کسی بھی قوم ریاست اور ملک کا سب سے بڑا فخر اسکے دفاعی ادارے اور اسکی مسلح افواج ہوتی ہے جو ملک و قوم اور ریاستی مخالفین کے لیے دہشت و خوف کا باعث ہوتی ہے مگر اس مسلح افواج کی طاقت و ہمت اس وقت دگنی ہوجاتی ہے جب اسکی قوم اور ملک کی عوام اسکے شانہ بشانہ کھڑی ہو اور تمام زاتی سیاسی مفادات اور دیگر مفادات سے بالاتر ہوکر اپنے ملک و قوم کے دفاع کے لیے اپنی فوج کو سپورٹ کررہی ہو .

ٹھیک اسی اتحاد و سپورٹ کی ضرورت ہماری افواج پاکستان کو ہے جب وہ موجودہ حالات میں ریاست کے دشمن دہشت گرد طالبان کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں نبردازما ہے ہمارے نوجوان دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب میں اپنی قوم کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں اور اس انتہائی اہم موقع پر عوام سیاسی و مذہبی جماعتیں سول سوسائٹی کا فرض بنتا  ہے کہ وہ اپنی مسلح افواج  کو ہر طرح سے سپورٹ کریں تاکہ ہماری افواج پاکستان آخری دہشت گرد تک یہ آپریشن ضرب عضب جاری رہے اور پاکستان کو دہشت گردوں سے پاک کیا جاسکے .دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ میں افواج پاکستان کو قوم کی دعاوں اور آپسی اتحاد کی ضرورت ہے کیونکہ بڑی سے بڑی جنگ بھی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عزم و حوصلے سے جیتی جاتی ہے اس وقت اپنے اتحاد اور عزم و حوصلے سے پاکستان کو بین الاقوامی دنیا کو پیغام دینا چاہئے کہ ہم پرامن لوگ ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف ہیں یہ وقت احتجاجی  دھرنوں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا  نہیں بلکہ اپنی عوام اور اپنی سیاسی حلقوں میں اتحاد قائم رکھنے کا وقت ہے ہمیں اپنے اتحاد  سے دہشت گردوں کے ناپاک ارادوں کو پست کرنا ہوگا یہ وقت افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا وقت ہے جب ہماری مسلح افواج دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے مگر  افسوس کہ ہمارے پاکستان کی کچھ سیاسی جماعتیں اس انتہائی اہم  موقع پر بھی سیاست کررہی ہیں ماسوائے چند سیاسی  جماعتوں کے

Image  Image   Image    

ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین پاکستان کے واحد لیڈر ہیں جو 10 سال سے دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں مگر پہلے کسی نے الطاف حسین کی بات پر کان نہیں دھرے جب 10 سال قبل الطاف حسین نے سب سے پہلے طالبانائزیشن  کے حوالے سے آگاہ کیا تو  الطاف حسین کے خدشات کو نظر انداز کر کے قہقے لگاے گئے مگراسکے چند سال بعد ہی قہقے لگانے  والوں کو منہ  کی کھانی پڑی جب الطاف حسین کے خدشات  درست ثابت ہونے لگے تو  سب نے اس بات کی تائید کی قائد الطاف حسین نے ہزار  بار کہا کہ ریاست کے دشمن اورعام عوام فوجی اہلکار اور  دیگر کو شہید کرنے  والوں کے ساتھ نرمی نہیں برتی  جاۓ  مگرکسی  حکمران نے بات نہیں سنی بلکہ دہشت گردوں کی حمایت یافتہ چند سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کہنے پر دہشت گردوں سے مذاکرات کیے گئے مگر  دہشت گردی نہیں رکی مزاکرات کے ناکام ہونے کے بعد جون کے  دوسرے ہفتے میں دہشت  گردوں کے خلاف آپریشن کا اعاز ہوا جو اج بھی جاری ہے  جس میں  ہماری افواج پاکستان  کے 10نوجوان  شہید اور 300 سے زائد دہشت گرد ہلاک  ہوچکے ہیں

اس انتہائی اہم موقع پر ایک بار پھر الطاف حسین کی ہدایت پر ایم کیو ایم سیاست سے بالاتر ہوکر اپنی افواج  پاکستان سے یکجہتی    اور دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کی مکمل حمایت کے لیے  6 جولائی 2014 کو جلسے کا انعقاد کرنے جارہی ہے جو اتحاد کی فضا قائم کرنے کے لیے ایک خوش آئند بات ہے تحریک انصاف اور دیگر سیاسی و  مذہبی جماعتوں  کو چاہیے کہ دہشت گردوں  کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کے اختیتام تک احتجاج اور دھرنوں کے بجاۓ ایم  کیو  ایم کے جلسے کے اقدام کو فولو کرتے ہوۓ وہ بھی  مختلیف پروگرامز کے زریعے افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں جس سے ریاست کے دشمنوں کو احساس ہوجائے کہ پاکستان کی عوام دہشت گردوں کے خلاف یکجا ہیں اور اپنی افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں 

Image Image  Image

Advertisements