سندھ یونیورسٹیز بل 2013 ایک ایسا بل ہے جو شہری سندھ اور دیہی سندھ کی تفریق اور مزید خلیج اور دوریاں پیدا کرنے کے مترادف ہے پاکستان پیپلز پارٹی نے چند ماہ پہلے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی غیر موجودگی میں اس وقت کے ایکٹنگ گورنر و اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے زریعے ایک ایسا بل منظور کروایا  جو سراسر شہری سندھ کے طلباء اور شہری سندھ کے عوام کے ساتھ زیادتی پر مبنی ہے پاکستان پیپلز پارٹی نے گورنر سندھ کی غیرحاضری کے دوران اس وقت کے ایکٹنگ گورنر آغا سراج صاحب سے سندھ یونیورسٹیز بل 2013 پر دستخط کرواکر بچے کچے تعلیمی اختیارات کو بھی وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ صاحب کے ہاتھ میں دے دیے جو ایک باشعور عوام کے لیے بہت افسوس اور ناقابل قبول بات ہے اس بل کے مطابق وزیراعلی سندھ کو یہ استحقاق و اختیار ہے کہ وہ جیسی مرضی تعلیمی پالیسی بنایئں جسے چاہیں یونیورسٹیز کا چانسلرز و وائس جانسلرز بنایئں جسکی چاہیں پوسٹنگ کریں اور جسے مرضی اپایئنٹ کریں وزیراعلی صاحب اب تعلیمی اداروں کے بھی فیصلے ایسے ہی کرینگے جیسے پولیس اور دیگر اداروں میں انھوں نے متعصبانہ فیصلے کیے شاہ صاحب آپ کتنے اداروں کے ساتھ کھیلے گے

Image     Image      Image

http://tribune.com.pk/story/596713/sindh-universities-bill-2013-acting-governor-gives-assent-to-bill-teachers-resent/

 سندھ یونیورسٹیز بل 2013 ایک کالا قانون ہے جس سے جامعات کی خودمختاری متاثر ہوگی کراچی و سندھ کی جامعات کے  اساتذہ پہلے بھی احتجاج کرچکے ہیں الطاف حسین  ایم کیو ایم  اور اے پی ایم ایس او نے ہمیشہ اساتذہ کرام اور طلباء کے حقوق کے لیے آواز اٹھائ اور آئندہ بھی اپنی اس روایت کو قائم رکھے گے یہ ہمارے نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کے مسقبل کا مسئلہ ہے اور اے پی ایم ایس او ہمیشہ اپنے تعلیمی اداروں کے اساتذہ و طلباء کے ساتھ کھڑی ہے اساتذہ کے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی میں انکے  ساتھ ہے اور ہر پلیٹ فارم پر انکے  احتجاج کی حمایت کرتی ہے .آج شہری سندھ کے اساتذہ کرام اور طلباء دیکھ لیں کراچی میں اپنے ووٹوں کا دعوی کرنے والے اور انکی  جماعتیں کس طرح خاموشی سے  آپکے حق پرڈاکا ڈلوارہی ہیں اگر عملی طور پر کوئی  ساتھ ہے  تو وہ صرف الطاف حسین   ایم کیو ایم اور اے   پی ایم ایس او ہے  جو سندھ کی جامعات اور اساتذہ کے ساتھ ہونے  والی زیادتی کے خلاف انکے  ساتھ آواز اٹھارہی ہے
سندھ اور خاص طور سے کراچی کی جامعات میں پاکستان پیپلزپارٹی اپنے جاگیردارانہ وڈیرانہ سوچ کے حامل لوگوں کو جامعات میں اعلی عہدے دے کر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتی ہے اندرون سندھ کی طرح کراچی کی جامعات کا بھی معیار خراب کرنے کی سازش کی جارہی ہے جس سے شہری سندھ کراچی حیدرآباد کے اساتذہ اور طلباء کو مزید نقصان پہنچے گا سندھ یونیورسٹیز بل 2013 بدنیتی پر مبنی ہے جسے سندھ کی جامعات کے اساتذہ اور طلباء مسترد کرچکے ہیں اور کراچی کی جامعات کے اساتذہ سراپا احتجاج ہیں

Image  Image  Image  Image   Image

وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ صاحب تیسری مرتبہ وزیراعلی بنے ہیں اور آج تک اپنے حلقہ میں بچوں کی  تعلیم کے لیے کوئی خاص اقدام نہیں کرسکے جس کی وجہ سے وہاں کا تعلیمی نظام مسلسل خرابی کی طرف جارہا ہے اور تیسری مرتبہ وزیراعلی بننے کے باوجود شاہ صاحب سندھ میں امن و امان  قائم کرنے میں ناکام رہے جو شاہ صاحب کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور پھرتمام تر ناکامیوں کے باوجود تعلیمی اختیارات سندھ یونیورسٹیز بل 2013 کے زریعے قائم علی شاہ صاحب  کو دینا کہا کی عقل  مندی ہے یہ سراسر میرٹ کا قتل  ہے .ال پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اس کالے بل کو مسترد کرتی ہے اور سندھ کے جو اساتذہ سراپا احتجاج ہیں انکے مطالبات کی حمایت کرتی ہے اور حکومت سندھ سے مطالبہ ہے کہ اساتذہ کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جاۓ اور تعلیمی فیصلے سیاسی تعصب سے بالاتر ہو کر کیے جایئں تعلیمی اداروں کو سیاست کی نظر نہ کیا جاے

 

  
Image   Image  Image      


Advertisements