تحریک انصاف بالمعروف “سونامی” آخر وہ کرنا کیاچاہتے ہیں؟ شائد یہ انھیں خود نہیں پتہ.
عمران خان صاحب اپنی جماعت کے ہر جلسہ میں اپنی جماعت کو سونامی کہتے ہیں شائد  اُنہیں کسی نے سونامی کی ابھی تک معنی نہیں سمجھاے ہم نے پچھلے  2 سالوں میں الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے بہت جلسے دیکھے  بلا شبہ کہہ سکتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے عوام نے ان کے جلسوں کا خوب رخ کیا تھا مگر افسوس نہ 11 مئ 2013 کے عام انتیخابات میں کوئی سونامی دیکھنے میں  آیا اور نہ الیکشن کے 1 سال بعد 11 مئ 2014 کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں کوئی سونامی نظر آیا آخر عمران خان صاحب اور تحریک انصاف کا سونامی ہے کیا ؟انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں جو سونامی آیا تھا اس میں تو بہت تباہی ہوئ تھی اگر یہ اس سونامی کا زکر کرتے ہیں تو انکے سپورٹرز کیا کم علم ہیں جو انکے اس سونامی کا حصہ بنے ہوۓ ہیں؟ یا پھر عمران خان صاحب اور انکی تحریک انصاف  شائد کچھ زیادہ کم علم ہے اسی لیے وہ فخر سے اپنے آپکو اور اپنی جماعت کو سونامی کہتے ہیں اگر انھیں سونامی دیکھنا ہے تو انڈونیشیا ،سری لنکا اور دیگر ممالک کے سونامی کی تاریخ پڑھ لیں جس کے معنی طوفانی تباہی کے ہیں ایک طرح سے دیکھا جاے تو عمران خان صاحب کا اپنی جماعت  کو سونامی کہنا غلط نہیں  ہوگا کیونک عمران خان صاحب کا پارلیمنٹ میں آنا ایک سونامی ہی ہے اور جب سے وہ اپنی تحریک چلا رہے تب سے پاکستان  میں  تباہی ہی تباہی ہورہی ہے اور پاکستان  مسلسل دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جس کی اصل وجہ تحریک انصاف اور عمران خان  صاحب جیسے لوگوں کی طالبان کی کھل کر حمایت کرنا ہے جس سے طالبان کو مزید تقویت ملی اور ایک سیاسی پلیٹ فارم بھی مل گیا جو پارلیمنٹ میں انکی نمایندگی کرے اس سے پہلے یہی کام جماعت اسلامی اور دیگر طالبان کے حمایتی اکیلے طالبان کے لیے کر رہے تھے اور اب عمران  خان صاحب اور تحریک انصاف بھی  طالبان کی  تشہیر  کے لیے  میدان عمل میں آگے یہ واقعی کسی سونامی جیسے طوفان سے کم کی بات نہیں جو دراصل دہشت گردی  کا سونامی ہے جو حقیقت میں  پاکستان  میں  سونامی کے مترادف ہے  ایسا دہشت گردی کا سونامی آیا ہے جس نے غریب کو  تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کردیا ہے پاکستان کا کوئ شہر  ایسا نہیں  جو دہشت گردی کی لپیٹ میں نہ ہو  تحریک انصاف اور عمران خان صاحب بتایۓ کیا یہ ہی آپکی تبدیلی اور سونامی ہے  ؟  خیبرپختونخواہ جہاں تحریک انصاف اور جماعت  اسلامی کی حکومت  ہے جس کی وجہ سے پورا  خیبرپختونخواہ طالبان کے  ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے خیبرپختونخواہ کی عوام  جنھوں  نے تبدیلی  کے  لیے ووٹ دیے  تھے  وہ آج بارود سے گھرے  ہوۓ ہیں  ہر جگہ افرا تفری کا عالم ہے بے چینی کا ماحول ہے جس سے خان  صاحب اور اتحادی جماعتوں کی ناکامی منہ بولتا ثبوت ہے عمران خان صاحب و تحریک انصاف کی خیبرپختونخواہ میں  حکومت کو 1 سال ہوگیا ہے اور امن و امان کی  صورتحال ابتر سے ابتر ہورہی ہے اور  دہشت گردوں کو مزید منظم کیا جارہا ہے جس سے تحریک  انصاف  اور انکی لیڈر شپ   کی  صلاحیت و  قابلیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ایسا محسوس  ہوتا ہے کہ تحریک انصاف  کے پاس امن و امان  یا معیشت اور خیبرپختونخواہ کی ترقی کے  لیے نہ  کوئ پالیسی ہے اور نہ کوئ کوئی ویژن  ہے جس  سے صوبہ کی ترقی میں کوی کردار  ادا کریں تحریک انصاف اور عمران خان غیر زمہ دار حکمران ہیں  جنھیں تو نا اہلیت  کا  سرٹیفیکیٹ  دینا چاہئیے کہ وہ صوبائی  حکومت  کو ٹھیک  کرنے کے بجائے عام انتخابات 2013 میں انکی ہاری ہوئ  نشستوں کے  4 حلقوں میں دھاندلی کے خلاف  جلسہ کر رہے ہیں وہ بھی ایک سال کے بعد  جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ  عمران خان صاحب کا کوئی احباب کوئ رشتہ دار کوئ ہمدرد سمجھانے والا نہیں اور نہ خان صاحب  میں فیصلہ کرنے  کی صلاحیت  ہے  جس کی وجہ سے  انھیں یو – ٹرن لینا پڑ تا ہے  آپ سے ایک صوبہ نہیں  سنبھل رہا خدانخواستہ اگر  آپ وزیراعظم  بن جاتے تو پھر پاکستان طالبانستان بن جاتا 

