1458561_755334401191280_2593577923413438635_n 1524648_755334397857947_2878661638621819189_n

پاکستان میں تعلیمی نظام تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری،ارد گرد کا ماحول اور پھر نااہل لوگوں کو وزارت تعلیم جیسی اہم وزارت پر براجمان کرنا ہے.اگر ہم پاکستان کی تعلیمی نظام کی  مجموعی بات کریں تو زیادتی ہوگی کیونکہ پنجاب میں تعلیمی نظام پاکستان کے دیگرصوبوں سے قدر بہتر ہے کیونکہ وہاں سندھ کی طرح کوٹہ سسٹم نہیں جو میرٹ کے قتل عام ہونے کے مترادف ہے .بہرحال میں پنجاب کے ماحول اور وہاں کے کلچر سے اچھی  طرح واقف نہیں تو اس کے لیے زیادہ کچھ لکھنا نامناسب ہے چونکہ میرا تعلق سندھ سے ہے تو میں سندھ کی بات کرونگا جس میں چند ایک شہر پورے پاکستان کے لیے بہت خدمت سرانجام دیتے ہیں اور شہری سندھ کا شہر کراچی جس میں سب سے نمایاں ہے  مگر افسوس کہ شہری سندھ  کے ساتھ پچھلے 67 سالوں سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے جس کی بنیاد میں سمجھتا ہوں وہ کوٹہ سسٹم ہے جو صرف سندھ میں نافذ ہے جس سے شہری سندھ خاص طور سے کراچی کے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا جارہا ہے اور کوٹہ سسٹم کی آڑ میں نااہل لوگوں کو شہری سندھ  کراچی بلا کر اہم عہدوں پر فائز کیا جارہاہے جو سراسر کراچی کے باصلاحیت شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے  ہر اہم وزارت یا ڈیپارٹمنٹ میں نااہل سے نااہل شخص کو اہم پوسٹ پر بٹھانا ہے یا براجمان کرنا .
پاکستان کے حکمرانوں کا یہ طرہ امتیاز ہے ‎‏ 

10710871_376858935799902_7950486461358876815_n  By8V6kTCcAAhc6N 

  سندھ میں جب سے ہمارے سابق صدر آصف علی زرداری صاحب کے بہنوئی فضل اللہ پیچوہو سندھ کے سیکریٹری تعلیم کے عہدے پر آۓ ہیں تب سے تعلیمی ادارے کرپشن کی آماجگاہیں بنے ہوۓ ہیں اور سیکریٹری تعلیم اور انکے رفقاء نے سندھ کے تعلیمی اداروں بدعنوانی کے ریکارڈ قائم کردیے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیکریٹری تعلیم اور انکے دیگر افسران شہری سندھ کے طلباء کے حقوق کے غضب کرنے اور شہری سندھ کے طلباوطالبات کو پریشان کرنے کا ٹاسک لے کر آۓ ہیں جس کا منہ بولتا ثبوت کراچی میں اس سال نافذ ہونے والی مرکزی داخلہ پالیسی 2014 ہے جو ایسی داخلہ پالیسی کی جگہ بنائی گی جس میں طلباء باآسانی فرسٹ ائر میں داخلے کے لیے فارم جمع کرواسکتے تھے

‎‏کراچی میں نئ متعارف ہونے والی داخلہ پالیسی  2014میں طلباوطالبات کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ ایک غیر معیاری بینک “سندھ بینک” میں اپنے آن لائن فارم کی کاپی جمع کروایئںاور وہیں اپنی فیس بھی ادا کریں کراچی میں اس غیر معروف اور غیر معیاری بینک ” سندھ بینک” کی ٹوٹل 58 شاخیں ہیں جو کراچی کے 18 ٹاونز میں سے صرف 6 ٹاونز میں موجود ہیں اور ان 6 ٹاونز میں بھی ایسی جگہوں پر یہ بینک واقع ہے جس کا عام شہریوں اور طلباوطالبات کو پتہ ہی نہیں جس بینک کا طلباوطالبات اور انکے والدین کو معلوم ہی نہیں تو آپ خود سوچیے کہ طلباوطالبات اور انکے والدین کس طرح کی ازیت میں مبتلا ہونگے؟  فارم کی مقرر کردہ فیس  60 روپے تھی مگر کاؤنٹر پر ان سے 60 روپے  سے زائد کی رقوم وصول کی گئ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں اگر ایک لاکھ بچوں نے فارم جمع کرواے تو کس طرح سے غریب والدین کو لوٹ کر کرپشن کا بازار گرم کیا ہوا ہے سندھ میں بہتر کارکردگی رکھنے والے بینکوں کو نظر انداز کرکے ایک غیر معیاری اسٹاف کے تحت چلنے والے سندھ بینک کو اتھارٹی دی گی کہ وہ کراچی کے طلباوطالبات کے ایڈمیش فارمز کی کاپیاں جمع کروایئں جو ایک باشعور طبقے کے لیے باعث تشویش ہے.

