01october1988

پاکستان میں یوں تو پوری تاریخ مظلوموں پر ظلم سے بھری پڑی ہے مگر پاکستان میں ایک طبقہ آبادی ایسی بھی ہے جسے صرف اس بات کی قیمت کے عوض ظلم کا سامنا کرنا پڑا کے انکاتعلق بانیان پاکستان سے ہے کہ انکے اجداد نے اس عزیز وطن کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے. پہلے صرف یہ وجہ تھی کہ اردو بولنے والے بانیان پاکستان کی الادیں ہیں اس بنیاد پر ناحق خون بہایا گیا اور پھر جب اردو بولنے والوں کا لیڈر اپنی قوم کے  حقوق کے لیے سامنے آیا  تو پھر اردو بولنے والوں کو الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا ساتھ دینے کی سزا کے طور پر اپنی جانیں قربان کرنا پڑی مگر فرق اتنا  ہے کہ پہلے بنا کسی مقصد اور بنا کسی جدوجہد کے اردو بولنے والے قتل ہورہے تھے الطاف حسین نے اردو بولنے والوں کو نظریہ فکر  اور سوچ دے کر ایک عظیم  اجتماعی مقصد دے کر اس قتل عام کو  شہادت میں تبدیل کردیا.الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی جدوجہد سے پہلے  اردو بولنے والے بنا کسی مقصد کے قتل ہورہے  تھے مگر الطاف حسین کی فکر و نظریے کے بعد  اردو بولنے والے اپنے حقوق کے حصول اور اپنی  قوم کی بقا کے لیے لڑتے ہوے شھید ہوۓ .الطاف حسین ایم کیو ایم اور انکے تمام کارکنان و  ہمدردوں نے بہت سے مشکل حالات اور سانحات کا سامنا کیا جس میں سے ایک سانحہ حیدرآباد 30 ستمبر 1988 ہے جس میں حیدرآباد کے اردو  بولنے والوں نے وہ زخم برداشت کیا وہ زخم  سہہ جو 26 سال بعد بھی  نہ بھر سکا. میں اس وقت  اس  دنیا فانی میں  نہ تھا مگر اردو بولنے والے مہاجروں  میرے اجداد نے جو ظلم برداشت کیا وہ   اب تاریخ کا حصہ ہے جو حاکموں نے اردو  بولنے والوں  کے  خون سے لکھی ہے

30 sep

تاریخ بتاتی ہے کہ سندھ کے سندھی اور اردو بولنے والے سندھیوں کے درمیان نفرتیں پھیلانے کی سازش کے تحت ایم کیوایم دشمن قوتوں نے کسی  مگسی , جانو آراییں اور جاکھرانی نامی افراد کو لاکھوں روپوں کی نقدی اور اسلحہ دے کر 30 ستمبر 1988 کو حیدرآباد میں اردو بولنے والوں کا قتل عام کروایا .
تاریخ بتاتی ہے کہ یہ دونوں قاتل دہشت گرد 30 ستمبر کی شام 7.30 بجے  10،11 گاڑیوں میں اسلحہ لیس دہشتگردوں کے ساتھ حیدرآباد میں داخل ہوۓ اور  ایک ہی وقت میں شہر کے70 مقامات میں دیشت گردوں نے قتل وغارت گری کا بازار گرم کر ڈالا. – حیدرآباد کے گنجان علاقے، اور بازاروں میں اندھادھند فائرنگ کرتے ہوۓ  مارکیٹوں ،پریٹ آباد ، اور پکا قلعہ جیسے رہاشی علاقے میں  پہنچ کر راہ گیروں  اور خریداری کرنے والے معصوم افراد کو درندگی سے شھید کردیا خواتین کی بے حرمتی کی چار دیواری کا تقدس پامال کیا  2،3 گھنٹوں تک حیدرآباد گولیوں کی آواز سے گونجتا رہا جیسے یہ انسان نہیں بلکہ کوئی خطرناک جانور تھے بنا کسی رحم کے بچوں بزرگ نوجوان ہر عمرکے افراد کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا کسی کے سر  سے باپ کا سائہ اٹھا تو کوئی ماں کی محبت سے محروم ہوگیا کوئی اولاد سے محروم ہوا تو کوئی یتیم ہوگیا کوئی بھائی کی ڈھال سے محروم ہوگیا تو کوئی بہن کی حفاظت سے محروم ہوگیا اور کوئی سب کچھ کھو کر تنہا رہ گیا. وہ سب چلے گئے دنیا سے مگر تاریخ نے انکو امر کردیا.
اس سفاکانہ قتل عام کا مقصد اردو بولنےوالوں کو مشتعل کرکے سندھ   میں آگ لگانا تھا تاکہ الطاف حسین اور انکی جدوجہد جو کہ  اپنی قوم کے لیےہے  اسے روکا  جاسکے مگر سلام ہے اس حق پرستی کے مسافر اور ان مسافروں  کے قائد الطاف حسین پر کہ جس نے 30 ستمبر  1988 حیدرآباد کے سانحہ کے پیچھے چھپے سازشی عناصر کی سازش کو جانچتے ہوۓ اپنی قوم کو صبر کا گھونٹ پینے اور پر امن رہنے کی ہدایت کی اور اپنے کارکنان کو اس سازش سے آغا کیا کہ یہ چند لوگوں کی اردو بولنے والوں کے خلاف سازش ہے اس لیے  ہمیں برداشت سے کام لیکر اس سازش کو ناکام بنانا ہے  اور سندھ کے سندھی اور اردو بولنے والے آپس میں بھائی ہیں .
الطاف حسین نے ہمیشہ ایسے  بڑے بڑے سانحات کے باوجود اپنے کارکنان کو پر امن  رہنے اور محبت و بھائی چارہ قائم رکھنے کا درس  دیا  یہ وجہ ہے اج الطاف حسین  ایک قومی لیڈر کی حیثیت  رکھتے ہیں اج تمام  مکاتب فکر  تمام قومیت اور تمام مسالک کے لوگ  الطاف حسین کی  قیادت پر اعتماد کا اظہار کررہے ہیں .
سانحہ 30 ستمبر 1988 حیدرآباد اور  دیگر  سانحات کے شہداء کی شہادتوں  کے صدقے الطاف حسین اور انکی تحریک  کو اللہ کامیاب کرے  الطاف حسین کی قیادت میں یہ   تحریک  کامیابی کے قدم چومے (آمین ) اللہ سب کا حامی و ناصر ہو اپنی حفط و امان میں رکھے

Advertisements