  Image    Image   Image  

 

Image   Image Image

عمران خان صاحب عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنایے یہ  دھرنا اور جلسے جلوس چھوڑیں اور جس کے لیے آپکو پختونخواہ کی عوام نے ووٹ دیے اور جو آپ نے الیکشن سے پہلے وعدے عوام سے کیے تھے ان وعدوں کی تکمیل کی طرف توجہ دیں اپنی زمہ داری سے نہ بھاگیں اگر عوام کے مسائل کے حل کے لیے آپکے پاس کوئی حکمت عملی نہیں تو اسمبلی سے استعفی دے دیں کسی اہل جماعت کو موقع دیں آپ نے 2 ہفتے پہلے عام انتیخابات 2013 کی پہلی برسی کے موقع پر 11 مئ 2014 کو ڈی چوک اسلام آباد میں جلسہ جس میں عوام کو توقع تھی کہ آپ کوئ انقلابی تقریر کروگے مہنگائ بے روزگاری دہشت گردی اور کرپشن کے خلاف بات کروگے مگر آپ نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوے اپنی وہ ہی کنفیوز تقریر کی جس کا محور صرف وہ 4 حلقے جس میں ان کو شکست ہوئ وہ ، الیکشن ریفارمز، الیکشن کمیشن کی تشکیل نو ، انگوٹھے کے نشانات کی تصدیق اور دیگر مطالبات پر بات کی جس سے حکومت  تو خوش ہوگئ مگر اس عوام کا کیا جس نے آپ کے جلسے میں جھنڈے  لگاے محنت کی اور ووٹ دیے اگر اپکو یہ ہی باتیں کرنی تھی تو آپ پارلیمنٹ میں کرتے وزیراعظم سے جب آپکی معلاقات ہوئ اس معلاقات میں یہ مطالبات رکھتے  کیوں نہیں رکھے؟ کیا  ان  مطالبات کے پورے ہونے کے بعد ملک میں آمن آ جائیگا ؟ کیا اس سے  بے روزگاری  دہشت  گردی اور کرپشن کا خاتمہ ہوجائےگا؟؟  اور  اب یہ ہی تماشہ عمران  خان صاحب فیصل آباد میں کرنے جارہے ہیں لیکن اب 11 مئ ڈی چوک اسلام آباد کے جلسے کے بعد  تحریک   انصاف کا گراف  عمران  خان صاحب کی سیاسی بصیرت نہ  ہونے اور  پختونخواہ  حکومت  کی ناکامی  و  نااہلیت کی وجہ سے مزید گرگیا
اپنی ناکامی کو چھپانے کی وجہ سے تحریک انصاف دھاندلی دھاندلی کے لیے چیخ رہے ہیں انھیں 1 سال بعد یاد آرہا پورے 1 سال سے پختونخواہ میں تحریک انصاف کے وزراء قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں اور انتیہا کی کرپشن کرہے ہیں عمران خان صاحب آپ اپنی پختونخواہ کی حکومت کی کرپشن کو پورے سال نہیں روک سکے آپ کے وزراء نے پختونخواہ میں سواۓ کرپشن کے اور کچھ نہیں کیا خدارا اب اپنی سونامی کا بوریہ بستر لپیٹ لی جیے آپکی پختونخواہ کی حکومت کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو  پختونخواہ میں کوئ اب دوبارہ ایک ووٹ بھی دے آپکی سونامی بالکل ناکام ہوچکی ہے آپ جس مقصد کے لیے آۓ تھے وہ ہوگیا  پختونخواہ میں طالبان کو اپنی نمایندگی چاہیے تھی اور وہ کام آپ نے جماعت اسلامی نے ملکر پورا کردیا اور اس میں کوئ شک نہیں آپکے اور جماعت اسلامی کے صوبئ اسمبلی کے ممبر وں میں سے اکثریت وہ لوگ ہیں جن کا براہ راست دہشت گردوں سے تعلق ہے خدارا اپنی  ناکامی کو اور اپنی انتیخابی شکست کو تسلیم کیجۓ ایک بڑا لیڈر اور جماعت بننے کے لیے دہشت گرد نہیں محب وطن عوام کی ضرورت ہوتی ہے اور شارٹ کٹ سے اقتدار میں آنے والوں کا اقتدار بہت شارٹ ہوتا ہے کیونکہ انکے پاس کوئ ویژن یا تجربہ نہیں ہوتا اور اب آپ تحریک انصاف اور اپکی لیڈر شپ اچھی طرح جان چکی ہوگی

Image .Image  Image   Image  

10366089_493007927494124_1651681843574697466_n

Advertisements