B3R-BorIQAAnN9t

انسان کی دو بڑی خامیاں ہیں ایک سوچتے رہنا عمل نہ کرنا اور دوسری سوچے سمجھے بغیر عمل کرڈالنا آرمی پبلک اسکول میں دہشتگردی سے قبل حکومت نے ڈیڑھ سال تک دہشتگردی سے نمٹنے کی کوئی مربوط حکمت عملی تیار نہ کی ،اور آپریشن ضرب عضب کی حمایت بھی رسمی بیانات تک محدوٹ رہی اور اب جلدی جلدی میں “اب نہیں تو کبھی نہیں”کے اصول پر تیارکردہ نیشنل ایکشن پلان کا بڑا حصہ محض سوچے سمجھے بغیر عمل کے لیے چل پڑنے کی تصویر معلوم ہوتا ہے .
آج پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور ملک میں برسر اقتدار حکمران ٹولہ بدترین جمہوریت کی علامت ہے.ملک میں جاری دہشتگردی کے خلاف چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے آپریشن ضرب عضب شروع کرکے حب الوطنی  احساس زمہ داری  بہادری اور جراتمندی کا ثبوت دیا.
آج عام پاکستانی “سویلین شریف “کے بجاے فوجی جنرل “شریف”کی طرف دیکھ رہا ہے.پاکستان بھر میں آپریشن ضرب عضب کو منظم و مربوط انداز میں اگے بڑھنے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج  پولیس  تمام وفاقی و صوبائی ایجنسیوں کی “یونیٹی آف کمانڈ”وقت کی ضرورت ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک طے شدہ سمت میں ٹھوس عملی اقدامات کرسکیں.پاکستان کے حکومتی ارکان کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی دلیرانہ انداز سے دہشتگردوں ( طالبان و داعش ) اور مذہبی انتیہا پسندوں کا کھل کر نام نہیں لینا چاہتا ماسوائے چند ایک کے.
“شریفانہ جمہوریت “کا کارنامہ یہ ہے کہ اس دور میں صرف 2 شعبوں میں ملک نے ترقی کی ہے ایک غربت اور دوسرا دہشتگردی،باقی تمام  شعبہ جات کی کارکردگی الٹ ہے.پاکستان  اسلامی دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے.پاکستان اقوام عالم کو درپیش دہشتگردی کے خطرہ کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے اس نازک ترین دور میں پاکستان کا وزیرخارجہ کا عہدہ خالی ہے . نواز حکومت نے نااہلی کے نئے ریکارڈ  مرتب کیے ہیں.
پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طویل المدت اور موثر حکمت عملی اور درست اور تازہ ترین  اعدادوشمار اور نئ مردم شمار کی اشد ضرورت ہے.18 ویں ترمیم کے بعد اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ گراس روٹ پر عوام کو اقتدار میں شریک کرنے کے لیے جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کرواکر لوکل گورنمنٹ سسٹم تشکیل دیا جاۓ.تاکہ عام آدمی کے شہری مسائل باآسانی حل ہوسکیں.ملک میں چوکیداری نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے

B5f_uslCMAAtFWcB7PXSwyCMAAQ5CK  B3LOltFCcAEF-84 B5gCC1XCQAAxmw1

پاکستان میں جاگیرداری نظام مذہبی انتیہا پسندی کا سب سے بڑا فنانسر ہے. آج تک جاگیرداروں نے کوئی اسکول نہیں بنوایا بلکہ اپنے علاقوں کے  اسکولوں کو اوطاقوں میں تبدیل کرنے اور اس میں بھینس بکریاں باندھنے کی خبریں میڈیا میں گردش کرتی رہتی ہیں.جاگیردار  مافیا عام  پاکستانیوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق علم  سےدور رکھنے کے لیے منظم انداز میں  مدرسہ سسٹم کو پروموٹ کرتے ہیں جس سے ملک میں انتیہا پسندی کو فروغ ملتا ہے اور مذہبی جنونیت پروان چڑھتی ہے .
انتیہا پسندی کے ساتھ پروان چڑھتی نئ نسل میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنھیں جہاد کے جان لیوا ہر بندوق بردار میں خالد بن ولید یا صلاح الدین ایوبی کی جھلک دکھائی دیتی ہے.ایسے مذہبی رجحانات کی روک تھام  اور انتیقام کا جذبہ پیدا کرنے والے حالات کا سدباب ہی جاے پناہ ہے.
اس طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے کہ ایسے معاشرے میں جہاد کے نام پر دہشتگردی میں استعمال ہونے والوں کو کیسے بھٹکنے سےبچایا جاسکتا ہے

B3HrVrtCQAAB8fw B3HrVpSCAAE3Zn5

انتہا پسندی پھیلانے والے گروہ اور انکے پشت پناہی پر موجود عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے جو پاکستان میں انتیہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں.مدارس کو ڈسپلن میں لایا جانا انتہائی ضروری ہے
سابق امیر جماعت اسلامی منور حسن ایک جگہ کہتے ہیں کہ “جب تک قتال فی سبیل للہ نہیں ہوگا ملک کا نظام صحیح نہیں ہوگا” اور اس سے قبل جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے درندہ صفت دہشتگرد حکیم اللہ محسود کو “شہید” قرار دے چکے ہیں جو جماعت اسلامی اور انکے نگرانی میں چلنے والے مدارس ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے،کیا 50000 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو شہید کرنے والے طالبان دہشتگرد “شہادت”کا رتبہ حاصل کرسکتے ہیں ؟ جماعت اسلامی  کا کردار مسلسل مشکوک نظر آرہا ہے، شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں انکے سابق امیر و دیگر رہنماؤں کا دہشتگردوں کے ساتھ ہلاک ہونا ،اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم کے کمرے سے القائدہ کے لوگوں کا ملنا ملک دشمنی کا کھلا ثبوت ہے جو کسی سے ڈھکا چھپا  نہیں مگر اس کے باوجود کسی میں جرات نظر نہیں آتی کہ وہ جماعت اسلامی سے انکے طالبان دہشتگردوں کے ساتھ نرمی رکھنے اور انکا ساتھ دینے پر سوال اٹھائے.اب وقت آگیا ہے کہ بنگلہ دیش کے بعد پاکستان میں بھی جماعت اسلامی پر پابندی لگادی جاۓ . حکومت پاکستان کو اگر ملک کو انتیہا پسندی سے بچانا ہے اور اپنے ملک کے معماروں کو محفوظ  مستقبل دینا ہے تو انتہائی سخت فیصلے لینے ہونگے

Advertisements