یاد ہے 27 دسمبر 

دنیا کی تاریخ میں جب بھی کسی قوم پر کڑا وقت آیا ہے یا کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو وہ اس سانحے سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کا عزم کرتی ہیں اور جو قومیں اپنی کمزوریوں پر قابو پاکر دنیا کے ساتھ چلنا چاہتی ہیں وہ اپنے ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہراتی اور تواتر کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتی ہیں اور جو قومیں اپنے اپنے ماضی کے حالات اور سانحات سے سبق حاصل نہیں کرتیں اور انہی غلطیوں کو تواتر کے ساتھ دہراتی ہیں تو وہ آگے بڑھنا تو دور وہ قومیں بہت تیزی سے زوال پذیر ہوجاتی ہیں ٹھیک اسی طرح جیسے آج پاکستان  کے حالات ہیں جہاں ہم ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہونے  کے بجاۓ پستی  کی طرف جارہے ہیں ہر شعبہ میں کرپشن سے بھرا ہوا ہے تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں عوام  ہسپتال میں ضروری سہولیات سے محروم ہیں امن و امان تو ایک سوالیہ نشان ہے پاکستان میں بس اللہ ہی حافظ ہے  عوام کا  دہشت گردوں کے لیے تو ہم  نے کبھی  پالیسی  ہی نہیں بنائی اور نہ  ہمارے حکمران اس میں سنجیدہ ہیں  اور   ہم  بہت تیزی سے   پستی کی طرف  جارہے ہیں
 پاکستان میں حال ہی میں ایک پشاور اسکول میں ایک دردناک سانحہ پیش آیا جس میں دہشت گردوں نے معصوم طلباء سمیت 150 افراد  شہید کردیے جس نے پورے پاکستان کو اشکبار کردیا اور اس دن جس دن پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا 16 دسمبر 1971 سانحہ مشرقی پاکستان کو 43 سال ہوگئے کیا ہم نے بحیثیت قوم اس سے کوئی سبق سیکھا ؟ کوئی سبق نہیں سیکھا،اسی لیے 16 دسمبر 2014 کو 43 سال بعد اسی تاریخ کو ایک سانحہ رونما ہوگیا کیونکہ ہم نے ماضی کے سانحات سے کچھ نہیں سیکھا اسی لیے ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ایک اور سانحہ پیش آیا کہ اے لوگو !! اے پاکستانیوں !! سنبھل جاؤ ظلم کے خلاف کھڑے ہوجاو ، اگر اسی طرح ہم بے حس بے ضمیر رہوگے تو یہ حکمران اور یہ دہشت گرد ہمیشہ ہماری جان و مال کے ساتھ کھیلتے رہنگے ،پاکستان میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنان اور عام عوام روز  کسی نہ کسی سازش کے تحت زندگی کی دوڑ میں ہر جاتے ہیں تو ہمارا میڈیا سوتا رہتا ہے  مگر جب کوئی بڑا لیڈر یا بزنس مین چھینک لینے سے بھی مرجاے تو میڈیا کی آنکھیں فوری کھل جاتی ہیں کیوں؟عام شہری کی زندگی و جان ومال کی کوئی قیمت نہیں؟

