پاکستان ایک ایسی سرزمین  ہے جس کی بنیادوں میں اردو بولنے والے پاکستانیوں کا لہو شامل ہے جنھوں نے اس عرض وطن کے لیے لاکھوں قربانیاں دیں انھی لوگوں کی اولادیں جو بانیان پاکستان کی اولادیں ہیں آج انکو پاکستان میں کھل کر سانس لینے تک کی آزادی نہیں ہے آج پاکستان کے وجود کے 67 سال بعد بھی اردو بولنے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے اور اردو بولنے والے پاکستانیوں کو اپنے ہی ملک میں اپنے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے جس کی وجہ سے اردو بولنے والے پاکستانی اپنے آپ کو مہاجر کہنے پر مجبور ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے پاکستان کے قیام کے بعد بھی مہاجروں کی ہجرت پوری نہیں ہوئی شائد منزل ابھی ملی نہیں ہے پاکستان کے قیام سے  لیکر  اب  تک اردو بولنے والے مہاجر اپنے حقوق سے محروم ہیں اور یہ جاگیردار وڈیرے اردو بولنے والے مہاجروں پر  قابض ہونے کے لیے مسلسل ریاستی جبرو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں

اردو بولنے والے مہاجروں کے خلاف سازشوں کا آغاز جب ہوا جب ۳ جنوری ۱۹۶۵ کو پاکستان میں صدارتی انتخابات منعقد ہونے تھے ان انتخابات میں حصہ لینے والے ۴ امیدوار تھے جن میں جنرل ایوب خان (مسلم لیگ) اور بانیان پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح بھی شامل تھیں ان دنوں جنرل ایوب مسلم لیگ کے صدر اور ذوالفقارعلی بھٹو مسلم لیگ کے جنرل سکریٹری تھے ان انتخابات میں کراچی کے شہریوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی جس کے باعث مغربی پاکستان میں صرف کراچی ڈویژن سے جنرل ایوب خان کو بھاری اکثریت سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور کراچی کی عوام نے محترمہ فاطمہ جناح پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا  .اس صدارتی انتخابات میں جنرل ایوب خان کو کامیابی ملی اور وہ دوبارہ صدر منتخب ہوگئے  جس کے بعد انکی جانب سے  کراچی میں جشن منایا گیا اور اس جشن فتح کی آڑ میں کراچی کے اردو بولنے والے مہاجروں کا قتل عام کیا گیا صدر جنرل ایوب خان نے اپنے جشن فتح میں کراچی میں خوب جلوس نکالے اور کراچی کے مہاجروں کو محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دینے کی سزا دی گئ اس جشن فتح اور مہاجروں کے قتل عام کے لیے مختلف لوگوں کو کراچی لایا گیا اور کراچی میں اردو بولنے والے مہاجروں کا قتل عام کرایا گیا اور دوسری قومیت کے عوام کو اردو بولنے والے مہاجروں سے لڑانے کی سازش کی .لوگ بتاتے ہیں جب صدر جنرل ایوب خان کے حامیوں نے کراچی میں جشن فتح کے دوران ایک دیوار پر محترمہ فاطمہ جناح کا انتخابی نشان “لالٹین”بنا ہوا دیکھا تو وہ مشتعل ہوگئے اور انھوں نے اس دیوار کے قریب کھڑے مہاجر لڑکے کو چاقو کے وار سے زخمی کردیا اسی طرح چند مسلح افراد نے نیرنگ سینیما لیاقت آباد میں فسادات کرکے کئ مہاجر لڑکوں کو زخمی کردیا اور یہ فسادات پھیلتے پھیلتے پورے کراچی میں موجود مہاجر آبادیوں تک پھیل گئے مہاجر آبادیوں کو آگ لگادی گئ مہاجر اردو بولنے والی خواتین کی بے حرمتی کی گئ مگر اردو بولنے والے مہاجروں کی دادرسی  کرنے والا کوئ نہ تھا اور  مسلم لیگ کے صدر جنرل ایوب خان کے حامیوں نے جشن فتح کی آڑ کراچی کے اردو بولنےوالے مہاجروں کو خاک  و خون میں نہلا دیا اور  اپنی سازش میں غیر ملکی پٹھانوں کو  ملا کر پاکستان میں موجود پختونوں اور مہاجروں کے درمیان فساد کروا کر نفرتوں کے بیج بو  نے کی سازش کی گئ تا کہ  پختون اور اردو بولنے والے مہاجر  کبھی ایک نہ ہوں.