جب آن لائن فارم کی سبمیشن  پالیسی ناکام ہوگئ اور  داخلہ پالیسی کی سائٹ کریش ہوگئ تو طلباوطالبات کو کہا گیا کہ اب وہ بینک سے پروسپیکٹس لے کر فارم جمع کروایئں جب طلباوطالبات فارم کے لیے بینک گئے تو انھیں وہاں مختلیف طریقوں سے پریشان کیا گیا جس کی وجہ سے مقررہ تاریخ تک تمام طلباوطالبات فارم جمع نہ کرواسکےسیکریٹری تعلیم صاحب کراچی کے بچوں کا مستقبل خطرے میں ڈال کر خود جناب امریکہ یاترا پر رہے ایسا  لگتا ہے جیسے سندھ کا تعلیمی نظام ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے جس کا مقصد صرف کرپشن کرنا ہے.   

ہمارے لیے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان تمام تر خدشات اور تمام پریشانیوں کا جواب دینے والا کوئ نہیں  ہے اور داخلے کے عمل میں جتنی بھی کرپشن بدعنوانی اور طلباوطالبات کی شکایات اور انکا ازالہ کرنے کے لیے کوئی کمیٹی بھی نہیں 

کراچی اور شہری سندھ کا مینڈیٹ رکھنے والی جماعت کو ہی وہاں کی پالیسی بنانے کا اختیار دیا جاۓ تا کہ وہ خوش اسلوبی سے اور شفافیت سے داخلے کے عمل کو چلاے مگر افسوس کہ ہمیشہ اندرون سندھ سے منتخب جماعت اپنے اثر  و رسوخ  بڑھانے کے لیے اندرورن سندھ سے لوگوں  کو بلا کر کراچی کے باشعور عوام پر مسلط کردیتے ہیں  جو سراسر شہری سندھ  میں مینڈیٹ رکھنے والی جماعت کے ساتھ ناانصافی ہے.
کراچی پر سب قابض ہونا چاہتے ہیں مگر کوئی کراچی کے نوجوان طلباوطالبات کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے لیے آواز بلند  کیوں نہیں  کرتا ؟ کراچی کے طلباوطالبات کو  انٹر میڈیٹ کالجز میں داخلے میں جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اس کے لیے صرف ایم کیو ایم نے آواز اٹھائی جو سب کے سامنے  ہے
شہری سندھ کے طلباوطالبات کو اس متعصبانہ پالیسی کے بعد سمجھ آگیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کبھی بھی شہری سندھ کے طلباوطالبات سے مخلص نہیں ہر طرح سے شہری سندھ اور خاص طور سے مہاجر نوجوانوں کے حقوق غصب کیے جارہے ہیں 

مزید کراچی دشمن پالیسی سے گریز کیا جاے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگرکراچی اور شہری سندھ کے لیے کوئی پالیسی بنائی جاے تو اسے نافذ کرنے سے پہلے ایم کیو ایم سے مشورہ لیا جاے کیوں کہ کراچی کے عوام کو ایم کیو ایم پر بھروسہ ہے اور کراچی کے عوام ہر دور میں ان پر ہی بھروسہ کرتے آۓ ہیں کراچی میں کامیاب پالیسی کے لیے ایم کیو ایم کی حمایت لازمی ہے پیپلزپارٹی کو چاہیے کہ کراچی اور شہری سندھ میں پالیسی کا اختیار متحدہ قومی موومنٹ کو دے دیا جاۓ جس سے سندھ اور پاکستان ترقی منزلیں طے کرسکتا ہے

بس میری بات کو  تعصب کی عینک ہٹاکر دیکھا  جاے تو ایک محب وطن  شہری ہونے کہ ناطے میں نے پاکستان  کی  ترقی  و خوشحالی کے لیے بہترین تجویز ہے جس  کی تائید ہر پاکستانی کرے گا.

میری گزارش ہے کے وزارت  تعلیم  اور سیکریٹری تعلیم  متعصب پالیسی بنانے  کے بجاے تعلیمی اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کی کرپشن ختم کرنے پر دھیان دیں.خدارا میری دانشوروں اور صحافیوں سے گزارش ہے کراچی کے طلباوطالبات کے حق کے لیے آپ بھی آواز بلند کیجیے کیونکہ یہ ملک کے معماروں کے مستقبل کا سوال ہے  کیپ پالیسی کے زریعے کراچی کے طلباء کا استحصال کیا جارہا ہے خدارا اس پالیسی کو واپس لیا جاۓ کراچی کے ہزاروں طلباء کا مستقبل داؤ پر لگا‎ ‎ہے .

Advertisements