سانحہ پشاور اور 16 دسمبر ‎

images6ag imagesvgd

پاکستان کے لیے 16 دسمبر کی تاریخ پہلے ہی ایک سانحہ کی یاد دلاتی ہے جس میں پاکستان دو لخت ہوا اور اس تاریخ سے بہت تلخ یادیں وابستہ ہیں جسے ہم سانحہ مشرقی پاکستان یا سقوط ڈھاکہ کے طور پر مناتے ہیں مگر اس سیاہ دن 16 دسمبر کو پشاور کے ایک آرمی پبلک اسکول میں مسلح دہشتگردوں نے فائرنگ سے 140 سے زائد  کو شہید کردیا جس میں 132 معصوم طلباء بھی شامل ہیں اور 140 سے زائد طلباء اور  دیگر اسٹاف کو  زخمی  کرکے  مزید سیاہ کردیا .اس بدترین دہشت گردی کی نہ صرف پاکستان بلکہ بین  الاقوامی ممالک نے اس سانحے کی مذمت کی اور  افسوس کا اظہار کیا ہے .
 پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے بچوں نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ یہ ننھے پھول  کھلنے سے پہلے ہی مرجھا جاینگے  جنھیں مسلح دہشتگردوں نے اسکول میں گھس کردرندگی کا نشانہ  بنایا جس کے بعد پورا پاکستان سوگ میں ڈوب گیا ہر  آنکھ اشکبار اور  ہر  انسان کو اس المناک سانحہ پر دلی صدمہ پہنچا پشاور کے اسکول میں ہونےوالا واقع پاکستان کے لیے 9/11 سے کم نہیں دہشتگردوں نے ان معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جنھیں ابھی اپنے صحیح اور غلط کی پہچان نہ تھی مگر ان دہشتگردوں کو ہمارے فوجی نوجوانوں نے بروقت پہنچ کر جہنم واصل کردیا  .
پشاور اسکول سانحہ پر فوجی نوجوانوں نے بروقت آپریشن کرکے اس سے بڑی تباہی سے بچالیا مگر اس سانحہ نے ہماری سول ایڈ منسٹریشن کی ناکامی کا پول کھول دیا اور سانحہ پشاور ہمارے حکمرانوں کی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے پاکستان کی افواج پاکستان آپریشن ضرب عضب میں دہشتگردوں کے خلاف نبرد آزما ہے مگر ہمارے سیاستدان بس اقتدار کی ہوس میں ایک دوسرے کی عزت اچھال  رہے.

جب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف صاحب نے زخمی بچوں سے ہسپتال میں عیادت کی تو ان زخمی بچوں کے جوش و جذبہ نے دہشتگردوں کو واضح پیغام دے دیا کہ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف یکجا ہے مگر ان بچوں نے تو واضح پیغام دے دیا مگر ہمارے حکمران آج تک دہشتگردوں کے خلاف ایک نہ ہوسکے سواے متحدہ قومی مومینٹ، عوامی نیشنل پارٹی اورپاکستان پیپلزپرٹی کے کوئی اور سیاسی  جماعت  طالبان جیسے درندہ صفت دہشتگردوں کے خلاف کھل کر کہنے کو تیار نہیں  ، کیوں  ؟ پشاور سانحے  پر سیاسی جماعتوں نے مذمّتیں کیں کسی نے  ایک کسی نے دو اور کسی جماعت  نے تین روزہ  سوگ کا اعلان کیا مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے حکمرانوں کا یہ ہی فرض  ہے کہ بس ہر سانحے  پر ہر دہشتگردی  پر مذمت کرے یا سوگ مناے؟
آگر  سیاستدان دہشتگردی  کے کینسر  سے جان  نہیں چھڑا سکتے تو عوام پر حکمرانی نہ کریں کیوں کہ آپکے  ہونے یا نہ ہونے سے کوئی  فرق نہیں پڑتا .
اب عوام کو بھی چاہیے کہ فیصلہ کرلیں کہ طالبان دہشتگردوں  کے حامیوں کو پہنچاننا ہے یا اب بھی گمراہ ہونا ہے ؟ عمران  خان صاحب آپ  بھی اپنے وزیراعظم  بننے کی خواہش کو ایک طرف رکھتے ہوۓ  دہشتگردوں اور طالبان جیسے گروپوں  سے نمٹنے کے لیے کوئی پالیسی  مرتب دیں کیونکہ آپکی  جماعت اسلامی سے قربتیں اور طالبان  کے گروپوں  کے لیے نرم گوشہ رکھنے سے یہ تاثر عام ہے کہ آپ بھی دہشتگردوں کے حامی ہیں نہ کہ عوام کے .
وقت اگیا ہے کہ ہمیں نہ صرف طالبان  بلکہ انکے ہمدردوں کے خلاف بھی ایکشن لینا چاہیئے .
پاکستان مسلم لیگ نواز  ، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی  کے لیے میں سجھتا ہوں یہ فیصلہ کن گھڑی  ہے کہ وہ اب فیصلہ  کرلیں کہ وہ عوام کے ساتھ ہیں یا دہشتگردوں کے ؟ الطاف حسین صاحب نے دہشتگردوں کے خلاف فوجی آپریشن ضرب عضب میں افواج پاکستان کو جتنا سپورٹ کیا  اگر اتنا اور دیگر  سیاسی جماعتوں نے بھی کیا ہوتا تو دہشتگردوں  کی آدھی کمر ایسے ہی ٹوٹ جاتی .سیاسی و نظریاتی یا زاتی  اختلافات ایک طرف مگر سچ  کو سچ اور حق کو حق کہنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے اور  یہ  سچ ہے کہ دہشتگردوں سے نمٹنے اور قوم کو متحد رکھنے کے لیے اگر کسی نے ہمت و جرأت کی ہے تو وہ صرف الطاف حسین اور متحدہ قومی موومینٹ ہے جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں.پاکستان میں آگر یوں ہی اقتدار  کے لیے دھرنے جلوس جاری رہے تو پاکستان کبھی اگے نہیں بڑ سکے گا اس وقت پاکستان میں ہر طرف بے یقینی کی کیفیت ہے عوام کو اس کیفیت سے نکالنے اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے کاونٹر ٹیررزم جیسی پالیسی مرتب دینے کی ضرورت ہے .اللہ سانحہ پشاور اسکول میں شہد ہونے والوں  کی مغفرت فرماے اور لواحقین کو صبرجمیل  عطا فرماے آمین

Advertisements