مگر ان درندہ صفت لوگوں کی پیاس پھر بھی نہ بھجی ۱۹۷۲ میں لسانی فسادات کرواکر ایک بار پھر مہاجروں کے قتل عام کی سازش کی گئ پاکستان پیپلزپارٹی کے ہر دور اقتدار میں مہاجروں پر قیامت صغراں ڈھائ گئ  ۱۹۷۲ جب زولفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم اور ممتاز بھٹو سندھ کے وزیراعلی تھے انکی جانب سے ۷ جولائ ۱۹۷۲ کو سندھ اسمبلی میں سندھی زبان کو صوبہ کی سرکاری زبان بنانے کا بل منظور کیا گیا اس وقت سندھ حکومت میں پیپلزپارٹی کی اکثریت تھی اور اس بل کے زریعے وہ اردو بولنے والے مہاجروں  کو اپنا غلام بنانے کی سازش کررہی تھی  اس دوران سندھ یونیورسٹی جامشورو میں ایک طلباء تنظیم نے سندھی زبان کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور کلاسوں کا  بائیکاٹ کیا اور جلسہ عام منعقد کیا جس میں سندھی زبان کو سندھ کی واحد سرکاری زبان بنانے کا مطالبہ کیا گیا اور اردو بولنے والے اساتذہ کو ڈرایا دھمکا یا  گیا اور انھیں کہا گیا  کہ کل سے اپنی کلاسیں لینا بند کردیں  ایک سندھی طلباء تنظیم نے ایک جلوس بھی نکالا جس میں اردو  مخالفت نعرے لگاے گئے اس بل مختلیف شعبہ ہاے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شدید ردعمل کا اطہار اظہار کیا اور اس مجوزہ لسانی بل کو سیاہ قانون قرار دیا اس لسانی بل کے خلاف حیدرآباد نواب شاہ میرپور خاص سکھر تک میں مکمل ہڑتال کی گئ اور اردو زبان کے حق میں جلوس نکالے گئے اور اردو کی حمایت میں نکلنے والے جلوسوں پر کئ بار لاٹھی چارج کرکے تشدد کیا گیا اور  آنسو گیس کی شیلنگ کی گئ جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوۓ اردو کی حمایت میں نکلنے والے جلوس اور احتجاج کو ناکام  بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور ہولناک خونریزی کی گئ جس میں متعدد افراد جاں بحق  ہوگئے کراچی و حیدرآباد  میں تواتر  کے  ساتھ پر تشدد واقعات  رونما ہوے  پولیس نے  نہتے  شہریوں پر فائرنگ   کر کے خوف و دہشت کا بازار گرم کردیا ان واقعات کے نتیجے میں  کراچی و حیدرآباد کے شہداء اردو کی تعداد ۳۴ ہوگئ  ہر طرح   اور  قسم  کا تشدد کیا  گیا  مہاجروں  پر کوئی  کسر نہ چھوڑی  گئ مٹانے کی مگر افسوس مہاجروں  کو  صفحہ ہستی  سے مٹانے والے خود مٹ گئے اور مہاجر پہلے سے زیادہ طاقتور ہوگئے

