متحدہ قومی موومینٹ پاکستان کی چوتھی اور سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے متحدہ قومی موومینٹ پاکستان کی تاریخ کی پہلی اور واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ایک طلبہ تنظیم کے بطن سے جنم لیا اور ملکی سطح پر انقلاب برپا کردیا ایم کیو ایم کی ایک اور خاص بات یہ ہے ان کا قائد ایک ایسا شخص ہے جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوا بلکہ اس قائد نے اپنی صلاحیتوں سے اپنے نام کا لوہا منوایا اور جاگیردار وڈیروں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر 98 فیصد غریب مظلوم محکوم عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی. ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین نے نہ صرف غریب متوسط طبقے کی نمائندگی کی بلکہ عام غریب عوام کو اپنے دیے ہوے پلیٹ فارم ایم کیو ایم سے قانون ساز اسمبلیوں تک پہنچایا اور جاگیردار وڈیروں کے سامنے لاکھڑا کردیا اور ملک میں موجود غریب متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے باشعور نوجوانوں کو قیادت کے طور پر متعارف کروایا جو حقیقت میں انقلاب سے کم نہ تھا. ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے 18 مارچ 1984 کو ایم کیو ایم کی بنیاد رکھ کر غریب محکوم اور حقوق سے محروم عوام کو زبان دی اور ایک ایسا پلیٹ فارم متعارف کروایا جس نے جاگیردار وڈیروں کے پیروں سے زمین ہی کھینچ لی
الطاف حسین اور انکی جماعت نے نہ صرف انسانیت کی خدمت کا دعویٰ کیا بلکہ اس دعوی کو عملی جامہ بھی پہنایا آج ایم کیو ایم کے قیام کو 31 سال ہوگئے اور آج بھی ایم کیو ایم اور اس کا فلاحی ادارہ خدمت خلق فاو¿نڈیشن انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے جس کی مثال نہیں ملتی چاہے وہ 2005 کا زلزلہ ہو یا کوئی اور قدرتی آفات ہوں پورے ملک پاکستان میں جہاں جہاں الطاف حسین صاحب کو انسانیت کی خدمت کا موقع ملا وہاں وہاں انکی ہدایت پر فلاحی ادارے خدمت خلق فاو¿نڈیشن نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور صوبہ سندھ کے شہر تھرپارکر میں قحط اور خشک سالی سے متاثرین کی مدد کے لیے جو اقدام ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین کی ہدایت پر ایم کیو ایم اور انکے فلاحی ادارے کے کے ایف نے کیے وہ قابل ستائش ہیں
ایم کیو ایم اپنا 31 واں یوم تاسیس منارھی ھے .ایم کیو ایم نے اپنی بنیاد 18مارچ 1984 سے لیکر18 مارچ 2015تک بے پناھ کٹھن مراحل اورمشکلات کا سامنا کیا اس کے باوجود ایم کیو ایم اور عوام کا رشتہ کمزور نہ کیا جاسکا بلکہ متحدہ قومی موومینٹ آج اپنے قیام کے 31 سال میں اتنی مضبوط سے مضبوط تر ہوگئی ہے کہ آج وطن عزیز پاکستان کے لیے ترقی کا ضامن بن چکی ہے اور نوجوانوں کے لیے آخری امید کی کرن ہے ویسے تو ایم کیو ایم کو اپنے سیاسی کیریر میں کبھی اختیار نہیں ملا مگر جب 2005 میں پرویز مشرف صاحب کے دور اقتدار میں بلدیاتی انتخابات کے زریعے جب تھوڑا ہی اختیار ملا تو کراچی و حیدرآباد سے الطاف حسین صاحب کے دیے ہوے پلیٹ سے منتخب ہونے والے ناظمین نے اپنی قائد کی رہنمائی میں وہ ترقیاتی کام کیے کہ جس کے بعد کراچی و حیدرآباد کا نقشہ ہی تبدیل ہوگیا جو اج پاکستان اور پوری دنیا میں سہرایا جاتا ہے مگر افسوس کہ 2009 کہ بلدیاتی نظام کے ختم ہوجانے کے بعد سے سندھ کے تمام شہروں کی حالت ابتر سے ابتر ہوجاتی جارہی ہے جو ایک تشویشناک بات ہے پاکستان پیپلزپارٹی 2008 سے دور اقتدار میں ہے نہ صرف سندھ بلکہ پورا پاکستان ترقی کے بجاے اور بدحالی کا شکار ہوتا جارہا ہے ایم کیو ایم کو اپنے 31سالہ سیاسی دور میں صرف 5 سال اختیار ملا جس میں انھوں نے اپنا رول ماڈل پیش کرکے عوام کے سامنے رکھ دیا.
