پاکستان میں موسم سرما کی چھٹیوں کے سلسلے میں تمام تعلیمی ادارے بند کردیے گئے ہیں اور میرےگھر میں  کزنز نے کراچی جانے کا پروگرام ترتیب دیا اور اپنے پاپا سے کراچی میں چھٹیاں گزارنے کی بات کی تو میرے انکل نے میرے کزنز کو کہا کہ بیٹا سردیوں میں سفر نہیں کرتے ڈاکٹرز منع کرتے ہیں بچوں کو سردیوں میں  سفر نہیں کرنا چاہیے یہ  کہہ کر بچوں کو منع کردیا   جس کی تصدیق اس کے چند منٹ بعد ہی ٹی وی پر پاکستان پیپلزپارٹی کے شرجیل میمن صاحب کا ایک بیان سامنے آیا کہ “بلاول زرداری اور آصف زرداری صاحب میں کوئی اختلاف نہیں  انھیں ڈاکٹرز نے سفر کرنے سے منع کیا ہے “. اس خبر کے بعد تو بس بچوں کی چھٹیاں کراچی میں گزارنے کی  خواہش وہیں دم توڑ گئی اور بچے اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے مگر سندھ کے وزیر اطلاعات و نشریات اور بلدیات شرجیل میمن صاحب  کے بلاول زرداری صاحب  کے متعلق بیان پر لکھنے   پر مجبور کردیا کہ میں بھی بلاول  صاحب  کو کوئی  مشورہ دے دوں لگے ہاتھوں کیوں  کہ ایسے  تیمارداری کے لیے مواقع بہت کم ملتے ہیں میرا پاکستان پیپلزپارٹی  کے چیرمین اور نوجوان امپورٹڈ سیاستدان جناب بلاول زرداری صاحب  کو مشورہ ہے کہ وہ اسی طرح آئندہ چند  سال تک سفر نہ کریں کیوں کہ شائد آپ کو زہنی سکون کی ضرورت ہے کیونکہ کسی بھی پارٹی کے چیرمین کو زیب نہیں دیتا کہ وہ بلاجواز کسی پر تنقید کرے آپکے  بیان اور ٹیوٹس سے لگتا ہے کہ بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ.جناب جس طرح رواں  سال عیدالضحیٰ پر آپکی جانب سے ایم کیو ایم کے قائد پر بلاجواز تنقید اور الزامات اور پھر تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان اور مسلم لیگ کی قیادت پر نازیبا جملوں سے مخاطب کرنا کسی بھی مہذب  معاشرے اور باشعور انسان کو زیب نہیں دیتا اور آپکی طرف سے ایسی زبان کا استعمال اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ ہم  گدھوں پر کتابیں لادنے سے گدھا پڑھا لکھا نہیں ہوجاتا  اور جناب آپ تو برطانیہ اور دنیا کی مشہور جامعہ “آکسفورڈ ” سے تعلیم یافتہ ہیں پھر بھی پاکستان کے دیگر سیاستدانوں اور آپ میں کوئی فرق نظر نہیں آتا. مانا کہ پاکستان کے سیاستدان کرپٹ ہیں  یہاں کا سسٹم دیگر ممالک کے مقابلے میں   بہت  مختلیف ہے مگر بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے بھی اپنے بڑوں کی طرح کرپشن اور لسانی تعصب میں گھل مل جائیں تو عوام  کدھر جائیں موجودہ حالاتِ کے پیش نظر مجھےُ یہ پیپلزپارٹی کی پالیسی نظر آتی ہے کہ بلاول اور پیپلزپارٹی کی ساکھ بچانے کے لیے اور بلاول کے غیرضروری بیانات سے بچنے کے لیے پارٹی معاملات سے دور کررکھا ہے خیر یہ انکی جماعت کا اندرونی مسلہ ہے بلاول زرداری صاحب ڈاکٹروں کے مشوروں کے بعد میرے  مشورے پر بھی غور کریں تو پیپلزپارٹی کو بہت فائدہ ہوگا یہ تو میری سوچ ہے میں ایک بچہ ہوں اور بچے غیرسیاسی ہوتے  ہیں

Advertisements