کیا واقعی اثر ہوتا ہے تحریروں میں؟

10846195_735224249897289_1586862681680564565_n

کیا واقعی اثر ہوتا ہے؟ تحریروں میں ، تقریروں میں نعروں میں کھوکلے وعدوں میں ، ایوانوں میں بیٹھے اقتدار کے پجاریوں اور عوام الناس میں اثر ہوتا ہے؟ پاکستان ایک بہت خوبصورت ملک ہے مگر اس میں بسنے والے عام عوام کی داستان اتنی ہی دردناک ہے ایک طویل ظلم کی داستان اور شہیدوں کی ایک لمبی فہرست ہے  اور دلخراش واقعات کی ناختم ہونے والی تاریخ ہے جو بانیان پاکستان اور انکی اولادوں کے خون سے لکھی گئ ہے یوں تو ہم پورے سال کسی خاص دن کو کسی بات سے یا شخصیت کے دن یا کسی خوشگوار یا ناخوشگوار واقع کی یاد میں  مناتے ہیں جیسے یوم آزادی14 اگست ،قرارداد پاکستان 23 مارچ، قائداعظم کی پیدائش  یا انکی وفات ، علامہ اقبال و دیگر کے ایام،سقوط ڈھاکہ 16 دسمبر ،اور دیگر  بہت سے ایام ہم مناتے  ہیں مگر ہم کبھی ان شہیدوں کے لیے کوئی خاص دن  کیوں نہیں منایا کرتے؟ کہ کسی خاص دن ہم اجتماعی طور پر  پاکستان کی سلامتی اور اسکی  حفاظت کے لیے جان قربان کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کرسکیں.ہمیں یاد رکھنا چاہیے جو قومیں اپنا ماضی اور اپنے شہیدوں کی قربانیاں بھول جاتی ہیں ان قوموں کو تاریخ بھی بھلادیتی ہے.ہمیں اپنے قوم  کے شہیدوں کو نہ صرف یاد رکھنا چاہیے بلکہ انکے ورثاء کا بھی خیال رکھنا چاہیے

30 sep

لیکن میں آج کھلے دل سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں ایم کیو ایم اور انکے قائد الطاف حسین صاحب کو جو اپنی تحریکی کارکنان و ہمدردوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتے اور اپنے شہید کارکنان کے ایصال ثواب کے لیے ہر  سانحے اور ہر سانحے کی برسی پر  قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کے اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں اور انکی مغفرت کے لیے اجتماعی دعائیں کی جاتی ہیں یوں  تو ایم کیوایم کی تاریخ مظلومیت کی داستانوں سے بھری پڑی ہے مگر کچھ زخم ایسے ہیں جو تاریخ میں کبھی بھلاے نہیں جاسکتے جس میں سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد 1988،سانحہ قصبہ علیگڑھ 14 دسمبر ،1992 کا ریاستی آپریشن اور  دیگر بہت سے ایسے واقعات ہیں جو کبھی بھلاے نہیں جاسکتے کہ کس طرح مہاجروں کو چن چن کر ماورائے عدالت قتل  کیا گیا جس میں ایم کیو ایم کے  قائد الطاف حسین کے بھائی بھتیجے کو بھی نہیں بخشا گیا اور ناصر حسین  شہید اور عارف حسین شہید جیسے ہزاروں عام شہریوں کو ماورائے عدالت قتل  کردیا گیا   المیہ تو  یہ  ہے کہ آج تک کسی بے گناہ معصوم اردو بولنے والوں کے قتل عام پر نہ کوئی کمیشن بنا اور نہ کوئی تحقیقات ہوئی اور  آج بھی اردو بولنے والوں کے خون کے پیاسے  دندناتے پھر رہے ہیں

الطاف حسین اور ایم کیو ایم نے کبھی شہداء کو اور انکی قربانیوں  کو فراموش نہیں کیا میں سمجھتا ہوں یہ ہی وجہ ہے کہ آج انکی تحریک پورے پاکستان میں پھیل رہی ہے ایم کیو ایم نہ صرف اپنے شہید کارکنان بلکہ ملک کی حفاظت پر مامور ہمارے شہید فوجی نوجوان اور پاکستان کی بقا کے لیے جان قربان کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے 9 دسمبر کو یوم شہداء کے طور مناتی ہے اور پورے ملک میں متحدہ قومی موومنٹ کے تحت فاتحہ خوانی و قرآن خوانی کے اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں.

imagesas 1897946_626690540718683_899014781_n index

ہمیں اپنے شہیدوں کو  ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور ان استحصالی قوتوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جنھوں نے مہاجروں کے  خون سے حولی کھیلی . یوم شہداء کو ایم کیو ایم اور مہاجروں کے حقوق کی جدوجہد میں بہت  اہمیت حاصل ہے اس دن الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے تمام کارکنان اپنے شہداء  کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں کیونکہ زندہ و باضمیر قومیں اپنے شہیدوں کو یاد رکتھی ہیں اور شہداء کو یاد رکھ کر انھیں خراجِ عقیدت پیش کرکے انکی عظیم قربانیوں کو مشعل راہ بنانے والی قومیں ہی اپنی منزل و مقصد کو پایا کرتی ہیں اور ایسی ہی زندہ قوموں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنا  باطل و طاغوتی قوتوں کے لیے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے اور باطل قوتیں انھی قوموں پر غالب آتی ہیں جو خواب غفلت کا شکار ہوتی  ہیں اور جن میں آپس کے انتشار کے باعث اجتماعی مقصد کیلیے ایثار و قربانی کا  جزبہ نہیں ہوتا. اللہ تمام شہداء کی بخشش و مغفرت فرماے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرما اور جس مقصد یا حصول کی راہ میں وہ شہید ہوۓ اس مقصد کو بھی پاۓ تکمیل تک پہنچا آمین

.

1377169_733480593404988_7794275469256667625_n

Advertisements