imagessaaaaaaad    imagessasdf

ہمارے یہاں  پر سیاسی جماعتیں جمہوریت کی مالا جھپتی ہیں  اور خصوصی طور پر دو سیاسی جماعتیں جو ہر دور اقتدار میں مرکز یا صوبائی حکومتوں میں ہوتی ہیں اور اپنے آپ کو جمہوریت کی سب سے بڑی چیمپیئن سمجھتی ہیں لیکن انکے قول وفعل میں ہمیشہ سے تضاد رہا ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آجاتا ہے جب یہ دور اقتدار میں ہوتے ہیں انتخابات سے پہلے عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے خوب وعدے کیے جاتے ہیں مگر اقتدار میں آنے کے بعد حکمران عوام مسائل اور انکے بنیادی حقوق بھی بھول جاتے ہیں اور جمہوریت کی مالا جھپنے والے اقتدار میں آنے کے بعد جمہوریت کی نرسری بلدیاتی ادارے اور بلدیاتی انتخابات کی طرف رخ ہی نہیں کرتے بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوریت نامکمل ہے بنا بلدیاتی انتخابات کے عوام تک جمہوریت کے ثمرات پہنچنا ناممکن ہے
افسوس کی بات تو یہ ہے جب بھی پاکستان میں مقامی حکومت اور نچلی سطح میں عوام تک  اختیار پہنچے ہیں تو وہ بھی صرف جنرلوں اور فوجی حکومت میں پہنچے ہیں 2002  سے 2008 تک  کے ترقیاتی کام دیکھیں تو اس طرح سے تو کبھی 20 سالہ جمہوری دور یا پاکستان کی 67 سالہ تاریخ میں ایسے ترقیاتی کام نہیں ہوۓ  جو جنرل مشرف کے دور میں بلدیاتی مقامی حکومت کے قیام کے بعد ہوۓ  ہیں جس کی مثال نہیں ملتی مگر اس کے باوجود جمہوری دور حکومت میں مقامی حکومت کے قیام کے لیے بلدیاتی انتیخابات نہیں کروانا ایک غیر جمہوری رویہ 
ہے

اگر ہم  جمہوری ترقی یافتہ ممالک کا پاکستان سے موازنہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہاں انکی ترقی کی سب سے بڑی وجہ اس جمہوری حکومت کے ثمرات عام عوام تک  پہنچنا ہے اور جب جب پاکستان میں جمہوری حکومت آئی ہے تب سے لیکر آج تک پاکستان کی جمہور  اپنے جمہوری حق سے محروم ہے جمہوری حکومت نے آج تک پاکستان کی جمہور کو لوکل گورنمنٹ جیسی بنیادی ضرورت سے محروم رکھا ہے اگر پاکستان میں جمہوری نظام کو اور مضبوط کرنا ہے تو بلدیاتی انتخابات کے زریعے عام عوام  میں سے مقامی لوگوں کو بااختیار بنایا جاۓ تاکہ  مقامی لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے کہیں دور نہ جانا پڑے اور عام عوام کو مسائل کا حل انکے گھر کے باہر ملے

imagessssssssimageshedj

imagesSDD   imagesaDD

مقامی حکومتوں کے ادارے ہی ہیں جنکے زریعے جمہوری قدروں کو فروغ دیا جاسکتا ہے اس لیے کہ مقامی حکومت کے ادارے شہریوں کو حقوق و فرائض سے آ گاہی کے لیے مواقع فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی زمہ داریوں سے اگاہ ہوکر اپنے ملک کی ترقی میں کردار ادا کرسکیں .یہ ادارے نہ صرف عوام میں اپنے مسائل خود حل کرنے کے لیے راہیں تلاش کرنے کا شعور بیدار کرتے ہیں بلکہ عوامی نظم و نسق کا تجربہ حاصل کرتے ہیں اور پھر یہ تجربہ قومی سطح پر بہت مفید ثابت ہوتا ہے مقامی حکومتوں میں شامل ہونے سے لوگوں کو نہ صرف اپنے علاقے کی انتظامیہ کو سمجھنے اور چلانے کا شعور ملتا ہے بلکہ لوگوں کو اعلیٰ سطح کی صوبائی اور مرکزی انتظامیہ اور  دیکر سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی انتظامیہ کے معاملات کو بھی سمجھنے کا موقع ملتا ہے مگر افسوس کہ اس نظام کی اتنی اہمیت و افادیت ہونے کے باوجود ہمارے پاکستان کے مفاد پرست حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی محض خواب بنتا جارہا  ہے اور مقامی حکومتوں کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے ایک طرف دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مقامی سطح پر عوام کے منتخب نمائندوں کی حکومت ہوگی تو دوسری طرف انتخابات کے بعد اختیارات عوام نمائندوں کو سونپنے کے بجاۓ سارے کے سارے اختیارات بیوروکریسی کو سونپ دیے جاتے ہیں .
مقامی حکومتوں کے قیام سے عام عوام کے بنیاد مسائل حل کیے جاسکتے ہیں جیسے صحت و صفائ  ، خراب عمارات کے امور، صفائ ستھرائ ،قبرستانوں کی دیکھ بھال ، پانی کی فراہم ، نکاسی آب کے لیے سیوریج سسٹم کی بحالی ،پانی کے نکاس کے لیے نئ اسکیموں کو تیار کرنا ، پرائیوٹ مارکیٹوں سے متعلقہ امور کو کنٹرول کرنا ، زبح خانوں کی تعمیرات ،تعلیمی ادارے قائم کرنے کے بعد لوگوں کی اعلی تعلیم تک رسائی دلوانا ،شہری دفاع سیلاب کی روک تھام ،.گلی کوچوں عام سڑکوں کی تعمیر  اور انکا انتظام ، تجاوزات کی روک تھام،.لوگوں کی آمدورفت کنٹرول ،.صحت عامہ کو فروغ دینا ،طبی سہولیات اور تعلیم عام کرنے کے اقدامات کرنا ، تفریح و آسائش کے لیے باغات لگانا ،مناسب جگہوں پر شجرکاری کرنا ،قحط کی صورت میں ضروری انتظامات کرنا اور بہت سارے ایسے امور ہیں جنکی نگرانی کے زریعے مقامی حکومتوں کے عوامی نمایندے باآسانی ثمرات پہنچا سکتے ہیں لیکن افسوس کے ہمارے حکمران عوام تک بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو اپنے اختیارات میں کمی  کا باعث سمجھتے ہیں اور لوکل  گورنمنٹ مقامی حکومت کے نظام کو کامیابی کی طرف لے جانے کے بجاے اسکی ناکامی کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں کو ازماتے ہیں .قائداعظم کے قریبی ساتھی اور عظیم سیاسی مفکر چوہدری مشتاق ورک آف کلے ورکاں کے خیال میں کہ ” پاکستان میں اختیارات کی عوام تک منتقلی کے  بغیر نہ تو ترقی کا تصور کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی عوامی خوشحالی کی ضمانت دی جاسکتی ہے لہذا کوئ بھی حکمران اگر حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کا جزبہ رکھتا ہے تو اسے بلدیاتی انتیخابات کےانعقاد کے بعد اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنانا ہوگا

Advertisements