پاکستان میں بڑھتا ہوا میڈیا کا رول اب عوام کے لیے کنفیوزن کا باعث بنتا جارہا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری قوم کو سب سے زیادہ میڈیا نے ہیجان کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے دوسرے چینل پر سبقت حاصل کرنے اور ریٹنگ کی دوڑ نے میڈیا کے کردار کو منفی کردیا ہے ہر چینل اپنی ریٹنگ بڑھانے اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ہر عجیب و غریب بات کوبھی بریکنگ نیوز بنادیتے ہیں.  غریب عوام بھوک افلاس اور غربت سے مرتی بھی رہے تو ہمارے میڈیا گروپس خاموش تماشائی بن کر تماشا دیکھتے رہتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے میڈیا کے لیے بڑی خبر نہیں کیوں کہ عام عوام تو پاکستان میں صرف مرنے کے لیے ہے .دنیا کے دیگر ممالک میں میڈیا عوام کی آواز حکمرانوں اور دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کا باعث بنتی ہے مگر ہمارے پاکستانی میڈیا کی تو بات ہی کچھ اور ہے ہمارے یہاں میڈیا عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچانے کے بجاۓ اہم شخصیات کی خبریں عام عوامِ تک پہنچاتا ہے. اگر کسی شہرت یافتہ شخص کی موت پیٹ کے درد سے بھی ہوجائے تو اسے ہمارا میڈیا بریکنگ نیوز بناکر بڑا چڑھاکر پیش کرتا ہے یہ کردار عوام میں میڈیا کی اہمیت کو ختم کرنے کا باعث بنتا جارہا ہے پاکستانی میڈیا آزادی صحافت کے بعد سے غیر ضروری باتوں کو کچھ زیادہ اہمیت دے رہا ہے میں نے مغربی ممالک کے نیوز چینلز دیکھے ہیں مگر وہاں نیوز چینلز پر صرف نیوز نشر کی جاتی ہے مگر ہمارے یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے مطلب کہ پاکستان میں نیوز کی جگہ کچھ بھی نشر ہوجاتا ہے خواہ وہ کسی کی زاتی زندگی سے ہی متعلق کیوں نہ ہو بس ہمارا میڈیا ہر خبر کو بریکنگ نیوز بنانا چاہتا ہے چند سال پہلے پاکستانی کرکٹر شعیب ملک اور بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا اور برطانوی شہزادہ ولیم اور کیٹ کی شادیوں کو اتنی کوریج دی گئ جیسے انھوں نے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دے دیا ہو جو کسی نے انجام نہیں دیا ہو

اسی  طرح سال نو 2015 کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز بھی ایسی ہی ہے جب پورا ملک دہشتگردوں کے خلاف یکجہتی کا اظہار کررہا تھا سب کی نظریں دہشتگردوں کے خلاف کاروائی اور  وزیراعظم کی سربراہی میں بننے والی  قومی ایکشن پلان کمیٹی پر مرکوز تھی ایسے میں ہمارا میڈیا 8 جنوری 2015 جمعرات کی سہ پہر سے کئ گھنٹے تک پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان  صاحب کا  رحم خان کے ساتھ ہونے والے نکاح کو بریکنگ نیوز بناکر پیش کرتارہا  جیسے  یہ ان دونوں کی پہلی شادی  ہے. میں اس بلاگ کے زریعے بتاتا چلوں کہ یہ دونوں کی دوسری شادی ہے  41 سالہ خاتون رحم  خان کے  سابقہ شوہر سے 3 بچے ہیں اور 62 سالہ عمران خان  کے سابقہ بیوی سے 2 بچے ہیں اس کے باوجود اسے بار بار نشر کرنا سمجھ سے بالاتر ہے.پہلے دھرنے کی غیرضروری کوریج کی گئ اور اب  میڈیا عمران خان کی شادی پر دیوانہ نظر آتا ہے اگر میں میڈیا کے لیے یوں کہوں تو غلط نہ ہوگا  کہ بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانے. پورا میڈیا اس طرح سے رحم خان اور عمران خان کی سوانح عمری پیش کررہا ہے جیسے پوری قوم  انکی مداح ہے جو حقیقت کے بالکل برعکس ہے آج میڈیا کے اس کردار نے عوام میں میڈیا کی اہمیت کو کم کردیا ہے کیونکہ پاکستان کی اکثریت عوام کو خان صاحب کی شادی سے کوئی سروکار نہیں.عوام میں میڈیا کی مقبولیت میں کمی  کی سب سے بڑی وجہ غیرضروری خبروں کو بریکنگ نیوز بناکر پیش کرنا ہے .

سیاستدانوں ،تاجروں   صنعتکاروں اور اہم شخصیات پر تنقید کرنے والے میڈیا گروپس اینکرپرسنز اپنے اس کردار پر تنقید کیوں نہیں کرتے ؟ دوسروں کا احتساب کرنے والے اپنے کردار کا احتساب کیوں نہیں کرتے ؟
پاکستان کے میڈیا گروپس کا بھی احتساب ہونا چاہیے کیوں کہ آج کے جدید ترین دور میں میڈیا بہت اہم کردار ادا کررہا ہے اور اب  ایک اہم ستون ہے اگر پاکستان میں میڈیا اسی طرح سے غیرضروری خبریں بریکنگ نیوز بناتا رہا تو اس سے عوام پر میڈیا کا منفی اثر مرتب ہوگا جس سے صحیح رپورٹنگ کرنے والے میڈیا گروپس  بھی متاثر ہونگے  .

پاکستان میں اگر میڈیا اپنا کردار صحیح طرح سے ادا کرنے لگے تو پاکستان کے تمام ادارے خود بخود ٹھیک ہوجائے گے. پاکستان کی ترقی میں میڈیا بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے اگر میڈیا بریکنگ نیوز کی دوڑ سے باہر آجاے عوام کے حقوق کے لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ میڈیا بھی اپنا کردار ادا کرنے لگے تو پاکستان میں کوئی بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم نہ رہے

Advertisements