ایم کیو ایم کے قائد نے ہمیشہ مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضا قائم رکھنے کے لیے اپنا عملی کردار ادا کرکے تمام مسالک کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا جو ایک بہت بڑی کامیابی کے مترادف ہے جو تمام سیاسی جماعتوں سے قدر ے مختلیف ہے ایم کیو ایم اپنے قائد کے کردار اور قول و فعل کی وجہ سے عوام میں زیادہ مقبول ہے کیونکہ کسی بھی سیاسی یا انقلابی جماعت کی نیت کا اگر آپکو پتہ لگانا ہے تو سب سے سے پہلے اس جماعت یا تحریک کے قائد کے کردار اور اس کے قول و فعل کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور ایم کیو ایم کی عوامی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ الطاف حسین اور انکا ویڑن ہے
پاکستان کے باشعور عوام اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ ایم کیو ایم ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے اور آج پورے پاکستان کی تمام اکائیاں الطاف حسین کے دیے ہوے نظریے کو سمجھتے ہوے ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کررہی ہیں جو ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لیے خوش آئند بات ہے ملک کی تمام قومیت تمام مسالک کے لوگ اور تمام اکائیاں الطاف حسین کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں.
ایم کیو ایم کا کردار مثالی ہے جس میں کوئی دو راے نہیں کہ ایم کیو ایم ایک قومی جماعت ہے ایم کیو ایم پاکستان کی ترقی میں اہم رول ادا کرتی آئی ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی اسی لیے کہا جارہا ہے کہ ایم کیو ایم ہی پاکستان کو ترقی کی جانب گامزن کرسکتی ہے کیونکہ ایم کیو ایم کے پاس وہ قائد ہے جسکا مقصد ملک میں غریب متوسط طبقے کی حکمرانی قائم کرنا پاکستان میں عدل ، میرٹ کا نظام قائم کرنا اور ملک میں بسنے والی تمام اکائیوں کو برابر کے حقوق دلوانہ ہے ایسے منشور/ نظریے کے لیے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا ساتھ ضرور دینا چاہیے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ یہ جاگیردار وڈیرے سرمایہ دار یوں ہی ہم پر حکمرانی کرتے رہینگے نوجوان نسل کو اپنے اچھے برے کی تمیز کرنی ہوگی کیوں کہ دھرنوں اور لیپ ٹاپس سے قوموں میں تبدیلی یا شعور نہیں آتا اور نہ موروثی سیاست کسی قوم کو آگے لیکر جاتی ہے ایم کیو ایم نہ تو جاگیردارانہ وڈیرانہ سرمایہ درانہ لوگوں کی جماعت ہے اور نہ موروثیت کی جماعت ہے
اگر دھرنوں سے قوموں کی تقدیریں بدلتی ہیں تو نیلسن مینڈیلہ نے حقوق کی تحریک نہ چلائی ہوتی بلکہ دھرنا دیا ہوتا ہمیں سوچنا ہوگا کہ قومیں دھرنوں سے شعور حاصل کرتی ہیں یا فکر،نظریے ،سوچ یا عملی اقدامات سے؟؟

Advertisements