پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے مگر پاکستان میں ہاکی کے شائقین سے زیادہ کرکٹ کے شائقین ہیں جو دل و جان سے کرکٹ میچ نہ صرف دیکھتے ہیں بلکہ کرکٹ سے بے حد محبت بھی کرتے ہیں دنیائے کرکٹ میں بہت سے ممالک ایک دوسرے کے روایتی حریف بھی ہوتے ہیں جب وہ ممالک مدمقابل ہوتے ہیں تو ایک اعصاب شکن میچ ہوتا ہے جیسے ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ جب پاکستان  بھارت ، آسٹریلیا انگلینڈ  ،اور ساوتھ افریقہ  ویسٹ انڈیز کے میچز ہوتے ہیں تو ہمیں صرف کرکٹ کا کھیل ہی نہیں بلکہ یہ ایک اعصاب شکن امتحان دیکھنے کو ملتا ہے. کیونکہ سب اپنی پسندیدہ ٹیم کو جیت کی کاگار پر دیکھنا چاہتے ہیں مگر  ہر کھیل میں ایک کی جیت ہوتی ہے اور ایک کی ہار ،کھیل کے اختیتام میں جیتنے والے جیت  کا جشن مناتے ہیں اور ہارنے والے مایوس ہوکر لوٹ جاتے ہیں .مگر اس جیت اور ہار کے درمیان شائقین کی دھڑکنیں نارمل نہیں دھڑکتی کیونکہ کرکٹ کو دنیائے کھیلوں میں سب سے زیادہ  لگن سے دیکھا جاتا ہے اور بہت سے لوگ اپنے اعصاب پر قابو نہیں کرپاتے اور دل کا دورہ پڑ نے سے زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں .
کرکٹ کے نئے ٹی 20 فارمیٹ نے کرکٹ کو تیز سے تیز ترین کردیا ہے گزشتہ 10 سالوں میں کرکٹ نے اپنی شکل تبدیل کرلی ہے اور دنیاے کرکٹ میں ابھرتے ہوۓ نئے کھلاڑیوں نے اپنے تیز ترین شارٹس سے کرکٹ کو اور رنگین بنادیا ہے اور اب پہلے کی نسبت کوئی بھی ورلڈ ریکارڈ زیادہ ٹائم تک رک نہیں سکتا گزشتہ روز 18 جنوری  2015 میں ساوتھ افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے میچ میں  دنیائے کرکٹ کا ایک بہت بڑا ریکارڈ قائم ہوا جس نے اس میچ کو الگ ہی رنگ دے دیا ویسے تو دنیائے کھیل میں ریکارڈ بنتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں آج سے 17 سال پہلے پاکستان کے آل راونڈر شاہد  خان افریدی نے 37 گیندوں پر 102 رنز بناکر عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا جو 16 سال تک کوئی نہ توڑ سکا تھا مگر گزشتہ سال یکم جنوری جنوری 2014  کو نیوزی لینڈ کے کوری اینڈرسن نے 36 گیندوں پر سنچری اسکور کرکے شاہد خان آفریدی کا ریکارڈ بریک کیا مگر نیوزی لینڈ کے نوجوان بیٹسمین کوری اینڈرسن کا ریکارڈ زیادہ دیر نہ ٹک سکا اور ایک سال سترہ دن بعد جنوبی افریقی  اسٹار بیٹسمین اے بی ڈی ولیرز نے اپنے ہوم گراؤنڈ میں 18 جنوری 2015 کو ویسٹ انڈیز کے خلاف 16 گیندوں پر نصف اور 30 گیندوں پر سنچری مکمل کرکے عالمی  ریکارڈ قائم کرکے تاریخ رقم کردی . ڈی ولیرز نے  16 چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے مجموعی  طور پر 44 گیندوں پر 149 رنز بناے جو انفرادی کھلاڑی کی حیثیت سے بین الاقوامی ایک روزہ میچ کا عالمی ریکارڈ ہے.
اے بی ڈی ولیرز ایک جارحانہ بیٹسمین ہیں اور انھوں نے بہت جلدی ہی تینوں طرز کی کرکٹ میں اپنے جوہر دکھا کر اپنا لوہا منوالیا. اے بی ڈی ولیرز کی 2015 کے عالمی کرکٹ وڑلڈکپ سے قبل اس طرح کی پرفارمنس دیگر ٹیموں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کہ آیا باولرز اے بی ڈی ولیرز کے بلے سے اگلتے رنز کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی تیز پیچز پر کیسے روکے گے؟ وقت سے پہلے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن افریقہ ویسٹ انڈیز  اور بھارت آسٹریلیا اور انگلینڈ کی وڑلڈکپ سے قبل ون ڈے سریز ان ٹیموں کے لیے سود مند ثابت ہونگی. گزشتہ روز ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے تاریخی میچ اور اے بی ڈی ولیرز کی تاریخی اننگ نے کرکٹ شائقین میں وڑلڈکپ میچز کی بے چینی میں مزید اضافہ کردیا ہے کرکٹ شائقین 4 سال عالمی وڑلڈکپ کا انتظار کرتے ہیں اور جیسے جیسے دن قریب آتے ہیں ویسے ویسے شائقین کے جوش و خروش میں اضافہ ہوتا جاتا ہے
اے بی ڈی ولیرز شاندار اننگ کھیلنے پر مبارکباد کے مستحق ہیں اور جب میں نے سوشل میڈیا  ٹیوٹر وغیرہ پر تمام شعبوں اور دیگر ممالک کے لوگوں کو جنوبی افریقی بیٹسمین اے بی ڈی ولیرز کی شاندار اننگ پر مبارکباد دیتے دیکھا تو اچھا لگا اور محسوس ہوا سچ میں کسی بھی کھیل اور مداحوں کے درمیان کوئی سرحد نہیں ہوتی. مگر افسوس پاکستان میں کرکٹ شائقین اپنے ہوم گراونڈز میں اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو کھیلتا دیکھنے سے محروم ہیں عالمی ممالک کو چاہیے کہ  پاکستان کے ساتھ دوہرا ختم کرے اور پاکستان میں کرکٹ کے مداحوں کو بھی نئے ریکارڈز بنتے اور ٹوٹنے دیکھنے کا موقع ملے کیونکہ کسی بھی  کھیل کی کوئی سرحد یا باؤنڈری نہیں ہوتی اور دنیائے کھیل کے کھلاڑی ایک سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں پاکستان کی عوام کے جذباتِ کو مدنظر رکھتے ہوے تمام ممالک کی  ٹیموں کو بھی پاکستان اکر کھیلنا چاہیے تاکہ پاکستان میں کرکٹ کے شائقین بھی لطف اندوز ہوسکیں

Advertisements