images

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے مذہب اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو‎ ‎‏ تمام انسانوں سے محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے.مگر چند مذہب فروشوں نے بین الاقوامی برادری کی نگاہ میں اسلام اور مسلمانوں کی شکل ہی تبدیل کردی ہے.بین الاقوامی ممالک میں مسلمانوں کے کردار اور مذہب اسلام کو خراب کر کے پیش کیا جارہا ہے.  اس سازش میں دوسرے تو شامل ہیں ہی مگر انکے ساتھ ہمارے چند مذہبی و سیاسی لیڈر بھی شامل ہیں جو مذہب اسلام کی ساکھ خراب  کرنے میں ملوث ہیں. اور اپنی مذہبی و سیاسی جماعت  کی آڑ میں اپنے زیر اثر دینی مدارس میں مذہبی انتہاء پسندی و شدت پسندی کو فروغ دے رہے ہیں.
پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور انتیہا پسندی پر صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کو بھی تشویش ہے.جس طرح سے پاکستان میں مذہبی انتیہا پسندی اور شدت پسندی پھیل رہی ہے اسے نہ صرف پاکستان کی عوام بلکہ بین الاقوامی برادری بھی اسے اپنے لیے خطرناک سمجھتی ہے.
 چند ماہ قبل ایک امریکی سروے کی رپورٹ شائع ہوئی جس کے مطابق پاکستان کی 66 فیصد عوام مذہبی شدت پسندی اور انتیہا پسندی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور 24 فیصد لوگ اسکے خلاف کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں 8 فیصد مذہبی انتیہا پسندی و شدت پسندی کے حامی اور 2 فیصد عوام کی کوئی راۓ نہیں ہے.
پاکستان میں 66 فیصد عوام مذہبی انتیہا پسندی اور شدت پسندی کو اسلیے بھی اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ہزاروں ایسے مدارس موجود ہیں جو غیر رجسٹرڈ ہیں نہ ان مدارس پر کوئی نگاہ رکھتا ہے  اور نہ ہی ان مدارس میں پڑھنے والے طلباء کی نقل و حرکت کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے جبکہ مدارس کی مانیٹرنگ اور انکی رجسٹریشن کے لیے پاکستان میں وفاق المدارس جیسا ادارہ موجود ہے جس کا کام تمام مدارس کی رجسٹریشن اور انکی دیکھ بھال کرنا ہے مگر اسکے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے پاکستان میں غیر رجسٹرڈ مدارس کی روک تھام کے لیے کوئی سسٹم یا ادارہ موجود ہی نہیں ہے.
الطاف حسین نے ہزار بار کہا کہ پاکستان اور اسکے شہری علاقوں میں طالبانائزیشن ہورہی ہے مگر اس وقت الطاف حسین کے خدشات کو سنجیدگی سے لینے کے بجاۓ قہقہے لگائے گۓ. اگر اس وقت ہمارے حکمران سنجیدگی دکھادیتے تو پاکستان کی عوام کو آج خوف کے ساے میں زندگی نہ گزارنا پڑ رہی ہوتی.پاکستان میں مذہبی انتیہا پسندی و شدت پسندی چند ماہ یا چند ہفتوں میں پروان نہیں چڑھی بلکہ یہ تو سالوں سے ہمارے شہری علاقوں میں مذہبی و سیاسی جماعتوں کا سہارا لے کر پاکستان کو مسلسل زخم دے رہے ہیں.یہ وہ زخم ہے جو ہمارے حکمرانوں کی لاپرواہی اور عدم  دلچسپی کی وجہ سے پاکستان کے لیے ایک محلق بیماری کی شکل اختیار کرگیا ہے جس کے لیے صرف آپریشن ہی کافی نہیں بلکہ احتیاط بھی ضرورت ہے.
شمالی وزیرستان میں ہماری افواج پاکستان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں نبردازما ہے اور ہمارے جوان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں اور دوسری  طرف اس آپریشن کے سبب وہاں سے نقل مکانی کرنے والے آئی ڈی پیز پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج اور حساس معاملہ ہے کیونکہ ہم کسی کے لیے کوئی رائے اختیار نہیں کرسکتے ہمارے حکمرانوں نے اب تک کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا جس کے تحت نقل مکانی کرنے والوں کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھی جا سکے اگر طالبان دہشت گردوں کے لوگ بھیس بدل کر آئی ڈئ پیز کی شکل میں   پاکستان کے مختلیف شہروں میں پھیل گئے  تو کیا ہم ان سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹے گے؟ شمالی وزیرستان کے پرامن لوگ بھی  اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے دیگر شہروں کے پر امن عوام ہیں مگر دہشتگردوں کا نہ  کوئی دین ہے نہ مذہب ہے اور نہ کوئی ملک ہے مگر دہشتگرد مذہب کے نام پر دہشت پھیلا رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ دہشتگرد آئی ڈی پیز کی آڑ میں پاکستان کے مختلیف شہروں  میں پھیل جایئں لہذا آئی ڈی پیز کے ساتھ ساتھ دینی مدارس اور انکی سرپرستی کرنے والی سیاسی و مذہبی  جماعتوں کی بھی مانیٹرنگ کی جاۓ اور غیر رجسٹرڈ مدارس کی رجسٹریشن کی پاکستان  کو اشد ضرورت ہے.
پاکستان کو دہشت گردی اور مذہبی انتیہا پسندی کے ساتھ ساتھ ملک میں معاشی استحکام   کے لیے بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے.اور یہ سب جب ہی ممکن ہے کہ جب پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف نتیجہ خیز آپریشن ہو جس سے بین الاقوامی برادری کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوگا ملک کی بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور ملک کی معیشت مستحکم ہوگی

  10540407_663984640349350_7381208414557088438_n

Advertisements