پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جس میں ایسے لوگ بستے ہیں جہاں بچہ بچہ اپنے ملک و قوم کی حفاظت اور سلامتی کے لیے مرمٹنے کو تیار ہے پاکستان کی ہر ماں اپنے ملک کے لیے اپنے پھول  جیسے  بچوں کو قربان کرنے کو تیار ہے یہ وہ جذبہ  ہمت و جرأت  ہے جو پاکستان کی عوام اور قوم میں پایا جاتا ہے. جب سے 9/11 کا سانحہ ہوا ہے تب سے پوری دنیا میں دہشتگردی کی جنگ جاری ہے اور اس جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں پاکستان کی عوام نے دی ہیں دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کے 50000 عام عوام اور 8000 سے زائد پاک افواج  کے جوان شہید و زخمی ہوۓ  جو ایک بہت بڑی  تعداد ہے . امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر  سانحہ 9/11 کے بعد پاکستان نے اس جیسے ہزاروں واقعات کا سامنا کیا  اس کے باوجود آج  بھی پاکستان  کی عوام دہشتگردوں کے خلاف کمر بستہ ہے اور اسی جذبہ  کی بدولت  پاک افواج شمالی وزیرستان میں جاری دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں کامیابیاں سمیٹ رہی ہے کیونکہ کوئ بھی جنگ یا معرکہ بارود یا تعداد سے نہیں جیتی جاتیں جنگیں اتحاد اتفاق اور عزم و حوصلے سے جیتی جاتی ہیں. طالبان دہشتگردوں نے رواں سال کے پہلے  ماہ میں درندگی کا مظاہرہ  کرتے ہوۓ پاک افواج کے 23 جوانوں کو اغواء کرکے شہید کیا اور اس جیسے کئ واقعات رونما ہوۓ  اس کے باوجود پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے ساتھ ہے . پاکستان میں یوں تو کئ دل دہلادینے والے سانحہ پیش آۓ .

16دسمبر جو کہ سقوط ڈھاکہ کی یاد دلاتا ہے مگر 16 دسمبر 2014 کو یہ تاریخ اور سیاہ ہوگئی جب  مسلح 7 دہشت گرد دندناتے ہوے پشاور کے ایک آرمی پبلک اسکول  میں داخل ہوگئے اور اسکول  میں موجود بچوں کو یرغمال بناکر پہلے اسکول کی پرنسپل صاحبہ اور دیگر اساتذہ کو بچوں کے سامنے زندہ جلا دیا گیا اور پھر اندھادھند فائرنگ کرکے معصوم طلباء کو شہید کردیا.ہماری افواج پاکستان کے جوانوں نے بروقت پہنچ کر فوجی آپریشن کیا اور دہشتگردوں کو ہلاک کرکے اسکول کو کلیئر کیا  دہشتگردوں کی فائرنگ سے 140 سے زائد شہید 140 سے زائد  زخمی ہوے جس میں پاک افواج کے  2 ایس ایس جی کمانڈوز بھی شامل ہیں اس المناک سانحہ کے بعد پورے ملک کی فضا سوگ وار ہوگئ بین الاقوامی قومی اہم شخصیات نے معصوم طلباء کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا .
مگر سوال  یہ اٹھتا ہے کہ کب تک ہم مذمت اور افسوس سے کام چلاینگیں؟؟ سانحہ پشاور کے بعد 17 دسمبر  کو وزیراعظم صاحب نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی مگر میرے نزدیک یہ بھی بے سود تھی  کیونکہ اس کانفرنس میں دہشتگردی کے خلاف تو سب نے یکجا ہونے کا اظہار  کیا مگر دہشتگردی کرنے والوں یعنی طالبان و دیگر کالعدم تنظیموں کا نام لے کر واضح  نہیں کیا ہمارے سیاسی لیڈران طالبان کا نام لینے سے کیوں ڈرتے ہیں ؟ وہ طالبان دہشتگرد جو ہر دہشتگردی پر فخریہ زمہ داری قبول کرتے ہیں اس کے باوجود حکمران طالبان کو دہشتگرد کیوں نہیں کہتے؟ ماسوائے متحدہ قومی مومینٹ  عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے کوئی جماعت میڈیا پر طالبان کے خلاف آواز اٹھانے کو تیار نہیں سانحہ پشاور میں دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں 140 سے زائد جانوں کے ضیاع پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین صاحب نے جو رول ادا کیا ہے اس سے عوام میں کافی شعور اُجاگر ہوا ہے اور ایم کیو ایم الطاف حسین صاحب اور انکی جماعت نے ہر دہشتگردی پر طالبان کے خلاف سخت موقف اختیارکیا ہے جس سے انکی جماعت کی پالیسی واضح ہے اور اسی موقف کے اختیار کرنے پر ایم کیو ایم کے کئ حق پرست صوبائی سندھ اسمبلی کے ممبرز  طالبان کی دہشت گردی کے نتیجے  میں شہید ہوچکے ہیں اور اب الطاف حسین صاحب نے سانحہ پشاور کی مذمت کرتے ہوۓ مطالبہ کیا کہ عدالت سے سزا یافتہ  طالبان دہشتگردوں کو پھانسی دی جاۓ جو کہ عوام کا بھی مطالبہ ہے  اسی  طرح تحریک انصاف   مسلم لیگ نواز   جماعت اسلامی  پیپلزپارٹی و دیگر جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ بھی الطاف حسین صاحب  کی طرح جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوۓ طالبان دہشتگردوں کا نام لے کر سخت موقف اختیار کریں جس سے واضح ہوجائے کہ آپ طالبان نہیں قوم  کے ساتھ کھڑے ہیں .
سانحہ پشاور کے بعد عمران خان صاحب  تحریک انصاف کا 4 ماہ سے جاری دھرنا ختم کرنا پاکستان کے لیے خوش آئند بات ہے مگر کیا دھرنا ختم ہونے سے دہشتگردی رک جائیگی؟ اگر عمران خان صاحب حقیقی عوام کے نمائندے ہیں تو انھیں عوام کی آواز بھی سننی چاہیے اور عوام طالبان کے قیدی دہشتگردوں کی سرعام پھانسی کا مطالبہ کررہی ہے تو کیا وہ وزیراعظم سے استعفے کے مطالبہ کی طرح طالبان دہشتگردوں کی پھانسی کا مطالبہ  کرینگے؟ القائدہ کو پناہ دینے والی جماعت جماعت اسلامی سے اتحاد ختم کرینگے؟ اور وزیراعظم صاحب اس وقت قوم کو نئ ٹرینوں یا نئ سڑکوں یا چینی ترکی معاہدوں کی نہیں یکجہتی و اتحاد کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ پوری قوم تومتحد ہے دہشتگردوں کے خلاف مگر ہمارے حکمران متحد نہیں وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی  جماعتیں  جو طالبان کے لیے اچھے برے طالبان کا موقف رکھتی ہیں وہ  اپنے موقف پر نظرثانی کریں  اور میڈیا  پر اکر طالبان  کی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرکے پوری دنیا کو پیغام دیں کہ پاکستان کی عوام اور  تمام سیاسی جماعتیں دہشتگردوں کے خلاف ہیں   

Advertisements