انسان جب پیدا ہوتا ہے تو ایک ہی فطرت پر پیدا ہوتا ہے جو آگے چل کر مختلیف رجحانات میں بدل جاتی ہے اور شائد انسان ایسا ہو جو عام حالات میں تشدد پسندی کا رجحان رکھتا ہو لیکن پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوا کرتیں لہذا مختلیف ادوار میں انسان کی زہنی فکریات نے مختلیف سانحات و حادثات کو جنم دیا ان میں سینکڑوں ایسے واقعات ہیں جنھیں بیان کرتے ہوۓ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ سب ظلم و ستم کی داستانیں بپا کرنے والی کوئی اور مخلوق نہیں بلکہ انسان ہی تھے.دور جہالت ہو یا دور جدید تمام تجزئوں سے یہی ثابت ہے کہ انسان غصہ کی حالت میں پاگل پن کی آخری حدود کو چھو لیتا ہے اور یہ بھی  حقیقت ہے کہ  غصہ ہمیشہ حماقت سے شروع ہوکر ندامت پر ختم ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ شائد انسانی فطرت کا حصہ ہے .دنیا بھر میں ہونے والے سانحات انسانی زہن کی ہی مرہون منت ہیں جن میں لاکھوں قیمتی جانیں ضائع ہوگئيں ہیں اس کے باوجود کہ دنیا بھر میں بہت ہی سخت قوانین بنائے گئے ہیں تاکہ سانحات کے سدباب ہوسکے لیکن افسوس کہ سب قوانین بے سود رہے !!
دہشتگردی  ٹارگٹ کلنگ  ماورائے عدالت قتل اور طاقت کے نشے میں چور ظالم حکمرانوں نے کمزور اور نہتے عوام کو موت کے گھاٹ اتار دیا اس کے اعلاوہ اس جیسے درجنوں جرائم ہیں جو ہمارے ملک پاکستان میں ماضی میں بھی رونما ہوۓ ہیں اور آج بھی جاری ہیں اور بے شمار ایسے سانحات ہیں جن کی گتھیاں آج تک نہ سلجھائ جاسکی ہیں آخر یہ کس کی زمہ داری تھی اس ملک پر اپنی موروثی خاندانی سیاست کے زریعے حکمرانی کرنے والوں کی یا پھر ان اداروں کی جن پر ماہانہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں ؟
یہ مختصر سا جائزہ میں اپنے بلاگ کے زریعے آپ تک اس لیے  پہنچا رہا ہوں کہ جو کچھ ماضی میں ہوا ہے شائد عوام میں شعور بیدار ہونے کے بعد مستقبل میں ایسے سانحات نہ ہوں !! لیکن اگر اب بھی انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا اور من مانی کے زریعے درندگی کا ثبوت دیا گیا تو ملکی قوانین کا مذاق بن کر رہ جاۓ گا اور حالات قابو سے باہر ہونے کا مقصد پاکستان کی سلامتی کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا پاکستان میں ظلم و ستم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ آج بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے.
چاہے 1965 اور 1972 میں اردو بولنے والوں کا قتل عام ہو یا 1986 سانحہ سہراب گوٹھ ہو یا سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد 1988 ہو یا کوئی اور سانحہ ہو ،غرض یہ کہ سانحہ پر سانحہ  رونما کرکے حق پرست مہاجروں کو بے دردی سے ہر دور میں شہید کیا جاتا رہا ہے .
