پاکستان کا شمار ایٹمی ممالک میں کیا جاتا ہے مگر مجھے آج افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہم ایک ایٹمی ملک تو بن گئے مگر 67 سالوں میں غیرت مند قوم نہ بن سکے . ہمیں آج تباہی کے دہلیز پر پہنچانے میں سیاسی پنڈتوں کا ہاتھ تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ ان نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں سول سوسائٹی  کالم نگار تجزیہ نگار اور آج کے جدید  دور میں آدھے سیاسی اور آدھے صحافی لوگوں کا بھی ہاتھ ہے. آج پاکستان میں جمہوریت توہے مگر جمہور کے لیے  کچھ نہیں ہے آج تک ہماری جمہوری قوتیں عوام کو انکے بنیادی حقوق نہ دے سکی اور نہ ہی کوئی جمہوری ادارے انکو انصاف دے سکے.آج پورا پاکستان معاشی بدحالی  کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ پاکستان میں جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل نہ  کرنا ہے
پاکستان کی آبادی 18 کروڑ سے تجاوز کر گئ ہے مگر آج بھی پاکستان میں 4 صوبے ہیں جو خالصتآ لسانی بنیاد پر مبنی ہیں جس میں دیگر قومیت اور دیگر زبانیں بولنے والے بھی اپنی اکثریت رکھتے ہیں اور موجودہ چاروں صوبے لسانی بنیاد پر ہونے کی وجہ  سے دیگر قومیت اور دیگر زبانیں بولنے والوں  میں احساس محرومی پائی جاتی ہے  اور  یہ احساس محرومی بڑھتی جارہی ہے اور ہمارے حکمران حقوق سے محروم عوام کو حقوق دینے کے بجاے انکے حقوق کے حصول کی تحریکوں کو سیاسی رنگ اور لسانی رنگ دے کر انکا مزید استحصال کررہے ہیں اور جبر و تشدد کے زریعے  معاشی قتل عام کیا جارہا ہے  اج  پورے پاکستان میں عوام اپنے اپنے الگ صوبوں کا  مطالبہ کررہے ہیں جو اب تک آئنی ہے مگر اب بھی حقوق سے محروم عوام کی محرومیاں  ختم نہ کی تو عوام اپنے حقوق غیر آئینی طریقے سے بھی لے سکتے ہیں.
 پاکستان کی 67 سالہ تاریخ بہت سے دل خراش واقعات سے بھری پڑی ہے مگر مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش اور سندھ کے اردو بولنے والے مہاجروں کے ساتھ جو ان جاگیردار وڈیروں نے کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے آج جو مہاجر اردو بولنے والے حقوق سے محروم ہیں ٹھیک اسی طرح 1971 سے پہلے بنگالیوں کے سامنے بھی یہ ہی حالات تھے جس کے بعد انھوں نے اپنے حق کے لیے فیصلہ کن جنگ کرکے اپنی الگ ریاست قائم کرلی تھی اور آج وہ ہم سے زیادہ تیزی سے ترقی کررہے ہیں اس سے پہلے اردو بولنے والے مہاجر بھی سندھ میں فیصلہ کن جنگ اعلان کریں اس سے پہلے ہی انکی محرومیوں کو دور کیا جاۓ  اور ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین کے اس مطالبے پر فی الفور غور کیا جاۓ کہ  ملک میں لسانی نہیں تو انتظامی بنیاد پر ایڈمنسٹریٹیو یونٹس بناے جاۓ   تاکہ  حقوق سے محروم عوام کے معاشی استحصال کو کم کیا جاے  اور پورے پاکستان  میں مقامی حکومتیں قائم کی جائیں میرے  نزدیک الطاف حسین صاحب  کی پورے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ بالکل درست اور پاکستان کے حق میں ہے اور یہ ہی پاکستان کی ترقی کا واحد راستہ ہے مگر افسوس متعصب اور جاگیردارانہ وڈیرانہ سوچ کے حامل نام نہاد لیڈرز اس کو لسانی  رنگ دے کر مہاجروں کے خلاف زہر افشائ کررہے ہیں کچھ  لیڈرز  کو سرائیکی  ہزاراوال اور دیگر  کے لیے صوبے تو منظور  مگر جب سندھ کے مہاجر اردو بولنے والے اپنے حقوقِ یا صوبے کی بات کریں تو مہاجروں سے بغض رکھنے والے لیڈرز کو یہ سندھ کی تقسیم نظر آتی ہے یہ متعصب حکمرانوں کو دیگر صوبوں میں تقسیم کیوں نظر نہیں آتی ؟ یہ ہی وہ رویہ  ہے جو سالوں سے مہاجروں  کے ساتھ روا رکھا جارہاہے  اردو  بولنے والے مہاجروں نے پہلے پاکستان کے قیام کے  لیے 20 لاکھ سے  زائد  جانوں کے نذرانے دیے  اور آج اپنے  جائز جقوق کے حصول کی 36 سالہ جدوجہد میں 20 ہزار  سے زائد مہاجر شھید ہوچکے ہیں  اور سقوط ڈھاکہ پر مگر مچھ کے  آنسو بہانے والوں اتنی  شہادتیں تو  سقوط ڈھاکہ میں بھی نہیں ہوئی تھی مگر افسوس کہ اج تک ہمیں تسلیم ہی نہیں کیا گیا مگر اب بھی ہمیں تسلیم نہ کیا گیا تو  بات صوبے سے نکل کر آگے بھی جاسکتی ہے
پی ٹی آئی اور خان صاحب کی بھی بھی مہاجروں سے بغض بھری سوچ واضح ہوگئ جب انھوں پی ٹی آئ سندھ کے اہم زمہ دار نادر لغاری کے مہاجروں سے متعلق متعصبانہ بیان سے لا تعلقی کا اعلان نہیں کیا اس سے صاف طاہر  ہوتا ہے کہ عمران خان صاحب اور  پی ٹی آئی بھی وہی جاگیردارانہ وڈیرانہ سوچ کے حامل ہیں اور انھیں بھی مہاجروں پر ہونے والے ظلم نظر نھیں آتے عمران خان صاحب کراچی میں آپ کیا  کرنے آرہے ہیں ؟ کراچی مہاجروں کا شہر  ہے جہاں اردو بولنے والے  بستے  ہیں مہاجروں کے لیے پی ٹی آئی اور عمران خان صاحب آپ نے کچھ کیا کچھ کرنا تو دور آپ نے آج تک  مہاجروں کے اوپر ہونے والے ظلم کا شکار عوام کے لیے 2 لفظ تک  نہ کہے دیہان سے آئیے  گا خان صاحب کراچی اور نادر لغاری صاحب جتنا فخر اپکو سندھی ہونے پر ہے  اس سے ہزار گناہ زیادہ مہاجروں کو اپنے مہاجر اور بانیان پاکستان اور انکی اولاد ہونے پر فخر ہے یاد رکھو  مہاجر جب ملک بنا سکتے ہیں  تو  صوبہ  بنانا کوئی بڑی بات نہی.
میرا سوال ان نام نہاد پڑھے لکھے  کالم نگار تجزیہ نگار  بڑے بڑے  عہدوں  پر بیٹھے پروفیسرز لیکچرارز اور اعلی نام  نہاد عدلیہ کے ججز انسانی حقوق کی علمبردار  تنظیموں سے ہے !! کیا تمہیں مہاجروں کا خون ناانصافی نظر نہیں اتی ؟ انکے حقوق کی پامالی نظر نہیں آتی ؟ سانحات سے بھری مہاجروں کی خونی  تاریخ  اور انسانی حقوق کی پامالی انسانی  حقوق کی تنظیموں کو نظر کیوں نہیں  آتی ؟ اساتذہ مہاجروں کی قربانیاں نئ نسل  کو کیوں نہیں بتاتے ؟ اور قلم نگاروں کے قلم اور تـجزیہ نگاروں کے تجزیے حقیقت کب بیان  کرینگے اردو  بولنے والوں پر ہونے والے ظلم کی داستان کے لیے آپکے قلم آپکا ساتھ کیوں نہیں دیتے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان میں مہاجر لفظ سے اتنی عصبیت کیوں ہے اہل قلم میں آپکے لیے  صرف اتنا کہوں گا کہ اہل قلم تمھاری تلوار زنگ آلود ہے .
ایک بار پھر میں یہ کہنا چاہوںگا کہ لہذا ایم کیو ایم کے قائد کے بیانات کی روشنی میں حقوق سے محروم عوام کے حقوق دینے کے لیے اقدام کیے جایئں

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پر نگاہ ڈالیں تو ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے ممالک میں بھی پاکستان سے زیادہ  صوبے ہیں جب 25،30 لاکھ کی آبادی کے ممالک میں  7 صوبے ہوسکتے ہیں تو پاکستان میں 18 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں صرف 4 صوبے  پورے ملک کی عوام سے دھوکہ ہے

میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف  حسین صاحب کے اس بیان اور تجویز کی حمایت کرتا ہوں کہ پاکستان میں مزید 20 ایڈمنسٹریٹو یونٹس بناے جایئں جو حقیقی طور پر پاکستان اور اسکی عوام کو مزید مستحکم کریگا میں امید کرتا ہوں کہ کالم نگار بھی تعصب سے بالاتر ہو کر الطاف حسین صاحب کے مطالبہ پر غور کرینگے وہ بھی اسکی افادیت کو اپنے الفاظوں میں قلم بند کرینگے.

Advertisements