سنا تھا کہ وقت کسی کے لیے نہیں ٹھیرتا مگر وقت کی اتنی تیزی سے روانی اور وقت کی تیز رفتاری نے یہ بات ثابت کردی کہ واقعی وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اور اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے اسی لیے ہمیں وقت کو بیکار کاموں سے نکال کر کسی اچھے کام میں گزارنا چاہیے ہماری زندگی کا ایک اور سال کم ہوگیا ہے اور اسلامی سال کلینڈر کے اختتام کے بعد اب انگریزی کلینڈر بھی اختتام پذیر ہوگیا اور ایک دن بعد ہم نئے سال 2015 میں داخل ہوجائیں گے پاکستان میں جمہوريت کا ایک اور سال گزر گیا مگر اب تک پاکستان کی عوام کو جمہوریت کے لغوی معنی اور اسکی صحیح تعریف سمجھ نہ آسکی. پاکستان کی عوام  اور حکمرانوں کے لیے سال 2014 عجیب کشمکش میں گزرا کبھی محسوس ہوتا کہ پاکستان کی سول حکومت چلی جاۓ گی اور فوجی حکومت قائم ہوجائےگی مگر  ایسا کچھ نہ ہوا اور سال  2014 یوں ہی اختتام تک پہنچ گیا رواں سال پاکستان پیپلزپارٹی پارٹی کی ناکام طرز حکمرانی نے سندھ کے شہر تھرپارکر میں نہ جانے کتنے بچوں کو بھوک اور افلاس سے جینے کا حق چھینا یہ سال 2014 تھرپارکار کی عوام کیلئے قیامت سے کم نہ تھا کیونکہ حکومتی گوداموں میں کتنے ہی ٹن گندم و دیگر اجناس میں پڑھ گئے مگر پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت میں تھر کے بچے بھوک سے مرگئے  اور دوسری طرف پنجاب حکومت جس کے ہاتھ سانحہ ماڈل ٹاون میں 14 لوگوں کے خون سے رنگے ہوۓ ہیں یہ ہے ہماری جمہوری  جماعتوں کے جمہوری رویے 2014 تو جارہا ہے مگر اپنی تلخ یادوں کو تاریخ میں رقم کرگیا سانحہ ماڈل ٹاون سانحہ پشاور اسکول  اور دیگر  واقعات ایسے ہیں جو کبھی بھلائے نہیں جاسکتے   یہ سال پاکستان کے لیے بہت سی یادوں سے بھرا  ہے جس میں ہماری آنکھیں پرنم بھی ہوئیں اور جہروں پر مسکراہٹیں بھی بکھری.پاکستان کے سیاستدانوں کے لیے خاصہ دشوار رہا جہاں وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف صاحب کو عمران خان صاحب اور طاہرالقادری صاحب کے دھرنوں اور احتجاج نے پریشان رکھا وہیں تحریکِ انصاف عمران خان صاحب اور طاہرالقادری صاحب کو اپنے یو ٹرنز کی وجہ سے رسوائی کا  سامنا کرنا پڑا. جماعت اسلامی اپنے طالبان کے ساتھ تعلقات اور انکے خلاف ہونے والے آپریشن ضرب عضب کے لیے نرم گوشہ رکھنے کی وجہ سے اپنی پالیسی کو واضح نہ کرسکے اور یوں وہ بھی عوام کے سامنے ایکسپوز ہوگئے پاکستان پیپلزپارٹی اپنے لیڈررشپ کے فقدان کی وجہ سے اپنی پارٹی کی ساکھ کو بہتر کرنے میں ناکام رہی . پاکستان مسلم لیگ ق کے چوہدری برادرز اور  عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید صاحب بھی کوئ خاص اہمیت حاصل نہ کرسکے جبکہ انھوں نے  عوامی تحریک اور پاکستان عوامی تحریک کے  دھرنوں اور  جلسوں میں دھواں دار تقریر کی مگر عوام کی خاص پذیرائی حاصل نہ کرسکے.
