جناب محترم وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف صاحب ،وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ صاحب،گورنر سندھ اور تمام صوبوں کے حکام بالا مفتیان کرام ،سول سوسائٹیز ، اور انسانی حقوق کی  بات کرنے والوں سے میں مخاطب ہوکر یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہمارے اندر سے انسانیت ختم ہوچکی ہے.کیا ہم اتنے بے ضمیر اور بے حس ہوگئے ہیں کہ ہمیں کراچی میں آۓ دن ہونے والے واقعات اور ان میں مرنے والے انسانوں کی لاشیں نظر نہیں آتیں ؟ کراچی میں جاری ریاستی درندگی اور آۓ دن  قانون  نافذ کرنے والوں کے تشدد سے مرنے والے عام شہریوں کے قتل  عام پر اتنی خاموشی کیوں؟  ہمارا اسلام تو بھائ چارے اور امن کا درس دیتا ہے.اس کے باوجود ہمارے علماء کرام اس پر لب کشائی کیوں نہیں کرتے ؟کراچی میں آۓ دن مسنح لاشیں برآمد ہوتی ہیں.اس پر ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں. اس حالات پر ہمارا اسلام کیا درس دیتا ہے.کیا ایسے لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے یا پھر ایسے حکمرانوں کے خلاف احتجاج بغاوت کرنا چاہیے جسے انسانیت کا احساس ہی نہ ہو. سول سوسائٹیز کراچی میں رونما ہونے والے آۓ دن کے حادثات اور اداروں کی لاپرواہی کراچی میں گرتی ہوئ لاشیں ماورائے عدالت قتل عام اور دیگر جرم میں ملوث سادہ لباس اہلکاروں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتیں؟ سول سوسائٹیز کو سندھ حکومت کی بڑھتی ہوی بےحسی اور عدم دلچسپی نظر نہیں آتیں؟ کیا کراچی کے شہریوں کے آۓ دن کے ماورائے آئین قتل عام سول سوسائٹی کو نظر نہیں آتے؟کیا انسانی حقوق کی تنظیموں کو کراچی اور سندھ میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی نظر نہیں آتی ؟
وزیراعظم پاکستان ،وزیراعلی سندھ و دیگر حکام بالا کو بتاتا چلوں کہ آپ کی حکومت آئین کے آرٹیکل 9 اور 10 کے تحت بالکل ناکام ہوچکی ہے اور آپ مسلسل آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں.کراچی میں  کبھی لوگ کسی فیکٹری میں آگ لگنے کے باعث زندگی سے ہار جاتے ہیں تو کبھی سڑکوں پر حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں کچھ ٹارگٹ کرکے ماردیے جاتے ہیں تو کچھ لوگ سادہ لباس اہلکاروں کے ہاتھوں تشدد کرکے ماردیے جاتے ہیں اور یوں روز کراچی میں خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے اور حکمران اس کے باوجود سب اچھا ہے کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں.یہاں بات صرف قوم کے جان و مال کے تحفظ کی نہیں اس سے بڑھ کر انسانیت کی بھی تو ہے سوال تو یہاں یہ ہے کہ ہر اس ماں کو ہم کیا جواب دینگے جس نے اپنا پیٹ کاٹ کر اور راتیں جاگ کر پال پوس کر اپنے بچے کو  بڑا کیا اور  جب وہ اپنی ماں کی خدمت کے قابل ہوا تو وہ ریاستی درندگی کا نشانہ بن گیا یا پھر حکومتی بے حسی کا شکار ہوگیا.پاکستان میں جس طرح سے کراچی کے شہریوں کے ساتھ  جو رویہ روا رکھا جارہا ہے اس ظلم و بربریت کو ختم ہونا چاہیے.قوم ہمیں شائد معاف کردے مگر وہ مائیں جن کی گودیں ریاستی بربریت اور حکمران کی سرپرستی میں اجاڑ دی  گئ ہیں وہ بھی معاف کردیں تو ہمارے حکمرانوں کو ایک دن اللہ کو جواب دینا ہی ہوگا.اور ہمیں بھی قوم اور فرد کی حیثیت سے جواب دینا ہوگا

