imagesasas  images

پاکستان میں آج بچہ بچہ سیاستدان بنا دکھائی دیتا ہے کیوں کہ اس کی وجہ پاکستان میں موروثی سیاست ہے کسی بھی بھٹو یا شریف خاندان میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے اسکے لیے سوچ لیا جاتا ہے کہ وہ بڑا ہوکر ایم پی اے  ایم این اے اور وزیراعلی وزیراعظم بنے گا یا بنے گی اور اسے تربیت کے لیے بیرون ممالک بھیج دیا جاتا ہے کیونکہ وہ شریف اور بھٹو خاندان کے بچے پیدا ہی غریب عوام کی حکمرانی کے  لیے ہوتے ہیں ورنہ انکے والدین کو اپنی اولاد کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی وہ اپنی اولاد کو نہیں بلکہ اپنے بچوں کی شکل میں اپنے حکمرانی کی پرورش کر رہے ہوتے ہیں کہ انکے بچے  انکے بعد انکے منصب کو سنبھالے گے .اور پھر جب شریف اور بھٹو جیسے نامور نام والے بچے جب بڑے ہونے لگتے ہیں تو انکے بڑے اپنی سیاست میں اپنے چھوٹے بچوں کو استعمال کرتے ہیں اور جو بات خود نہیں کہہ سکتے یا خود کہنے کی جرات نہیں  رکھتے تو وہ بنا سوچے سمجھے اپنے نادان  اور امپورٹڈ بچوں سے کہلواتے ہیں میرے پاس حال ہی کی ایک ایسی مثال موجود ہے جو میری بات  کو تقویت دیتی ہے 17 ستمبر کو ایم  کیو ایم کے قائد الطاف حسین صاحب  اپنے کارکنان سے اپنی 61 ویں سالگرہ کے موقع پر خطاب کررہے تھے آور اپنی تقریر کے دوران انھوں نے پورے پاکستان میں انتیطامی  بنیاد پر نئے صوبے یا ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنانے کا مطالبہ کیا جو کہ پاکستان کے لیے خوش آئند بات ہے یہاں الطاف حسین صاحب کی بات بھی مکمل  نہیں ہوئی تھی کہ پیپلزپارٹی پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو کا ٹیوٹر پر ٹیوٹ سامنے اگیا موصوف  کہتے  ہیں  کہ “مرسون مرسون سندھ  نہ ڈیسوں سندھ  نہ ڈیسوں” . جس پر الطاف حسین صاحب  نے بلاول  بھٹو کو پیار سے محبت سے کہا کہ بیٹا ابو کو بلاو .الطاف حسین  صاحب کا اس محبت  کا اظہار یہ ظاہر کرتا ہے کہ   ایم کیو ایم کے قائد جانتے ہیں  کہ یہ بلاول بھٹو کے الفاظ نہیں بلکہ انکے بڑوں کے الفاظ ہیں  اسی  لیے الطاف حسین  صاحب نے کہا کہ بلاول بیٹا ابھی آپ چھوٹےہیں  ابو کو بلاو آپ .
یہ ہے لیڈر جو اپنے سیاسی مخالفین کے بچوں سے بھی محبت سے بات کرتاہے. بلاول صاحب کو چاہیے کہ اگر  سیاست اور خدمتِ کا جذبہ رکھتے ہوں تو الطاف حسین کی تعلیم  و تربیت کو فولو کریں آپ کامیاب ہوجائے گے اگر اپنے بڑوں کی سیاست کے لیے اسی طرح کے ٹیوٹ یا پھر بیان دیتے رہے تو آپ بہت جلد سیاسی میچ ہار جاے گے.
ایک نامور کالم نگار کا بلاول بھٹو کے لیے کہنا ہے کہ “میں بلاول کو بڑا ہوکر کچھ نہ کچھ کرتے دیکھ رہا ہوں اور یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ یہ مزید بڑا ہو کر کیسا ہوگا؟ کیا کرے گا ؟ کیونکہ ابھی تک تو اس کا کام ڈھیلہ اور ففٹی ففٹی دکھائی دے رہا ہے اور تربیت کا فقدان ہے.” ‏
بلاول صاحب آپ پہلے تربیت کے فقدان کو پورا کریں اپنی ..ایک بڑے تجزیہ نگار اور کالم نگار نے یہ فقدان  پہلے ہی بتادیا تھا اور اب اکثر یہ فقدان آپکے ٹیوٹس میں بھی دکھنے لگا ہے .
صحیح کہا ہے الطاف حسین صاحب آپ نے کہ بیٹا آپ ابھی بچے ہو اپنے ابو کو بلاو ابو کو

Advertisements