10314535_679992422081905_8161987663283958024_n  images

پاکستان  انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے مگر ہمارے چند مفاد پرست سیاستدان اپنے مفاد کے لیے ملک کی معیشت اورعوام کے جان و مال سے مسلسل کھیل رہے ہیں.پاکستان میں حالات انتہائی کشیدہ نظر آرہے ہیں ایک طرف افواج پاکستان طالبان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے ،ایک طرف بھارت مسلسل لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے ، پاکستان میں بیرونی ممالک کے سرمایہ کار سرمایہ کاری کو تیار نہیں ہیں اور ایسے انتہائی نازک صورتحال میں اپنی افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجاے ایک سیاسی جماعت اور  حکومتی جماعت آپس میں وزارت عظمیٰ کے لیے رسہ کشی کا کھیل کھیل رہے ہیں  اور پورے ملک کے نظام اور عوام  کی معاملات زندگی مفلوج کردی ہے پچھلے 18 دن سے پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد پاکستان اور دیگر ممالک کے لیے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے

sdde  imagesdff 

ایک طرف تحریک انصاف ، عمران خان صاحب ہیں جو بس ضد پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ بس وہ کسی بھی طرح وزیراعظم بن جائیں جس کے لیے انکا موقف ہے کہ یہ الیکشن دھاندلی زدہ تھے اور پوری پارلیمنٹ جعلی ہے اسی لیے وزیراعظم مستعفی ہوجایئں اور دوبارہ  الیکشن ہوں اور   دوسری طرف انھوں نے اپنی خیبرپختونخواہ کی حکومت کے علاوہ تمام اسمبلیوں سے اس استعفی دے دیا اگر پوری اسمبلی جعلی ہے تو خیبرپختونخواہ کی اسمبلی جعلی کیوں نہیں ؟ خان صاحب  کے تضاد سے زاتی مفاد کی بو آرہی ہے جس کے لیے انھوں نے آج اپنے دھرنے کے شرکاء کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے اور  وہی شاہراہ دستور  پر عوامی تحریک کے کارکنان اور ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب بھی اپنے جائز مطالبات کو منوانے کے لیے پچھلے 18 دن سے دھرنا دیے ہوۓ ہیں  طاہرالقادری صاحب کا دھرنے اور انقلاب مارچ کا 10 نکاتی ایجنڈا خالصتآ عوام الناس کے حق میں ہے اور وہ حق با جانب ہیں طاہرالقادری صاحب کا مطالبہ ہے کہ 17 جون  کو  ماڈل ٹاون لاہور میں واقع منہاج القران  سیکریٹریٹ پر  پولیس کے حملے میں شھید ہونے والے افراد  کی ایف آئی  آر  انکے مطابق درج کی جاے جس  میں وزیراعظم ،وزیراعلی پنجاب اور دیگر کے نام بھی شامل  کیے جایئں اور تحقیقات کی شفافیت کے لیے تمام افراد باشمول  وزیراعظم اپنے  عہدوں سے  مستعفی ہوں ،اور دیگر مطالبات میں مزید صوبوں  کا  قیام ، بلدیاتی انتیخابات کے زریعے اختیارات عوام الناس   تک  منتقل کیے جائیں ، اور   دیگر  عوامی مسائل انکے  ایجنڈے  میں شامل ہیں جس کی حمایت ہر سیاسی جماعت کرتی ہے مگر  اسکے باوجود  پاکستان مسلم لیگ نواز کی  حکومت  لچک کا مظاہرہ کرنے   کے بجاے, مظاہرین پر تشدد کروانا  سمجھ  سے بالاتر ہے 

10526149_10203910939471030_3980443702634253778_n 

ایم کیوایم کے قائد الطاف  حسین  نے اپنی  سیاسی بصیرت اور اپنی  دوراندیش زہانت کا استعمال کرتے  ہوے اس سیاسی بحران کے شروع ہونے سے پہلے  ہی مشورہ دیا تھا کہ اگر دھرنوں اور احتجاج سے عوام کے جانوں کا  ضیاع اور نظام  لپیٹے جانے  کا خدشہ ہو تو وزیراعظم نوازشریف صاحب مستعفی ہوکر اپنی جماعت کے کسی اور فرد  کو وزیراعظم  بنادیں مگر  حکومت  مشورے پر غور کرنے  کے  بجاے اپنی انا پر قائم رہی اور  آج  اسلام اباد  غزہ  فلسطین اور  افریقہ جیسا  منظر پیش کررہا ہے اور اب عوام  اس جاگیرداروڈیرانہ  اور  بادشاہی  جمہوریت سے نجات  چاہتے ہیں جو جمہوریت  کے لبادے میں  امرانہ  طرز عمل سے بھی بدتر  ہے ، اگر یہ حکمران  ایم  کیو ایم  کے قائد الطاف  حسین  کے  بیانات اور  انکے مشورے اور  خدشات کو سنجیدگی سے  لے لیتے تو آج حالات انتیہا کو  نہیں پہنچتے.اب حالات کو انتیہا تک پہنچانے والوں کا  احتساب بھی  ہونا چاہیے ..  اللہ پاکستان اور اسکی عوام کی حفاظت فرما – آمین   

Advertisements