ایک دن مولانا اشرف علی جوکہ  ڈیڑھ ہزار کتابوں کے مصنف رہے ہیں جن کے پاس ملک بھر سے روزانہ  70/80 خطوط آتے تھے جو ان سے علماء کرام سوالات کرتے تھے انکے جوابات انکو لازمی دینا ہوتے تھے حضرت کی بیگم کہیں رشتہ داروں کے گھر جارہی تھیں تو جاتے جاتے کہنے لگی کہ حضرت میں جارہی ہوں اور گھر میں بھی کوئ نہ ہوگا تو آپ ٹھیک 8 بجے کھول دیجیے گا اور دانہ پانی ڈال دیجئے گا.حضرت کاموں میں مشغول ہوگئے اور 8 بجے سے کافی دیر ہوگی اور آپ پر عجیب سی کیفیت طاری ہوگئ  آپ خط کا جواب لکھنا بھی چاہتے تو لکھا نہ جاتا اور تفسیر قرآن پاک پر کچھ کام کرنے بیٹھے تو کیا نا گیا دل میں اندھیرا سا طاری ہونے لگا.آپ نے اللہ سے دعا کی اے اللہ ! اشرف سے ایسی کیا غلطی ہوگئ آپ مجھے ہدایت و تنبیہ فرمائیں اسی وقت اللہ نے مولانا کے دل میں خیال پیدا کیا کہ اشرف علی نے میری مخلوق کو قید کررکھا ہے مرغیاں بھوکی پیاسی ہیں اور بےچین ہیں.میری مخلوق تمہاری وجہ سے تکلیف میں ہے ایسی حالت میں تمھیں دینی علوم کس طرح جاری کیےجاسکتے ہیں . مولانا کو فوری طور پر اپنی بیگم کی گئ تنبیہ یاد اگئ اور آپ نے اسی وقت مرغیوں کو کھولا اور دانا پانی ڈالا

ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ سلام اپنے لشکر کے ساتھ گھاٹی سے گزرے رہے تھے گھوڑے کی گونج  چیونٹیوں کو دور سے سنائی دی تو ایک چیونٹی نے اپنے تمام لشکر کو کہا کہ سنو تمام چیونٹیوں ،حضرت سلیمان کا لشکر اسی طرف آرہا ہے ایسا نہ ہوکہ ہم انکے گھوڑوں تلے کچلے جایئں اور سلیمان علیہ سلام بے خیالی میں گزرجایئں اس لیے اپنے بلوں کی طرف بھاگو یہ بات اللہ تعالی کو اس قدر پسند آئی کہ اللہ تعالی نے اس واقعہ کا زکر قران پاک میں کیا اور سورہ نمل اتاری گئ اگر ایک چیونٹی دوسری چیونٹی کی خیر کا عمل کرتی ہے تو اللہ تعالی اس عمل سے اتنا راضی ہوتا ہے اور اتنا خوش ہوتا ہے کہ اس واقعہ کو اپنے کلام پاک کا حصہ بنا لیتا ہے .اسی طرح پاکستان میں سوال ہے خیر کے عمل کا احساس کا اور انسانوں کے حقوق کا جو شائد کراچی کے شہریوں کو زرہ برابر بھی حاصل نہیں . اگر ہم بھی چیونٹیوں کے اس خیر کے عمل سے سبق سیکھیں تو ہمارے معاشرہ بھی بہتر  ہوجائے اگر چیونٹیاں اتنا احساس اور درد رکھ سکتی ہیں تو انسان کیوں نہیں؟
ہمارا بحیثیت مسلمان ،قوم ،اور انسانیت کے ناطے فرض بنتا ہے کہ ہم بھی ہر قسم کے ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں. مسلسل کراچی میں عام شہریوں پر ریاستی جبر و تشدد کیا جارہا ہے اور سب کراچی کے شہریوں پر ہونے والے ظلم کو تماشائی بن کر دیکھ اور سن رہے ہیں   مگر کوئی اس ظلم کے خلاف بولنے اور لکھنے سے قاصر ہے ایسا کیوں ہے کبھی سمجھ نہیں آیا؟ مگر ہمارے بے حس بے ضمیر حکمرانوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے حضرت علی کا وہ قول جس میں حضرت علی کرم اللہ وجہیہ الکریم نے فرمایا کہ کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں 

Advertisements