کراچی میں رواں ماہ ہونے والا این اے 246 ضمنی الیکشن ایک عام انتیخابات یا الیکشن کے طور پر پورے پاکستان میں پیش کیا جارہا ہے جیسے یہ سیٹ کوءحادثے کے طور پر خالی ہوی ہے تو میں لاعلم یا پھر جن پاکستانیوں کو کراچی کے این اے 246 کا نہیں معلوم تو میں ایسے پاکستان کے عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر ایم این اے بننے والے نبیل گبول کے استعفی کے بعد سیٹ خالی ہوجانے کی وجہ سے وہاں 23 اپریل کو پولنگ ہوگی.حلقہ این اے 246 لیاقت آباد , عزیزہ آباد ,کریم آباد,یاسین آباد, شریف آباد , فی?رل بی ایریا و دیگر علاقوں پر مشتمل ہے جہاں کی اکثریت اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے.اور اس ہی حلقے میں ایم کیو ایم کا مرکز بھی موجود ہے جسے لوگ 90 کے نام سے جانتے ہیں. حلقہ این اے 246 کو ایم کیو ایم کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ وہی حلقہ ہے جہاں سے ایم کیو ایم کے قائد نے تعلیمی ادارے سے نکالے جانے کے بعد گلی کوچوں تک اپنا پیغام پھیلانے کا آغاز کیا تھا. می?یا کراچی کے حلقہ این اے 246 کے ضمنی الیکشن کو غلط انداز میں پیش کررہا ہے جیسے اس حلقہ کی سیٹ کسی ناگہانی حادثے کی وجہ سے خالی ہوءتھی تو میں اپنے پڑھنے والوں اور پورے پاکستانی قوم کو بتانا چاہوگا کہ ایم کیو ایم ایک منظم جماعت ہے. اور اسی وجہ سے قومی و بین الاقوامی سطح پر خاصہ مقبولیت رکھتی ہے. حلقہ این اے 246 پر ایم کیو ایم کے قائد نے جس بڑے پن کا مظاہرہ کرکے سردار نبیل گبول کو اپنے گھر کی سیٹ سے ایم این اے منتخب کروایا مگر گبول صاحب الطاف حسین کے بڑے پن کا مان نہ رکھ سکے اور مسلسل تنظیم کے اسٹریکچر کو باے پاس کرنے ,نظم و ضبط کی دھجیاں بیکھیرنے اور اپنے حلقے میں عدم توجہی کی بنیاد پر ان سے استعفی لے لیا گیا اور ایم کیو ایم کے رہنما ایم این اے ?اکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنی موجودگی میں گبول صاحب کے ساتھ جاکر استعفی قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں جمع کروایا.گبول صاحب کا ماضی دیکھا جا? تو اس بات میں کوءدو را? نہیں کہ وہ جس پارٹی کو چھوڑ کر ایم کیو ایم میں شامل ہو۱ تھے اس جماعت کے مائن? سیٹ کی وجہ سے وہ اپنے آپکو شائد ان فٹ سمجھتے ہوں جس کی وجہ سے انھوں نے ایسا عمل کیا ہو . ایم کیو ایم کو ان سے استعفی لینے میں یا استعفی کے بعد کوءدشواری پیش نہیں آءہوگی کیونکہ انھیں اپنے ووٹرز پر اعتماد ہوگا کیونکہ پچھلے 25 سال سے یہ سیٹ ایم کیو ایم کے پاس ہے. پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں حلقہ این اے 246 کی سیٹ پر پنجہ آزماءکرچکی ہیں مگر 1988 سے لیکر 2015 اپریل تک جتنے بھی الیکشن ہوے ہیں تمام عام انتیخابات اور بلدیاتی انتیخابات میں اس حلقے کی عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت کے زریعے ایم کیو ایم پر ہی اعتماد کا اظہار کیا ہے. مگر اس ضمنی الیکشن میں ایم کیو ایم کے تمام حریفوں کو نظر انداز کرکے پاکستان تحریک انصاف کو اصل حریف قرار دے رہے ہیں شائد انکی یادداشت بہت کمزور ہے انھیں کراچی میں چند ماہ پہلے ہونے والے ضمنی الیکشن یاد نہیں جس میں بھی تحریک انصاف نے بھرپور حصہ لیا تھا مگر کراچی کی عوام نے انھیں یکسر مسترد کردیا اور تحریک انصاف کے امیدوار کی ضمانت بھی ضبط ہوگءتھی.