پاکستان کو کئ سالوں سے دہشت گردوں کی دہشت گردی کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامناہے جس کی وجہ سے پاکستان کی معاشی و اقتصادی حالت بہت زار ہے اور کوئ بھی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کو تیار نہیں اور نہ کوئی کھیلوں کے فروغ  کےلئے پاکستان آنا چاہتا ہے کیونکہ پاکستان کا کوئی شہر صوبہ ایسا نہیں جو ان دہشت گردوں سے محفوظ ہو .پاکستان کا ہر طبقہ ان دہشت گردوں سے جھٹکارا چاہتا ہے مگر چند دہشت گردوں کی حمایتیوں کی وجہ سے ان سے 4 ماہ مزاکرات جاری رہے مگر اسکے باوجود انکی دہشت گردی نہ رک سکی .بالآخر عوام کی امیدوں اور خواہش پر مسلح افواج اور حکومت نے ان  دہشت گردوں کے خلاف  آپریشن کا اعلان کیا جس کا نام ضرب عضب رکھا گیا .اس ضرب عضب آپریشن کے 3 ہی روز میں ہماری پاک فوج نے کافی حد تک کامیابیاں سمیٹ لی تھی اس آپریشن میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور پوری قوم اپنی مسلح افواج کے پیچھے کھڑی ہے اور پاک افواج کو پوری قوم کی سپورٹ حاصل ہے اس آپریشن کو چند روز ہی گذرے تھے کہ پنجاب حکومت نے جمہوریت کی نفی کرکے عوام کو  بہت مایوس کیا ایسے انتیہائ وقت میں جب ہماری افواج پاکستان ظالم دہشتگردوں سے لڑ رہے ہیں اور پوری قوم کی نظریں آپریشن ضرب عضب پر مرکوز تھیں ایسے میں پنجاب حکومت نے اپنے ظالمانہ اور غیر جمہوری اقدام سے اپنے لیے ایک اور محاز کا اعاز کردیا جس کا سبب بنے وہ بیریئر جو ڈاکٹر علامہ طاہرالقادری کے گھر اور تحریک منہاج القران سیکریٹریٹ پر لگے تھے 

Image  Image 

 جون 17 کو  پنجاب حکومت  اور ماڈل ٹاون کی انتظامیہ نے وہ بیریئرز ہٹادیے جو طاہرالقادری صاحب کی رہاش گاہ اور منہاج القران سیکرٹریٹ پر لگے تھے انتیطامیہ سے ان بیریئرز کو ہٹانے کی وجہ  پوچھی گئ تو انکا کہنا تھا  کہ ہمیں اہل  علاقہ نے  شکایت  کی  ہے اور یہ نو گو ایریا بن چکا تھا جس  کی  وجہ سے  یہ اقدام اٹھانا پڑا. جیسے ہی علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے کارکنان اور فالورز کو پتہ چلا  تو انھوں نے احتجاج شروع کردیا انتیطامیہ اور پنجاب پولیس نے احتجاج کرنے والوں سے بات کرنے کے بجاۓ مظاہرین پر پنجاب پولیس نے سیدھی فائرنگ کردی اور  مظاہرین  کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور  لاٹھی چارج  شروع کردیا لاہور کا ماڈل  ٹاون اس وقت  مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کررہا تھا جہاں عورتوں  اور بزرگوں  کو سڑکوں  پر گھسیٹا جارہا تھا نوجوانوں  پر  بے دردی سے تشدد  کیا جارہا تھا عورتوں  کی تذلیل ہوتی رہی اور  کئ  گھنٹوں  تک یہ ظلم ہوتا رہا اور ہمارے پنجاب کے حکمران  سوتے رہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں  انتظامیہ کو حکومت   کی  سرپرستی  حاصل تھی جس کا  منہ  بولتا ثبوت یہ ہے کہ پنجاب کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز   کا  گلو بٹ نامی  کارکن پنجاب پولیس  کو  لیڈ   کر رہا تھا اور ایسا  محسوس  ہورہا تھا  جیسے یہ پنجاب پولیس نہیں بلکہ حکمران  جماعت کا مسلح ونگ  ہے جس  کی  قیادت  گلوبٹ نے کی جو  کھلے  عام  لوٹ مار اور گاڑیوں کے شیشے توڑ رہا تھا  اور  پنجاب  پولیس  کھڑی تماشائی بنی  رہی اور اس حکومتی لاپرواہی اور  پنجاب پولیس  کی دہشت گردی سے تحریک منہاج القرآن کے 8 سےزائد کارکنان شہید  اور 80 سے زائد   کارکنان زخمی ہوۓ.

Image  Image 

 سانحہ لاہور ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی  عیادت اور تعزیت  کرنے والی ایم کیو ایم کی خاتون ایم این اے طاہرہ آصف کو  اگلے ہی دن انکی  کار میں ان پر فائرنگ  کر کے زخمی کردیا جو 2 روز تک  اپنی زندگی اور موت سے لڑتی رہیں اور 19 جون  کو اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے  ہوے دم توڑ دیا ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین  نے طاہرہ آصف کی شہادت  کو شہید بیداری پنجاب کا  لقب دیا.حکومت پنجاب  نے  انکے مانگنے پر بھی سیکیورٹی فراہم کیوں نہیں  کی؟ انکی سیکیورٹی کے انتظامات کیوں نہیں کیے؟  طاہرہ آصف کی شہادت پنجاب حکومت کی نااہلی اور لاپرواہی  کا نتیجہ ہے سانحہ لاہور اور  طاہرہ آصف کی شہادت کی زمہ داری قبولِ کرنا چاہئے.

Image Image

Advertisements