اسی طرح کراچی کے علاقے  قصبہ و  علیگڑھ  کالونی میں 14 دسمبر 1986 کو ایک درد ناک سانحہ پیش آیا جس کی بنیاد وہ آپریشن تھا جو کہ سہراب گوٹھ میں منشیات فروشوں اور اسلحہ مافیا کے خلاف 12 دسمبر 1986 کو شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو منشیات فروشوں اور اسلحہ مافیا کے خلاف کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی .پختون ایکشن کمیٹی کی جانب سے سہراب گوٹھ آپریشن  بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور کاروائی نہ روکنے پر غیر معینہ مدت کے لیے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا گیا. جبکہ سہراب گوٹھ کے مفرور اسلحہ اور منشیات فروشوں نے اورنگی ٹاؤن اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ہولناک خون ریزی شروع کردی اور 14 دسمبر 1986 کی صبح تقریباً چھ بجے پولیس اور انتظامیہ کی سرپرستی  میں منشیات و اسلحہ مافیا کے دہشتگرد سینکڑوں کی تعداد میں جدید ترین ہتھیاروں  ہینڈ گرینیڈ اور آتشی پاوڈر سے لیس ہو کر پہاڑوں سے اترے اور انھوں نے اورنگی ٹاون کے علاقے قصبہ کالونی اور  علیگڑھ کالونی کے مکینوں پر حملہ کردیا. مسلح دہشت گرد بے گناہ شہریوں پر گولیاں برساتے رہے جیتے جاگتے بچوں کو دہکتی اگ میں جھونکتے رہے اور کئ گھنٹے تک بربریت اور درندگی کا مظاہرہ کرتے رہے لیکن ان دہشت گردوں کو روکنے اور نہتے اردو بولنے والوں کو تحفظ دینے والا کوئی نہ تھا .بے گناہ شہریوں  کی جان و مال عزت و آبرو سے کھیلنے والے دہشت گرد بلاخوف خطرہ انتہائی درندگی کا مظاہرہ کرتے رہے اور  پھر سینکڑوں گھروں کے چراغ گل کرکے ان گھروں  میں صف  ماتم بچھا کر اور بزرگ والدین سے انکے  سہارے چھین کر درندہ صفت دہشتگرد پہاڑیوں پر چڑھ کر فرار ہوگئے.
روزنامہ جنگ ( لندن ) نے 15 دسمبر  1986 اس سرخی کے ساتھ خبر شائع کی ” کراچی میں مسلح گروہ نے 54 افراد کو ہلاک کردیا”. سب سرخیاں تھیں کہ ” کراچی شہر کی تاریخ کا بدترین فساد اورنگی ٹاؤن میں 350 مکانات اور دکانیں نذر آتش کمسن بچوں کو آگ  میں پھینک کر زندہ جلادیا گیا 310 افراد شدید زخمی حملہ آوروں کی درندگی 8 گھنٹے تک جاری رہی لوگ مدد کیلئے گڑ گڑاتے رہے.”
اسی  اخبار نے 16 دسمبر کو لکھا کہ “کراچی میں بربریت کا بدترین مظاہرہ ،مزید 60 افراد ہلاک کردیے گئے.
تاریخ کی بدترین دہشتگردی کے زمہ داروں کو نہ تو گرفتار کرکے قرارواقعی سزا دی گئ اور نہ کبھی اس المناک سانحہ کا تذکرہ کیا جاتا ہے .
سانحہ قصبہ و علیگڑھ کالونی میں شہید ہونے والے مہاجروں کے عزیز و اقارب آج بھی اپنے پیاروں کے غم میں خون کے آنسو رونے پر مجبور ہیں .
آج اس سانحہ کو سالوں بیت گئے مگر افسوس کہ آج بھی سانحہ قصبہ و علیگڑھ کالونی کے متاثر خاندان کو انصاف نہ مل سکا.
سانحات رونما ہو تو جاتے ہیں مگر بروقت انصاف نہ ملے تو ان سانحات سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں جس کے بعد معاشرے میں عدم برداشت کی فضا کو تقویت ملتی ہے لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ  پاکستان کے حکمراں اپنے طرز حکمرانی  کو تبدیل کرکے ملک میں عدل کا نظام قائم کرکے عدلیہ میں سیاسی مداخلت ختم کی جاۓ تاکہ مہاجروں پر ہونے والے ظلم اور سانحہ قصبہ و علیگڑھ کالونی جیسے دردناک واقعات میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جاۓ تاکہ آئندہ ایسے سانحات کسی  کے ساتھ رونما نہ ہو .
سانحہ قصبہ و علیگڑھ کالونی اور دیگر سانحات میں شہد ہونے والے مہاجروں کو سلام تحسین پیش کرتا ہوں جو تمام ظلم و ستم سہہ کر بھی حق پرستی کے پرچم کو تھامے رہے سلام ہے حق پرست قوم پر .اللہ تمام شہداء کی قربانیاں قبول فرماے شہداء کے درجات کو بلند کرے آمین.اور پاکستان کی عوام کو ظالم حکمرانوں سے نجات دلاے آمین.

Advertisements