ریاستی اپریشن کے زریعے  ظلم کیا گیا, کارکنان کو لا پتہ کرکے ماوراے آیین قتل کیا گیا.کارکنان کا تحریک کو مزید اگے بڑھانے اور قائد کے تحفظ کے لیے الطاف حسین کو پاکستان سے باہر رہ کر قیادت جاری رکھنے کا مشورہ دیا ,ایم کیو سیم کے کارکنان کے بے حد اسرار پر الطاف حسین 1992 میں پاکستان سے لندن روانہ ہوگیے جس کے چند ماہ بعد ایم کیو ایم کے خلاف جناح پور نقشے کا ﮈھونگ رچا کر ریاستی اپریشن کیا گیا جس میں ہزاروں مہاجر نوجوان شھید ہوے ریاستی ظلم کے دوران ایم کیو ایم نے 1993 میں فوج کی نگرانی میں عام انتیخابات میں حصہ لیا اور اس میں بھی عوام نے ایم کیو ایم پر بھرپور اعتماد کیا اسی طرح 1996,1998,2002,2005,2007,2013, پچھلے 25 سالوں سے ایم کیو ایم  کامیابیاں سمیٹتی آرہی ہے تمام ظلم و ستم, قائد کے جلاوطنی کے باوجود ایم کیوایم جتنی منظم جماعت ہے اتنی کوی جماعت نہ ہے اور کبھی پاکستان میں کبھی ہوسکتی ہے. ایم کیو ایم کے پارلیمینٹیرینز , اور حق پرست ناظمین اور کونسلرز نے اپنے قائد کے ویژن اور ہدایت کے مطابق جو خدمت کی اسے دنیا نے بھی سراہا.

ایم کیو ایم پر ہمیشہ حکومت میں رہنے کا طنز کیا جاتا ہے تو ایسے ناقدین کو میں بتاتا چلوں کہ ایم کیو ایم کا حکومت میں رہنے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ جس عوامی امید کے ساتھ منتخب ہوے اور جسکی عوام کو ان سے امید ہے اس کے لیے جتنا ہوسکے کیا جاے. الطاف حسین نے عام عوام میں سے قیادت ابھاری اور جو لوگ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تھے ایسے پڑھے لکھے نوجوان کو گلیوں سے نکال کر جاگیردار وﮈیروں کے سامنے لاکھڑا کیا اور اس بات کو ناقدین بھی سرہاتے ہیں. عام عوام کو ایوان تک پہنچانے کا مقصد یہ ہے کہ عام عوام کے مسائل عام انسان ہی سمجھ سکتا ہے نہ کہ یہ جاگیر وﮈیرے . ایک کسان کی مجبوری و پریشانی ایک کسان ہی سمجھ سکتا ہے کوی سرمایہ دار یا جاگیردار نہیں.ایم کیو ایم 1988 سے عوام کی خدمت کررہی ہے جس کا منہ بولتا ثبوت ہر الیکشن میں بڑھتا ہوا ایم کیو ایم کا گراف ہے .