ایم کیو ایم سے پہلے کراچی کی عوام جماعت اسلامی کو ووٹ دیتی تھی مگر ایم کیو ایم نے اپنے عمل و کردار سے کراچی کی عوام کے دلوں میں گھر کیا سیاست سے پہلے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین صاحب نے سیاست میں خدمت کو متعارف کروایا. ایم کیو ایم نے کراچی کی عوام کی خدمت کرکے جماعت اسلامی کو ری پیلیس کیا اور جب سے ایم کیو ایم پر عوام نے بھروسہ کیا ہے تب سے جماعت اسلامی اپنی کھوءہوءحیثیت اور کراچی کی عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل نہ کرسکی ہے. جماعت اسلامی ہر الیکشن میں اپنا امیدوار کھڑا کرتی ہے مگر ہر بار اسے کراچی کی عوام اپنے ووٹ کے زریعے مسترد کردیتی ہے جو تحریک انصاف و دیگر کے لیے بہت بڑا سبق ہے. جو لوگ کراچی میں تحریک انصاف کو کراچی کی عوام کے لیے ایم کو ایم کا متبادل سمجھتے ہیں ان سے میرا سوال ہے کہ تحریک انصاف کے چیرمین یا کو ئی بھی انکا لیڈر ایسا ہے جس نے کبھی کسی فورم پر کراچی کے عوام کے مسائل کے حل اور ان کے حق کے لیے آواز بلند کی ہو ? آخر خیبر پختونخواہ میں ایسا کیا کارنامہ انجام دے دیا خان صاحب نے جس کی بنیاد پر کراچی کی باشعور عوام انکو ووٹ دے مجھے تو تحریک انصاف کا ایم کیو ایم کے گڑھ میں الیکشن لڑنا سمجھ سے بالاتر ہے ایک طرف تو عمران خان صاحب کہتے ہیں کہ پاکستان میں کوءمہاجر نہیں سب پاکستانی ہیں اور جب کراچی میں ووٹ کی بھیک مانگنے آتے ہیں تو انکشاف کرتے ہیں کہ وہ آدھے مہاجر ہیں , ایک طرف ایم کیو ایم کے ووٹرز اور کراچی والوں کو زندہ لاشوں جیسے دیگر مغلظات سے پکارتے ہیں اور انھی سے ووٹ مانگنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں میری نظر میں عمران خان صاحب لیڈرشپ کی اہلیت نہیں رکھتے ان میں فیصلہ سازی کا فقدان ہے. میں نہیں سمجھتا تحریک انصاف کراچی میں ایم کیو ایم کو ہرانے کی یا اسکے متبادل کی اہلیت رکھتی ہے. کراچی کی عوام کا ایم کو ایم پر اعتماد کے پیچھے الطاف حسین اور انکی جماعت کی 35 سال کی محنت اور خدمت ہے جسے کراچی کی عوام فراموش نہیں کرسکتی. کراچی میں چور دروازے سے ایم کیو ایم سے 2,3 سیٹیں تو چھینی جاسکتی ہیں مگر کراچی کی عوام کی اکثریت کو ایم کیو ایم سے علیحدہ نہیں کرسکتے. جو لوگ مبصرین کالم نگار اینکر پرسنز تجزیہ نگار تحریک انصاف کو ایم کیو ایم کے مقابل سمجھ رہے ہیں یا قرار دے رہے ہیں دراصل وہ حقیقت سے نظریں چرارہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ایم کیو ایم ایک بہت منظم جماعت ہے جس کا مقابلہ تحریک انصاف کی بس کی بات نہیں. می?یا پر ایم کیو ایم کا می?یا ٹرائل کرنے کے بجاے این اے 246 کے نتائج کا انتیظار کرنا چاہئیے کیونکہ این اے 246 کا ضمنی الیکشن 23 اپریل کو اپنا فیصلہ ووٹ کی طاقت سے سنادےگا

Advertisements