مہاجروں کا قتل شائد پاکستان میں معاف ہے اسی لیے یہ جاگیردار وڈیرے سرمایہ دار اپنی حکمرانی قائم رکھنے اور اردو بولنے والے مہاجروں کو غلام بنانے کے لیے کھلے عام ہر دور میں مہاجروں کو قتل کر کے انکے خون کی ہولی کھیلتے ہیں پاکستان کے قیام کے لیے اردو بولنے والے مہاجروں نے ۲۰لاکھ سے زائد قربانیاں دیں مگر اس کے باوجود بانیان پاکستان کی الادوں کا خون اب تک بہایا جارہا ہے جو ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے مہاجروں کے کھلے عام قتل کی داستان ۱۹۷۲ کے لسانی فسادات کے بعد ختم نہیں ہوئ بلکہ مہاجر جیسے جیسے نظریاتی مضبوط ہوتے گئے اتنے ہی ظلم و ستم بڑھتے گئے اور پھر اس مظلوم قوم کو اللہ نے ایک قائد دیا جو ایک غریب متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا جسکی رگوں میں بانیان پاکستان کا خون شامل تھا اور وہ عظیم قائد  رہنما اور کوئ نہیں صرف الطاف حسین ہے جس نے اپنے قوم کی بقاو سلامتی کے لیے آواز بلند کی اور آج  وہ تمام قومیت اور پاکستان کی ٪۹۸ غریب عوام کا قائد ہے اور یہ  ہی بات شائد جاگیرداروں وڈیروں اور اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں آئ اور اسکی سزا بھی اردو بولنے والے مہاجروں کو ملی اور جب مہاجروں نے الطاف حسین کی قیادت میں اردو بولنے والے مہاجروں کے حقوق کی بات کی تو مہاجروں کی آواز کو ریاستی جبر کے زریعے دبانے کی کوشش کی اور پھر ماضی کی طرح ایک  بارپھر مہاجروں کے خون سے ہولی کھیلی گئ سانحہ سہراب گوٹھ ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۶ سانحہ قصبہ علیگڑھ کالونی کراچی ۱۹۸۶  شاہ فیصل کالونی قتل عام ۲۰ اگست ۱۹۸۷ جلال آباد قتل عام ۵فروری ۱۹۸۸ سانحہ ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸   سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد ۲۶ ۲۷ مئ ۱۹۹۰ کراچی  استبالیہ کیمپوں پر فائرنگ 22 اگست 1990
اور تاریخ کا بدترین ریاستی آپریشن جس میں ہزاروں اردو بولنے والے مہاجر شہریوں کا قتل عام کیا ہزاروں مہاجروں کو لاپتہ کیا گیا جو  تاحال لاپتہ ہیں مہاجروں کا خون پاکستان میں پانی کی طرح بہایا جاتا ہے  پہلے مادر ملت کاساتھ دینے کی وجہ سے مہاجروں کو خاک و خون سے نہلایاگیا اور جب مہاجروں نے الطاف حسین کی قیادت میں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائ تو پھر مہاجروں کو اپنے حقوق کی آواز اٹھانے اور الطاف حسین کا ساتھ دینے پر مہاجروں کا بے جا خون بہایا  گیا مہاجر پاکستان  میں اتنی قربانیاں دے چکے ہیں کہ آج تک اتنی قربانیاں کسی نے عظیم جنگ میں بھی نہیں دی ہوگی .
مہاجروں کے ناحق خون پر آج تک کسی اینکر و صحافی اور دیگر کالمسٹ نے کبھی مہاجروں کے قتل عام کے لیے کبھی دو الفاظ نہیں لکھے اور نہ کبھی مہاجروں پر ہونے ظلم کے خلاف کسی انسانی حقوق کی تنظیموں نے آواز اٹھائی اسی وجہ سے مہاجروں میں بہت بے چینی اور احساس محرومی پائ جاتی ہے  مہاجروں کے قتل عام پر کوئ تحقیقاتی کمیٹی یا کمیشن کیوں نہیں بنایا جاتا ؟ سانحہ 30 ستمبر ، سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد 26،27 مئ 1990 ، سانحہ قصبہ علیگڑھ  اور 19 جون 1992 کو آپریشن  و ریاستی جبر و تشدد سے شھید ہونے والے عام شہریوں کے قاتلوں کو سزا کون دے گا؟ کسی صحافی یا انسانی حقوق کی تنظیم  نے اج  تک مہاجروں کے حقوق کے لیے آواز  کیوں نہیں اٹھائی

پاکستان ایسا ملک ہے جہاں دہشت گردوں کو رعایت دی جاتی ہے  اور عام مہاجروں کو ریاستی جبر و تشدد کے زریعے شھید کردیا جاتا ہے اردو بولنے والے مہاجروں کے لیے پاکستان میں دشمنوں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بانیان پاکستان  نے پاکستان کے قیام کے لیے لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر کوئی غلطی کی جس کی سزا بانیان پاکستان کی اولادوں کو پاکستان  کے قیام کے 67 سال بعد بھی  دی  جارہی ہے کب تک مہاجروں کے ساتھ غیروں جیسا سلوک کروگے ؟ کب  تک اردو بولنے والوں کا ناحق خون بہاو گے ؟ کیا اپنے حق کے لیے اواز اٹھانا محب وطن ہونا اور  ملک کی ترقی میں  حصہ لینا گناہ ہے ؟ کیا کوئی پاکستان میں مہاجروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ کرسکتا ہے پہلے پاکستان بنانے کے لیے 20 لاکھ سے زائد جانوں کا نذرانہ دیا اور پاکستان کے قیام کے بعد بانیان پاکستان کی اولادیں پاکستان بچانے کے لیے 22  ہزار سے زائد جانوں کے نذرانہ  دے چکے ہیں .کیا مہاجر پاکستان کے شہری نہیں ؟

Image

Advertisements