سندھ کے حالات نہ جانے کس طرف جارہے ہیں جو اہل دانش کے بھی سمجھ سے باہر ہیں سندھ میں امن و امان کی صورتحال حال سے بے حال ہے . گورنمنٹ آف سندھ کا وجود اب سندھ سے ختم ہوتا جارہاہے وزیراعلی سندھ آگر کہیں نظر آتے ہیں تو صرف سندھ اسمبلی میں اپنی نازک حالت کے باوجود صحت سے زیادہ تیز آواز میں چیختے نظر آتے ہیں ورنہ انکا کوئی وجود نہیں. پاکستان کے دوسرے بڑے صوبہ سندھ کی دوسری بڑی جماعت ایم کیو ایم کے شکوے بڑھتے جارہےہیں انکا ازالہ نہیں ہوپارہا اور ایم کیو ایم کا مہاجروں اور اردو بولنے والوں کے ساتھ ناروا سلوک کا سب  سے بڑا شکوہ اب طول ہوتا دکھائی دے رہاہے اور ایسے حالات میں گزشتہ دو روز قبل کراچی میں سی پی ایل سی کے چیف احمد چناے کے گھر چھاپہ مارنا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے جو بہت سے سوالات  کو جنم دیتا ہے‎ ‎کیا انکے  ساتھ ایسا  سلوک اس لیے کیا گیا کہ وہ اردو بولنے والی کمیونٹی سے تعلق رکھتے  ہیں؟ اگر یہ  چھاپہ محض مدعی کے الزام لگانے کی بنیاد پر مارا گیا تو ماضی میں کراچی میں ہونے والے ماورائے عدالت قتل اور دیگر  جرائم میں بھی مقتول  کے مدعی کئی لوگوں کو نام لیکرنامزد یا مورود الزام ٹھہرا چکے ہیں مگر  جب ایسا کوئی واقع  پیش نہیں آیا کہ مدعی کہ کہنے پر  کسی اہم شخصیت کے گھر چھاپہ مارا ہو . سی پی ایل سی چیف احمد چنائ کا کام شہریوں اور  پولیس کے درمیان رابطہ قائم کرنا ہےنہ کہ کسی مجرم کا ساتھ  دینا یا جرم میں ملوث ہونا ہے. احمد چنائ ایک عزت دار شہری ہیں اور  کراچی کے شہریوں کے لیے انکی  خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اس کے باوجود ٹاسک فورس کا انکے گھر پر  چھاپہ مارنا سمجھ سے بالاتر ہے کیا یہ مہاجروں سے عصبیت کا معاملہ ہے یا کچھ  اور اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا کیونکہ  یہ معاملہ ابھی زیر تشویش ہے .کراچی میں بگڑتی ہوئ صورتحال اور مسلسل ایم کیو ایم کے کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ کراچی آپریشن کی کریڈیبلٹی پر ایک بہت  بڑا سوالیہ نشان ہے جس سے پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے اس ماہ ایک درجن سے زائد ایم کیو  ایم کے کارکنان کو شہید کیا جاچکا ہے جس میں پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدلت قتل بھی شامل ہیں .سندھ حکومت و پاکستان پیپلزپارٹی اپنی تاریخی بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہے جس کی ہم جتنی مذمت کریں کم ہے تھر میں بچے مرتے رہے حکومت  نے انکی حفاظت اور ریلیف  کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا اسی طرح کراچی میں روز عام  شہریوں اور سیاسی کارکنان کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے مگر کوئی کراچی کے شہریوں کا درد محسوس کرنے والا نہیں ایسی جمہوریت کو آج عوام لعنت  بھیج رہی ہے جس میں انسانوں کی لاشوں کو جمہوریت کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے . امید ہے میرے  یہ   الفاظ رائیگاں نہیں جاۓگے  کوئی تجزیہ نگار یا کالم  نگار اس پر لکھنے سے کیوں قاصر ہے ؟  سندھ حکومت آئین کے  آرٹیکل 9،10 کے تحت بالکل  ناکام ہوچکی ہے لہذا وقت کا  تقاضہ ہے کہ  عوام کی جان و مال  کا تحفط یقینی بنایا جاۓ ورنہ  عوام کی خواہش اور امنگوں کے مطابق سندھ  میں مارشل لا لگادیا جاۓ کیونکہ   کراچی پاکستان کا معاشی  حب ہے اور پھر اسی طرح سے قتل عام جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی شام   عراق  اور لیبیا کی شکل اختیار کرجائے گا
آج پھر کراچی کی فضا سوگوار ہے پورا شہر سوگ میں ڈوبا ہوا ہے کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکن محمد سہیل احمد کے پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کے خلاف ایم کیو ایم کا  شدید احتجاج ، ایم کیو ایم کا  ملک گیر یوم سوگ اور سندھ میں پر امن ہڑتال کا اعلان ایم کیو ایم کے یومِ سوگ پر  تاجر  اور ٹرانسپورٹر حضرات نے کاروباری زندگی معطل کرکے کراچی میں  ایم کو ایم کے کارکن کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا اور مقتول کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا . کراچی میں پیش آنے والا ماورائے عدالت قتل کا یہ  36 واں واقع ہے ایم کیو ایم کے اب تک 36 کارکنان کو ماورائے عدالت کیا جاچکا ہے اور آج تک یہ سمجھ نہ آسکا کہ انکا جرم کیا تھا جنھیں عدالت میں بھی پیش  نہیں کیا جاسکا  اور پولیس کی  تحویل میں قتل  کردیا گیا ، کیا  عدالتی نظام پاکستان سے ختم کردیا گیا ہے یا کراچی کے شہریوں کے لیے کوئی عدالت ہی نہیں؟ جناب محترم یہ ایک ایم کیو ایم کے کارکن کی بات نہیں یہ ایک  انسانیت کی بات ہے کب کراچی کو انصاف ملے گا ؟ کس کے پاس کراچی کے امن و سکون کی چابی ہے ؟ حکومت سندھ تحفظ نہیں دے سکتی تو کم از کم کراچی کے شہریوں کو سکون  سے رہنے دے اب یہ سوال حل ہونا چاہئے کہ  آخر کب تک کراچی میں لاشیں گرتی رہے گی اور کب تک کراچی یوں ہی سوگ مناتا رہے گا؟ ہے کوئی جواب آپکے پاس . ایم کیو ایم کے خدشات اور انکے تحفظات خطرناک نہج تک جاسکتے ہیں اس پر وفاق کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا میاں نواز شریف صاحب کراچی میں گورنر راج لگائیں یا کچھ اور مگر کراچی کے حالات پر نظر ثانی کریں

Advertisements