سابق  صدر مشرف صاحب کے لیے یہ سال فیصلہ کن رہا سال 2014 میں انکے 50٪ مقدمات میں انکے خلاف کوئی ٹھوس دلائل نہ ہونے کی وجہ سے بری کردیاگیا .  ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین صاحب اور انکی جماعت کے لیے متوازن رہا اور ایک مقام پر الطاف  حسین صاحب اور ایم کیو ایم کے لیے آزمائش  کی گھڑی بھی آئی جب انہیں 3 جون سے 7 جون تک برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس نے منی لانڈرنگ کی تشویش کے لیے زیر حراست رکھا اس دوران پاکستان  میں انکے چاہنے والے 3 سے 7 جون تک پاکستان کے تمام پریس کلبز پر دھرنا دیے بیٹھے رہے اور انکی ضمانت کے بعد تمام دھرنے ختم کردیے گئے ایم کیو ایم کے ساتھ  22 سالوں سے ایک جیسا سلوک روا رکھا گیا ہے تو انکے لیے یہ سال ایسا ہی تھا جیسے پہلے کئ  سال گزرے فوجی حکومت ہو یا سویلین ایم کیو ایم کے لیے پالیسی کبھی تبدیل نہیں ہوئی پہلے بھی ہزاروں کارکنان ماورائے عدالت قتل ہوۓ آج بھی ہورہے ہیں مگر سال 2014 ایم کیو ایم کے دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑی خواہ وہ  تحریک انصاف کے عمران خان  صاحب  ہوں ،پیپلزپارٹی کے ذوالفقار علی مرزا ہو یا برطانیہ کے لارڈ نذیر سب  نے ہی شکست کا سامنا کیا اور کوئی بھی شخص ایم کیوایم کے قائد کے خلاف الزامات کو ثابت نہ کرسکا اس کے برعکس ہوا یہ کہ 1999 حکیم سعید کیس میں گرفتاری کے بعد ماورائے عدالت قتل ہونے والے ایم کیو ایم کے کارکن   فصیح جگنو کو 15 سال بعد  عدالت نے بے گناہ قرار دے دیا ایم کیوایم کے کئ کارکنان کو لاپتہ کرکے شہید کردیا گیا سال 2014 میں کراچی میں جرائم پیشہ افرادِ کے  خلاف آپریشن شروع ہوا  جو اب تک جاری ہے مگر پھر بھی کراچی میں امن و امان کا مسلہ جوں کا توں ہے دوسری طرف پاکستان کی عوام کے لیے سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ پاک افواج نے شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جو کامیابیاں سمیٹ رہا ہے سال 2014 پاکستان کی سول حکومت کے  لیے بہت سے مسلے مسائل کا  شکار رہا جس پر عسکری قیادت کو بھی عمل دخل  کرنا پڑا. دہشتگردوں نے پہلے 2014 کے شروع میں 23 فوجی جوانوں کو اغواء کرکے شہیدکیا اور سال 2014 کے اختیتام میں 16 دسمبر کو 140 سے زائد بچوں  اور اساتذہ  کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں شہید کرکے پورا سال لہولہان کردیا اور جاتے جاتے سال 2014 کو سرخ کردیا .
سال 2014 اپنے اختتام کو پہنج گیا اور نیا سال آنے کو ہے مگر میں یہاں اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستان کی عوام کو نئے سال اور نئے آغاز کی خوشی کب ملے گی پاکستان میں جمہوریت کو 7 سال ہونے کو ہیں مگر آج تک حکمران عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیےاج تک لوکل باڈیز سسٹم نہ دے سکے سال 2014 میں حکمرانوں نے عوام کو کچھ  دیا ہے تو وہ ہے احتجاج کا نیا انداز کہ اگر اپکو کوئی بات حکومت سے منوانی ہو یا پذیرائی چاہیے ہو تو دھرنا دے دو یا جلسہ کرلو یا پھر غیر مہذب نعرہ دے دو کوئی گو نواز گو کہتا ہے تو کوئی رو عمران رو خواہ یہ کہ  سب اپنے الو  سیدھے کررہے ہیں عوام کو صرف بےوقوف بنایا گیا ہے ہمیشہ مگر وقت ایک جیسا نہیں رہتا 2014 کے آخری ماہ دسمبر نے بہت سارے جہروں کو بے نقاب کردیا جو ووٹ عوام سے لیکر آۓ تھے اور ہمدردی دہشتگردوں سے کرتے ہیں سال 2014 نے عوام میں سیاسی شعور  پیدا کیا. انشاءاللہ پاکستان کی عوام کے دن بھی پھرے گے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مایوسی کفر ہے اور مایوس وہ ہوتا ہے جس کا کوئی رب نہ ہو . ہمیں خوش مزاجی اور نئ امیدوں کےساتھ نئے سال  کا استقبال کرنا چاہیے اور عزم کرنا چاہیے کہ جو کام ہم رواں سال نہ کرسکے انھیں 2015 میں ضرور کرینگے اور اب 2014 گزرجانے کو ہے ایک باب کا اختتام اور ایک نئے سفر کا آغاز ہونے کو ہے امید ہے اللہ 2015 کو پاکستان کی عوام کے لیے خوشیوں سے بھردےگا اور افواج پاکستان عوام کو دہشتگردی کے ناسور سے نجات دلاےگی ہمارا پاکستان ترقی کی جانب بڑھے گا اور ہمارے حکمران بھی اس عزم کے ساتھ نئے سال کا آغاز کریں کہ وہ عوام کو  بنیادی حقوق فراہم کرکے پاکستان میں حقیقی جمہوریت کو بحال کریں .مجھے پاکستان  کے بہتر مسقبل کی امید ہے کیا آپکو ہے ؟

Advertisements