پاکستان میں مسلسل دھشت گردی نے حکومت کی سیکیورٹی پالیسی کی قلعی کھول دی ھے جس سے صاف ظاھر ھے کہ ھمارے حکمران عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں بالکل ناکام ھے جب رواں سال 2015 کا آغاز ھوا تو پوری قوم سانحہ پشاور اسکول کے سوگ و غم میں مبتلا تھی اور سانحہ پشاور اسکول کے بعد امید کی جارھی تھی کہ دھشت گردی کے خلاف اب کوی فیصلہ کن پالیسی تیار کی جایگی جس کے بعد دھشت گردوں کو کمزور کیا جاے گا مگر افسوس تمام تر چیزیں بس امید تک ھی محدود رھییں . پاکستان میں ایسا کوی شھر نھیں جو دھشت گردوں سے محفوظ ھو پاکستان میں سیاستدانوں کا کام بس کسی بھی دھشت گردی کے واقع کے بعد بس مزمت کرنا یا اظھار افسوس کے سوا کچھ نھیں .کیا جمھوریت اسی کا نام ھے ؟ عوام مرتی رھے اور جمھوری حکمران بس اپنی کھوکھلی مزمت تک محدود ھیں. کیوں؟ کیا ھم نے ماضی سے کچھ نھیں سیکھا؟اور اب ھماری سیکیورٹی کا یہ عالم ھے کہ پاکستان کا دارالحکومت اسلامآباد بھی محفوظ نھیں. , 18 فروری کو اسلام آباد میں امام بارگاھ قصر سکینہ پر دھشت گردی کا حملہ کیا گیا مگر امام بارگاھ کے باھر سیکیورٹی پر معمور سیکیورٹی اھلکاروں نے جان پر کھیل کر بڑے نقصان سے بچا لیا اور دھشت گرد سیکیورٹی گارڈز کے اگے بے بس ھوگے اور اپنے ناپاک ارادوں میں ناکام ھوتا دیکھ کر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس میں دو افراد شھید ھوے اور حملہ آور نے امام بارگاھ کے مرکزی گیٹ پر ھینڈ گرینیڈ حملہ کیا جس کا سے حملہ آور کی بھی موت واقع ھوی. اسلا م اباد میں قصر سکینہ امام بارگاھ پر 2009 میں بھی دھشت گردی کا حملہ ھوچکا ھے جس میں متعدد افراد شھید و زخمی ھوے تھے اور اج 2015 میں پھر امام بارگاھ قصر سکینہ کو دھشت گردی کا نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی گءجس میں رضاکاروں نے جان پر کھیل کر مسجد میں موجود نمازیوں کو دھشت گردی کا نشانہ بننے سے بچایا.پاکستان میں ھر طرف بےیقینی کی فضا ھے پاکستان میں جمھوری نظام عوام کو تحفظ فراھم کرنے میں بالکل ناکام ھوگیا ھے دھشت گردی ایک بین الاقوامی جنگ ھے جس کی سب سے بھاری قیمت پاکستان کی عوام نے چکایءھے جو اج بھی دھشت گردی کی زد میں ھے جس کی بنیادی وجہ پاکستان کا جمھوری سیٹ اپ کا نااھل ھونا ھے جو اب تک دھشت گردی کے خلاف ٹھوس حکمت عملی نہ بنا سکا. ماضی میں ھم نےدیکھا کہ امریکہ میں 2001میں جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دھشت گردی کا حملہ کیا گیا تو اس کے بعد امریکی حکام نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اور دھشت گردی کے ناسور سے اپنی عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے ایسی حکمت عملی بناءکہ اس کے بعد ایسا کوءواقع دوبارا پیش نھیں آیا. اگر ھم اپنے ھمساے ملک بھارت کی جانب دیکھیں تو وھاں چند سال پیھلے ممبءکے مشھور ھوٹل پر دھشتگردوں نے حملہ کیا تھا جس میں کءافراد نے اپنی زندگی کی بازی سے شکست کھاءتھی جس کے بعد بھارتی حکمرانوں نے اس سے سبق حاصل کرکے ایسی حکمت عملی تیار کی کہ اس کے بعد اس طرز کا کوی واقع پیش نھیں آیا. مگر افسوس کہ 10سال سے زائد عرصے سے جاری دھشت گردی کی جنگ میں ھزاروں پاکستانی کی شھادت کے باوجود ھمارے حکمران امریکہ بھارت کی طرز کی کوءسیکیورٹی پلان ترتیب نہ دے سکے جو ھمارے حکمرانوں کی اھلیت کا منہ بولتا ثبوت ھے. پاکستان میں تواتر کے ساتھ مذھبی عبادت گاھوں پر دھشت گردی کے حملے پاکستان کے حالات کو مزید خرابی کی طرف لے جائنگے کیونکہ ھم نے دیکھا ھے رواں سال جس طرح سے خاص طور سے اھل تشیع کمیونیٹی کی عبادت گاھوں کو دھشت گردی کا نشانہ بنایا جارھا ھے جس سے اھل تشیع کمیونٹی میں بھت سے خدشات و تحفظات پا جاتے ھیں اگر یہ تحفظات دور نہ ھوے تو پاکستان میں دھشت گردی سے بھی بڑا محاز جنم لے لے گا جو پاکستان کے لیے بھت خطرناک ھوگا .پاکستان کے موجودھ حالات تقاضا کررھے ھیں کہ یا تو اب حکمراں دھشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھیکیں یا پھر اب یہ سیاست دان ھینڈذ اپ کردیں اور ملک کی باگ ڈور افواج پاکستان کے سپرد کردیں شائد یہ پاکستان کے جمھوری و سیاسی اشرافیہ کے بس کی بات نھیں کہ پاکستان کے عوام کو تحفظ فراھم کرسکیں.

Advertisements