ایم کیوایم عوامی جماعت ہے جسکی وجہ سے یہ جاگیردرانہ وﮈیرانہ سوچ کی جماعتیں ایم کیو ایم کو حکومت میں کوی اختیار نہیں دیتی اسکے باوجود ایم کیوایم کے حق پرست ایم این اییز ایم پی اییز اپنے اپنے حلقے کی عوام کے لیے جو بھی کرسکتے ہیں کرتے ہیں جسے عوام بھی سمجھتے ہیں ایم کیوایم کو جنرل مشرف کے 2002 سے 2007 کے دور میں اختیار ملا تو ایم کیو ایم کے پارلیمینٹیریینز نے عوام کی بھرپور خدمت کی خواہ وہ کوی بھی شعبہ ہو دن رات جاگ کر پروجیکٹس پورے کیے 2005 میں سٹی ناظمین کراچی و حیدرآباد جب ایم کیو ایم کے منتخب ہوے تو ان 2,3 سالوں میں جو ریکارﮈ توڑ کام ہوے اسے تاریخی قرار دیا گیا جتنے ترقیاتی کام 2002 سے 2008 میں ایم کیو ایم نے کیے اتنے ترقیاتی کام پچھلے 67 سالوں میں بھی  کبھی نہیں ہوے تھے  اور یہ سب الطاف حسین کی تعلیمات و درس ہی تھا جس کی بنیاد پر حق پرست ناظمین  دن رات عوام کی خدمت میں وقف کرکے پوری دنیا میں پارٹی کی نیک نامی کا باعث بنے اور 2005 سے 2008 تک کے لیے کراچی میں منتخب ہونے والے سٹی ناظم سید مصطفی کمال دنیا کے بہترین مئیرز میں دوسرے نمبر پر رہے اور پھر اسی دوران 2005 کے بیہانک زلزلے میں متاثرین کی بحالی اور خدمت کے لیے جس طرح حق پرست ناظمین کونسلرز ایم این اییز ایم پی اییز اور کارکنان  نے ایم کیو ایم کے چئیریٹی ونگ خدمت خلق فاوئنﮈ یشن کے ساتھ جس طرح محنت کی اس کے لیے میرے پاس کوی الفاظ نہیں ہیں . ایم کیو ایم سے چاہے جتنے بھی اختلاف کیوں نہ ہو کسی کے مگر ایم کیوایم کے قائد اور کارکنان کا جو عوام کی خدمت کا جزبہ ہے وہ قابل تعریف ہے .

ایم کیو ایم سے اختلاف رکھنے والے چاہے جتنا ان سے اختلاف رکھتے ہوں مگر وہ اپنے اندر اس بات کو تسلیم کرتے ہونگے کہ عوام کی خدمت کے لیے جتنا پیش پیش الطاف حسین اور ایم کیو ایم ہوتی ہے اتنا پاکستان کی کوی سیاسی جماعت نہیں ہوتی شائد یہ ہی وجہ ہے کہ اج ایم کیو ایم کا حق پرستی کا پیغام اردو بولنے والوں تک محدود نہیں بلکہ سندھی بلوچی پختون پنجابی سرائیکی ہزارہ وال کشمیری گلگتی سب تک پہنچ رہا ہے جس نے جاگیرداروں سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کی جڑیں ہلادیں ہیں اب پورے ملک کی عوام اپنے بہتر مستقبل کے لیے  امید کی  اخری کرن الطاف حسین کو سمجھتی ہے 1990-91 میں مائنس الطاف حسین کا خواب دیکھنے والوں کا خواب آج2015 میں بھی انکا خواب ہی ہے جو کبھی پورا نہیں ہوسکتا. ایم کیو ایم کے کارکنان کی اپنے قائد سے محبت قابل دید ہے جسے کوی جھٹلا نہیں سکتا. الطاف حسین پچھلے 25 برسوں سے پاکستان سے جلاوطن ہیں اور اس کے باوجود ملک سے باہر رہ کر اتنی  منظم طریقے سے اتنی بڑی جماعت کی قیادت کرنا ایک بہت قابل تعریف کارنامہ ہے جسکی دنیا کی تاریخ میں کوی مثال نہیں ملتی.الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو تنقید کی نگاہ سے دیکھنے والوں کو چاہیے کہ ایک نگاہ انکی اچھاییوں پر بھی ﮈال لی جاے تو کوی حرج نہیں ,  پاکستان کے مبصرین اینکرز قلم نگار  کو چاہیے کہ وہ بھی اپنے قلم یا کسی بھی پلیٹ فارم سے عوام کے شعور کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں جہاں کسی سیاسی جماعت کو آپ برایوں سے جوڑ کر عوام میں غلط تاثر پیدا کرتے ہیں تو کبھی بھولے سے اپنے قلم اور زبان سے حقیقت بیان کرکے انکے اچھے کاموں کی بھی تعریف کردیا کریں.

Advertisements