images

حضرت علی کرم اللہ وجہیہ الکریم کا ایک بہترین قول ہے جسے ہمارے حکمران بھول جاتے ہیں کہ “کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کی.حکومت نہیں رہ سکتی. کراچی میں جس طرح میں شہریوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جارہی ہے اس پر حکمرانوں کو اللہ کے حضور معافی و توبہ کرنا چاہیے. روز کسی نہ کسی صورت کراچی سے لوگوں کی شہادتوں کی خبریں میڈیا میں گردش کرتی ہیں مگر آج تک کسی قاتل کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاسکا کیونکہ پاکستان میں قانون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے سیاسی حریف کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے عام عوام کا بھروسہ عدلیہ ،حکومت ، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں  سے بالکل اٹھتا جارہا ہے جس کی بنیادی وجہ انصاف کا نہ ملنا ہے مگر ان سب کے درمیان  ایک اور جز ہے جو پاکستان کے معاشرے کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ہمارا میڈیا اپنی اصل اہمیت کھوتا جارہا ہے شائد میڈیا کا کام یہ ہی ہے کہ  ایک مخصوص جماعت کا میڈیاٹرائل کیا جاۓ جو میڈیا پچھلے 20 سال سے کرتا آرہا ہے ایسا ہی میڈیا ٹرائل کا منہ بولتا ثبوت  گزشتہ چند روز سے جاری سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی بننے والی  2013 کی  جے آئی ٹی رپورٹ ہے   جو 2 سال تک میڈیا میں پیش نہ کی جاسکی مگر ایک انتہائی اہم موقع پر ہر بار کی طرح اس بار بھی ایک سانحہ کو جس میں 250 سے زائد  مزدور شہید ہوۓ اس سانحہ کی جے آئی ٹی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد  ایم کیو ایم کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اور سانحہ بلدیہ  ٹاؤن  مقدمہ کا  ابھی عدالت میں فیصلہ ہی نہیں ہوا تھا کہ ہمارے میڈیا نے اپنی عدالت لگالی اور اپنے ٹاک شوز میں ایم کیو ایم پر  الزامات کی بوچھاڑ کرنا شروع کردی جو ایک غیر اخلاقی  اور اسلام کے منافی ہے. یہاں متحدہ قومی موومینٹ مظلوم نظر آتی ہے کیونکہ ایم کیو  ایم پچھلے دو دیہایوں سے ظلم و بربریت  کا سامنا کررہی ہے اور ریاستی و غیر ریاستی عناصر نے ایم کیو ایم کے 17000 سے زائد کارکنان کو شہید  کیا اور سیکڑوں آج بھی لاپتہ  ہیں اس کے باوجود میڈیا ٹرائل زیادتی ہے
پہلے جناح پور نقشے کا الزام  لگایا گیا پھر حکیم سعید کیس میں ایم کیو ایم پر الزام لگا کر انکے کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور کئ کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا ہے مگر حق آنے کو ہے باطل مٹ جانے کو ہے اور جناح پور نقشہ کا ڈھونگ رچانے والوں کو منہ کی کھانی پڑی جناح پور نقشہ کا پول بھی کھل گیا اور چند سال پہلے ایک جنرل نے میڈیا پر اکر خود کہا کہ جناح پور نقشہ جھوٹ پر مبنی تھا اسی طرح حکیم سعید کیس میں ماورائے عدالت قتل ہونے والے فصیح جگنو شہید کو اپنی شہادت کے 14 سال بعد عدالت نے فصیح جگنو کو بے گناہ قراردیا مگر افسوس وہ اپنے بےگناہ ہونے کے باوجود پولیس کے تشدد سے اپنی زندگی ہار گیا.ماضی میں جس طرح مخالفین نے ایم کیوایم پر الزام تراشی بہتان لگاے سب نے منہ کی کھائی ٹھیک اسی طرح سانحہ  بلدیہ ٹاؤن میں ایم کیو ایم کو مورود الزام ٹھرانے والے منہ کی کھائیں گے کیونکہ سچائی کی ایک بہت اچھی بات یہ ہے کہ سچائی ایک نہ ایک دن سب کے سامنے ضرور آتی ہے . جے آئی ٹی رپورٹ کی قانونی حیثیت نہیں مگر اس کے باوجود  سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹی رپورٹ کو بریکنگ نیوز بنانا اور مخالف جماعتوں کا اس طرح سے ڈائریکٹ کسی جماعت پر الزام لگانا کسی سازش کا اشارہ دے رہا ہے آیاکہ یہ ایک جناح پور و دیگر سازشوں کی طرح ایک سازش ہے یا پھر ایم کیو ایم کو طالبان دہشت گردوں کی مخالفت اور افواج پاکستان کا ساتھ دینے کی بنیاد پر نشانہ بنایا جارہا ہے؟ ایم کیو ایم نے ہر سطح پر دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب میں افواج پاکستان کی حمایت کی ہے اورافواج  پاکستان کے حق میں  ریلیاں نکالی ہیں  جو پاکستان کی کسی سیاسی جماعت نے نہیں کیا آج تک مگر اس کے باوجود ایم کیو  ایم کے کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا جاتا  رہا ہے اور ایک طرف وہ جماعتیں ہیں جو داعش اور طالبان دہشتگردوں کی نہ صرف حمایت کرتی ہیں بلکہ وہ دہشتگردوں کو اپنے گھروں میں پناہ دیتے ہیں .جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ  کے ناظم کے گھر سے دہشتگردوں کے گرفتار ہونے ،دہشتگردوں کے نماز جنازہ میں امیر جماعت اسلامی و کارکنان کا شرکت کرنا اور دہشتگردوں کو شہید قرار دینے والوں کا میڈیا ٹرائل کیوں نہیں  کیا جاتا؟ ہمارا متعصب  میڈیا تحریک انصاف سے سوال کیوں نہیں کرتا کہ وہ دہشتگرد طالبان کو اپنا بھائی کہتے تھے اور انھیں خیبرپختونخواہ میں آفس کھولنے کی پیش کش کررہے تھے وہ طالبان دہشتگردوں کی مسلسل  دہشتگردی پر کھل کر آپریشن ضرب عضب کی حمایت کیوں نہیں کررہی ہے؟؟ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف جو داعش و طالبان کی حمایت یافتہ جماعتیں ہیں جس کے واضح ثبوت بھی موجود ہیں مگر پھر بھی اسے میڈیا پر ہائی لائٹ نہیں کیا جاتا آخر یہ دوہرا معیار  کیوں ہے سمجھ سے بالاتر ہے پاکستان میں دہشتگردوں کو اپنے گھروں میں پناہ دینا طالبان دہشتگردوں کی حمایت کرنا جرم یا غداری نہیں ؟؟؟؟؟ یا پھر اپنے حق کے لیے اور مظلوم عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا جرم ہے؟
پورا پاکستان اس وقت دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے افواج پاکستان آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے سیکورٹی ہائی الرٹ ہے پورے پاکستان کے تعلیمی اداروں پر دہشتگردی کے بادل چھاے ہوۓ ہیں . دو ماہ پہلے سانحہ پشاور اسکول پیش آیا جس میں کئ معصوم  بچے اور اساتذہ شہید و زخمی ہوۓ پھر رواں سال جنوری میں سانحہ شکار پور پیش آیا جس میں 30 سے زائد افراد شہید ہوۓ اور پھر فروری کے پہلے ہفتے میں کراچی و پاکستان کے کئ تعلیمی اداروں دھمکی آمیز خطوط ملے اور کراچی و پشاور میں تعلیمی اداروں   پر کریکر حملے ہوۓ مگر ہمارا میڈیا نے تمام بڑی خبروں کو نظر انداز کرکے ایک ایسے ایشو کو اٹھایا جس کی کوئ قانونی حیثیت نہیں پچھلے 2 سال دبی ہوئ یا چھپی ہوئی سانحہ بلدیہ ٹاون کی جے آئی ٹی رپورٹ {جو سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے}  کو جواز بناکر مخصوص جماعت کا میڈیا ٹرائل شروع  کردیا . ایسا  محسوس ہوتا ہے  کہ ایم کیو ایم کے میڈیا ٹرائل کے زریعے پاکستان کی عوام کی توجہ  تمام  اہم موضوعات سے ہٹانے کی کوشش اور ایم کیو ایم کو بدنام کیا جارہا ہے گزشتہ کئ ماہ سے دیکھنے میں آیا ہے کہ کراچی میں کوئی بھی شخص ملزم یا مجرم گرفتار ہوتا ہے تو اسے میڈیا  پر ایسے پیش کیا جاتا  ہے جیسے وہ  حقیقت میں ایم کیو ایم کا کارکن ہو.  میں اپنے میڈیا کے دوستوں سے پوچھنا چاہوںگا کہ  کیا پاکستان میں دہشتگردی کا کینسر ختم ہوگیا؟ بےروزگاری و غربت کا خاتمہ ہوگیا جو میڈیا ایک جے آئی ٹی رپورٹ کو ہاٹ ایشو کے طور پر ٹاک شوز کررہا ہے،میڈیا ایم کیو ایم  کے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل پر ٹاک شوز کیوں نہیں کرتا ؟ یہ جے آئی ٹی جھوٹ پر مبنی ہے یا حقیقت اس کا فیصلہ بھی ہو ہی جاۓ گا کیونکہ  سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ کے خلاف قانونی کاروائی کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا عندیہ  دے چکی ہے. پرنٹ و الیکٹرانک  میڈیا کو اپنی زمہ داری کا احساس  ہونا چاہیے اگر اسی طرح میڈیا اپنا منفی کردار ادا کرتا رہے گا  تو پاکستان کی عوام کو میڈیا کی آزادی سے کیا حاصل ہوا؟ پروپیگنڈہ اور  منفی و غیرضروری خبریں ؟؟؟

Advertisements