10314535_679992422081905_8161987663283958024_n

میراتعلق  حیدرآباد سے ہے جو پاکستان کا ساتواں اور سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے اور اس کے باوجود آج تک یہاں کے طلباوطالبات اپنے بنیادی حقوق اور تعلیم جیسے فرض سے محروم ہیں اور ہر عام شہری اپنی ہراس بنیادی حقوق سے محروم  ہے جس کی تمام تر زمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے. ویسے تو پاکستان میں بسنے والے ہر عام شہری کو اس کے حقوق نہیں مل رہے  مگر پچھلے 40 سالوں سے صرف سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ ہے  جس کی وجہ سے اہل  طلباوطالبات کو انکا حق نہیں ملتا  اور پاکستان میں کہیں کوٹہ سسٹم رائج نہیں یوں کوٹہ سسٹم کی آڑ میں کھلے عام میرٹ کا قتل عام کیا جاتا ہے جو نا کہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ اگر اس کوٹہ سسٹم کے تحت کالجز اسکولز اور ملازمتوں میں نااہل لوگوں  کی تقرریاں ہوتی رہیں تو آنے والے 10 سالوں  میں پاکستان کے حالات موجودہ حالات سے  بدتر  ہونگے . پاکستان میں نئے صوبے یونیورسٹیز کالجز لائبریریوں کا قیام عمل میں آنا وقت کی اہم ضرورت ہے

چند ہفتوں سے پورے پاکستان میں صوبوں کی بازگشت ہے یوں تو سب پاکستان میں نئے صوبوں کی حمایت کرتے ہیں مگر کوئی صوبوں کے قیام کے لیے عملی اقدام نہیں کررہا ہے  اور جو  صوبوں کے لیے باقاعدہ آواز اٹھا رہا اس جماعت کے قائد اور اس جماعت کو صوبوں  کے قیام کے مخالفین اسے لسانی رنگ دے کر صوبوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کررہے ہیں سندھ کے اردو بولنے والے مہاجر  ناانصافیوں سے تنگ آکر اپنے حق کے لیے آواز بلند کررہے ہیں اور اپنے الگ صوبے کا مطالبہ کررہے ہیں اسی طرح پنجاب میں سرائیکی صوبے کی تحریک اور خیبرپختونخواہ میں ہزارہ وال و دیگر صوبوں  کی تحریک کی بازگشت عروج پر ہے جو کہ  عوام کا آئنی حق ہے مگر افسوس کہ کوئی عوام کا  دیرینہ مطالبہ سننے کو تیار  نہیں یہ کیسی جمہوریت ہے  جس جمہوریت میں عوام کے  حقوق  کے لیے  قانون سازی نہ ہوسکے. 

imagesqdade     images=  imagesqer    index[ooi    

 تمام سیاسی جماعتوں کو الطاف حسین کو  خراج تحسین پیش کرنا چاہیے کہ انھوں نے سندھ کی تقسیم کی ہر  سازش کو ناکام بنایا اور  مہاجروں اردو بولنے والے سندھیوں کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو ہر بار منہ کی کھانی پڑی . سندھی قوم پرست  جاگیردار وڈیرے  مہاجروں پر  ظلم و ستم و بربریت کی داستان رقم کرکے اپنی الگ سندھو دیش ریاست بنانا چاہتے تھے جس کا ثبوت وہ دلخراش واقعات ہیں جس میں 17000 سے کہیں زیادہ مہاجر اردو بولنے والوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اگر 1978 سے لیکر اج 2014 تک سندھ میں مہاجر اردو بولنے والوں کو الطاف حسین نے نہیں سنبھالا ہوتا تو آج سندھ میں جاگیردار وڈیرے سندھی قوم پرستوں کے زریعے اپنی الگ سندھودیش ریاست قائم کرچکے ہوتے اور اس کا سارا ملبہ اردو بولنے والے مہاجروں پر ڈال دیتے. سندھ کی تقسیم کی نہ پیپلزپارٹی کو فکر ہے نہ قوم پرستوں کو فکر ہے اور  یہ ماضی میں پاکستان کو 1971 میں بنگلہ دیش کی صورت میں دو لخت کرچکے ہیں .انکے نزدیک اپنے اقتدار کے اعلاوہ کوئ چیز اور کویئ زمین اہم نہیں انھیں بس اقتدارِ چاہیے مگر الطاف حسین صاحب نے اپنی جماعت کو مہاجر سے متحدہ قومی موومینٹ میں تبدیل کرکے تمام قومیتوں کے مظلوم غریب محکوم عوام کو زبان  دے کر جاگیردار وڈیروں کا جینا حرام کردیا ہے اور جس سے نہ صرف سندھ   بلکہ پاکستان کے تقسیم کی تمام سازشیں ناکام ہوگئیں

imagesad         images

الطاف حسین صاحب کی بات کو ہمیں غور سے سننا چاہیے کہ انھوں نے کبھی سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ حقوق سے محروم عوام کے حقوق کی بات کی ہے خواہ وہ سندھی ہو ،اردو بولنے والا مہاجر ہو یا کوئی اور زبان بولنے والا ہو سب کو یکساں حقوق ملیں کسی کو زبان کی بنیاد پر تعصب کی بھینٹ نہ چڑھایا جاۓ جو ایک بہت اچھی بات ہے جسے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی سمجھنا چاہیے اور اس کے لیے آواز بھی اٹھانا چاہیے مگر یہ بھی حقیقت ہے اور تحریک انصاف کو اگر قومی  جماعت بننا ہے تو عمران خان صاحب  اور تحریک انصاف کو سندھ بلوچستان پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں بسنے والے عوام کی محرومیوں اور عام عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی  عمران خان ابھی نئے لیڈر ہیں انھیں چاہیے کہ وہ  اگر سیاست میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو انھیں تعصب کا عینک اتار  کر دیکھنا ہوگا اور عوام کی آواز سے آواز ملانی ہوگی میری ہمدردانہ گزارش اور  مشورہ ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے لیے اٹھنے والی آواز اور عوام کے دیرینہ مطالبے پر لبیک کہنا چاہیے  مہاجر ، سرائیکی ،ہزارہ وال سمیت 20 نئے صوبوں کے قیام کی مکمل حمایت کے لیے عمران خان  اور تحریک انصاف کو بھی میدان عمل میں آنا ہوگا
ہمیں وقت کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا کہ اگر اب بھی عوام کی امنگوں پر کویئ پورا نہ اترا تو اس کا خمیازہ ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو بھگتنا ہوگا
خدارا وقت اور حالات کو دیکھتے ہوۓ عوام کے حق میں فیصلے کیے جائیں .

                                                                           

Advertisements