1480490_10152746386150528_5391279433698372974_n.jpg

Also published on Express News 27 Dec 2014-


آخر کار دسمبر پھر آگیا

مزید پڑھئے : http://www.express.pk/story/313522/

دسمبر جو کہ ماضی کی بہت تلخ یادوں سے بھرا پڑا ہے مگر آج سے قبل 7 سال پہلے اسی ماہ کی 27 دسمبر  2007 کو پاکستان کی بڑی نامور سیاستدان بے نظیر بھٹو صاحبہ کو دہشتگردوں نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی مار کر شہید کردیا تھا اور اس سال پیپلزپارٹی کی شہید چیرپرسن محترمہ بے نظیر صاحبہ کی ساتویں برسی ہے. اسی یاد میں  پاکستان پیپلزپارٹی ہر سال بے نظیر بھٹو صاحبہ کی برسی 27 دسمبر کو  عقیدت سے مناتی ہے . پاکستان پیپلزپارٹی نے انکی  شہادت کے بعد  گڑھی خدا بخش لاڑکانہ میں انکا مقبرا تعمیرِ کروایا جہاں انھیں دفنایا گیا تھا جہاں پیپلزپارٹی کے جیالے اور بے نظیر بھٹو شہید کے چاہنے والے انکی برسی  پر پر سال گڑھی خدا بخش جا کر پھول چڑھاتےہیں  گڑھی خدا بخش میں ہی  بے نظیر صاحبہ کے ساتھ انکے والد ذوالفقارعلی بھٹو  شہید اور شاہ نواز بھٹو کی بھی قبریں موجود ہیں .اس میں کوئی شک  نہیں کہ یہ قومی سانحہ تھا اور وہ ایک قومی لیڈر تھیں مگر جس نظر سے میں نے  27 دسمبر 2007 کے سانحے کو دیکھا وہ بہت مختلیف ہے کیوں کہ بے نظیر صاحبہ کی شہادت کے بعد 3 دن تک جو سانحات ہوۓ اسکا نہ کوئی زکر کرتا ہے نہ کسی نے مقبرا بنایا اور  نہ ان سانحات  کے  متاثرین کی کوئی دادرسی کی گئ 27 ،28،29 دسمبر 2007 کو بے نظیر صاحبہ  کی شہادت کے غم میں جس طرح سے کراچی و اندرون سندھ  میں اردو بولنے والے عام شہریوں و دیگر عوام کی املاک جلا کر سانحات رونما کیے گئے اس کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی نے کتنے مقبرے بنائے ؟
سانحہ 27 دسمبر کو لوگ صرف اس لیے جانتے ہیں کہ اس دن پیپلزپارٹی کی چیرپرسن محترمہ بےنظیر بھٹو صاحبہ کو شہید کیا گیا تھا مگر کوئی یہ زکر کیوں نہیں کرتا کہ پیپلزپارٹی کی  چیرپرسن کی شہادت کے بعد جس طرح سے 3 روز تک لوٹا ماری کی گئی وہ کونسا سوگ تھا ؟ جس میں مسلح دہشت گردوں نے کراچی میں آگ و خون کی ہولی کھیلی اور 27،28،29 دسمبر پورے 3 دن تک کراچی دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال بنا رہا  مسلح دہشت گردوں نے  27 دسمبر کے سانحے کے بعد 12 ہزار گاڑیوں کو نذر آتش کیا پیٹرول پمپس کو آگ لگائی گئ بینکوں کو لوٹا گیا فیکٹریاں لوٹ کر آگ لگا دی گئ فیکٹری میں کام کرنے والے مہاجروں اردو بولنے والوں کو زندہ جلا دیا گیا ملازمت پیشہ خواتین کی بے حرمتی کی گئ دہشت گرد کھلے  عام کراچی کے شہریوں کے جان و مال سے کھیلتے رہے مگر مسلسل 3 روز تک انھیں روکنے والا نہ تھا کراچی کی مختلیف فیکٹریوں سے 27 .28.29 دسمبر 2007 کو لوٹا  گیا  مال لیاری کے مختلیف علاقوں سے برآمد کیا گیا اور سانحہ 27 دسمبر کے بعد پیپلزپارٹی کے درجنوں افراد کے خلاف قتل  اقدام  قتل  جلاو گھیراؤ اور لوٹ مار کے مقدمات بھی قائم کئے گئے مگر کراچی و اندرورن سندھ کی عوام کو انصاف نہ مل سکا اور فروری 2008 کے انتخابات کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کی  کامیابی کے بعد سندھ کے وزیراعلی سید قائم علی شاہ صاحب نے سب سے پہلے ایک حکمنامے کے زریعے پیپلزپارٹی کے کارکنان کے خلاف  یہ تمام مقدمات ختم کردیے. اس سانحے کو 7 سال ہوگئے مگر نہ بےنظیر صاحبہ کے قاتل پکڑے گئے اور نہ کراچی و سندھ کی عوام خاص طور سے تاجروں کے نقصان کا ازالہ کیا گیا یہ ہی وجہ ہے کہ سانحے 27  دسمبر کو صرف بےنظیر ہی شہید نہیں ہوئیں بلکہ اس سانحے کے بعد کتنے ہی لوگوں کا  روزگار چھین  کئی  تاجر برباد ہوۓ اور نہ جانے کتنے ہی لوگوں سے جینے کا حق چھین لیا گیا  اتنے  سانحات کے باوجود 27 دسمبر  کے دن کو صرف محترمہ شہید بےنظیر صاحبہ سے منصوب کرنا کراچی کی عوام اور تاجروں کے ساتھ زیادتی ہے 27 دسمبر بےنظیر صاحبہ کے قتل کا ہی دن نہیں بلکہ کراچی و پاکستان کے معاشی قتل عام کا بھی دن ہے پیپلزپارٹی نے 6 سالہ حکمرانی میں ایک بار بھی ان لوگوں  کی مالی معاونت نہیں کی جو انکی چیر پرسن کے قتل کے بعد  دہشتگردوں کی مختلیف دہشتگردی کا نشانہ بنے جن میں اکثریت کراچی و اندرورن سندھ کے اردو بولنے والوں کی ہے.
اگر اب بھی ہم ان جاگیردار وڈیروں  کے چنگل سے نہ نکلے تو ہمارے مستقبل یوں ہی پست رہے گا یوں ہی عام عوام کا  معاشی قتل عام جاری رہے گا ہمیں ان  نہاد حکمرانوں کے ناپاک عزائم کو سمجھنا ہوگا ہمیں اپنے ماضی کی غلطیوں  سے سیکھ کر اگے بڑھنا ہوگا پیپلزپارٹی کو عام شہریوں کا دکھ درد تکلیف یاد ہو کہ یاد ہو مگر ہمیں  سب یاد  ہے پاکستان اور خاص طور سے کراچی کی عوام  کے ساتھ روا رکھا گیارویہ موجودہ حکمرانوں کو یاد ہو یا نہ  ہو مگر عوام کو سب یاد ہے اب ہماری قوم کو آگے بڑھنا ہے اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونا ہے تو ان جاگیرداروڈیرانہ سوچ رکھنے والے حکمرانوں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا اور ایک پڑھے لکھے طبقے کو آگے لانا ہوگا اور اگر ماضی کی طرح غلط لوگوں کو منتخب کرتے  رہے تو ہم کبھی آگے نہیں بڑسکے گے.ان حکمرانوں نے ہمیشہ عوام کے جان و مال سے کھیلا ہے اگر اب بھی ہم نے انکو ری جیکٹ نہیں کیا تو ہماری حالت بدلنے کے لیے کوئی  فرشتہ نہیں آۓ گا .
خدا نے بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ خود جسے احساس اپنی حالت بدلنے کا

ہمارے حکمرانوں کو عوام کی آہ سے ڈرنا چاہیے نہ جانے کب کس غریب کی آہ ان  تک پہنچ جاۓ پتہ بھی نہیں چلے گا یہ ایک حقیقت ہے ہمیں  تو سب یاد ہے کیا تمہیں بھی یاد ہے ؟

 

Advertisements