B2Hzd0UCYAEpnXC B1_EtAeCIAALdOi

ہم جس معاشرے میں زندگی بسر کررہے ہیں اس میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غریب مجبور ہونا ایک جرم بن گیا ہے اور اسی لیے غریب محکوم عوام سے انکے جینے کا حق بھی چھینا جارہا ہے ہمارے حکمران الیکشن سے پہلے عوام سے وعدے کرتے ہیں کہ ہم تمھارے لیے یہ کرینگے وہ کرینگے مگر افسوس کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے.گزشتہ چند ہفتوں سے ہمارے پاکستان اور صوبہ سندھ کے شہر تھرپارکر میں غذائی قلت و قحط کی وجہ سے حالات دن بہ دن ابتر ہورہے ہیں اور سندھ کی  حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی جو کہ مسلسل 6 سالوں سے سندھ پر حکمرانی  کررہی ہے وہ اب تک اس قحط و غذائی قلت پر قابو پانے میں بالکل ناکام نظر آتی ہے جو انکے  منشور روٹی کپڑا اور مکان سے بالکل مختلیف ہے. تھرپارکر میں قحط کوئی نئ بات نہیں مگر اس قحط کے زریعے ہونے والی اموات میں قابو نہ پانا سندھ حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے گزشتہ 42 روز میں تھرپارکر میں قحط کی وجہ سے دم توڑ جانے والوں بچوں  کی تعداد 65 سے زیادہ ہوگی ہے جبکہ تھرپارکار کے مختلیف ہسپتالوں میں 100 سے زائد بچے زیرعلاج ہیں غذائی قلت و قحط کی وجہ  سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں اور  مشکل و پریشانیوں میں گھرے لوگ خودکشیاں کرنے لگے ہیں رواں سال تھرپارکر میں 41 افراد خودکشی کرچکے ہیں جس سے واضع ہوتا ہے کہ اس سال تھر میں خودکشیاں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ صرف قحط سالی ہے  غیر سرکاری ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2012 میں 24خودکشی کے واقعات میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور رواں سال 10 ماہ میں 41 افراد خودکشی کرچکے ہیں
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ تھرپارکر میں قحط سالی کے نتیجے میں معاشی دباؤ نے لوگوں پر زہنی دباو بڑھا دیا ہے جس کی وجہ سے ڈپریشن کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے اور خود کشی کے واقعات بڑ رہے ہیں .قحط سالی کی وجہ سے لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہیں خوراک کی کمی بہت زیادہ ہے جس سے زہنی نشونما بھی متاثر ہوتی ہے  متاثرین جب بیراجی علاقوں میں جاتے ہیں تو وہاں لوگوں کے پاس مالی فراوانی اور اپنی  قحط زدہ حالت دیکھتے ہیں تو اس سے ان میں احساس محرومی پیدا ہوتا ہے انھی احساسات میں کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ ایسی زندگی کو ختم کردیا جاۓ.تھر میں خوراک کی کمی کے باعث خواتین میں خون کی کمی عام ہے جس کے نتیجے میں بچے کمزور پیدا ہوتے ہیں اور بچوں کی اموات واقع ہوجاتی ہیں

مبصرین کے مطابق تھرپارکار میں ہونے والی اموات کی زمہ دار سندھ حکومت ہے کیونکہ تھرپارکر میں لوگوں کے مسائل حل کرنا اور انکی پریشانیوں کا تدراک کرنا حکومت سندھ کی زمہ داری ہے
اس وقت محسوس یہ ہوتا ہے کہ حکومت سندھ تھرپارکر کے معاملے پر کچھ زیادہ ہی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے تھر میں 110 ڈسپینسریاں اور ایک ایمر جنسی سینٹر ہے جو فعال نہیں ہے گزشتہ 2 سال سے تھرپارکار میں ڈاکٹروں بالخصوص پیڈیاٹریشن اور گائناکولوجسٹ  کی کمی ہے جاپان سے درآمد کردہ پانچ جدید موبائل میڈیکل ڈسپینسریاں محکمہ صحت کے حوالے کی گئ تھیں ان میں سے ایک ڈی سی او تھرپارکار  2008 سے استمعال کررہے ایک شرجیل انعام میمن کے فارم ہاوس پر زیر استعمال ہے 2 موبائل ڈسپینسری کینٹ چھور کے حوالے ہے اور 1 مٹھی ہسپتال میں ناکارہ کھڑی ہے ملایا سال  2013-14 میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس مٹھی کو پانچ کروڑ سے زائد کا بجٹ دیا گیا تھا لیکن اس فنڈ کا غلط استعمال کیا گیا رپورٹ کے مطابق خشک سالی 2012 سے جاری ہے اگر ہیلتھ یونٹس موبائل میڈیکل ڈسپنسریاں اور دیگر صحت کے مراکز کا بہتر استعمال کیا جاتا تو قیمتی جانوں کو  بچایا جاسکتا تھا
اگر تھر میں خشک سالی اور قحط سے نمٹنے کے لیے این جی اوز اور الطاف حسین صاحب  کی خدمت خلق فاؤنڈیشن و متحدہ قومی مومینٹ کو ہی کام کرنا ہے تو پاکستان پیپلزپارٹی سندھ حکومت سے دستبردار ہوجائے اور تھرپارکر میں ہونے والی اموات کی زمہ داری قبول کرے

B2HLCjtIQAE5kuZ B2F6dZpCEAAn75j

B2HsU91CcAAb7YV

تھر میں متحدہ قومی مومینٹ کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کا کردار قابل تحسین ہے تھر پارکر کی عوام بھی پاکستان عرام ہے یہ قوم کا مسلہ ہے اس مسلےء کو  سیاست سے بالاتر ہوکر حل کرنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ زندگیاں بچا لی جایئں اور سندھ  حکومت پیپلزپارٹی کو چاہیے کہ وہ بیانیات نہیں عملی اقدامات کرکے تھر کے عوام کی مشکلات دور کریں.
پچھلے 6 برس سے پاکستان پیپلزپارٹی سندھ میں حکومت کررہی ہے لیکن تھرپارکر کے حالات جوں کے توں ہیں پیپلزپارٹی کے وزیروں مشیروں کی زندگیاں تو بہتر ہوگئی مگر تھر کی عوام کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی اس بنا پر کہنا بالکل بجا ہے کہ تھرپارکر میں غذائی قلت کی زمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے لہذا سندھ حکومت کو چاہئے کہ تھرپارکر میں مستقل بنیادوں پر منصوبہ  بندی کی جاے اور لوگوں کو اموات و مشکلات سے بچایا جاۓ  بصورت دیگر تھرپارکار میں کوئی بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے جس کی زمہ داری سندھ حکومت پر  ہوگی

Advertisements