Image

ہمارے ملک پاکستان میں بہت سی سیاسی و مذہبی جماعتیں موجود ہیں جن کے لیڈران اکثر و بیشتر اپنی عوام سے بہت زیادہ وعدے توکرتے ہیں کہ ہم یہ کرینگے ہم وہ کرینگے اور پاکستان کو معاشی و اقتصادی طور پر مضبوط کرینگے مگر عملی طور پر کچھ نہیں کرتے نہ ہی ان لیڈران کو غریب کی بھوک و افلاس اور غربت کا احساس ہوتا ہے اب پاکستان کی عوام انکے  جھوٹے وعدے سن سن کر تھک چکے ہیں اور عوام کو احساس ہوگیا ہے کہ یہ خاندانی جاگیردار وڈیرے سیاستدان جھوٹ کا پلندہ ہیں شائد یہ ہی وجہ ہے  ان جھوٹے لیڈران سے نجات کے لیے پاکستان کے غریب محکوم مظلوم اور پسے ہوے عوام نے بارگاہ الہی سے دعا مانگی ہوگی کہ غریب محکوم عوام کو ان نسل پرست سیاست دانوں جنھوں نے آج  تک پاکستان کی عوام کو کچھ نہ دیا اورعوام کے پیسوں سے ایوانوں کے مزے لوٹنے والے چور لیڈروں سے ہمیں  نجات دلائی جاے ان غریب مظلوم محکوم عوام کی دعاؤں کے ثمر میں بارگاہ الہی نے انھیں ایسا  قائد لیڈر اور  بے باک انسان  عنایت کیا جسے آج پوری دنیا الطاف حسین کے نام سے  جانتی ہے اسی قائد نے اپنے عوام کو ان نام نہاد قومی لیڈران  سیاسی خاندان اور جبری نظام اور جاگیر دار وڈیروں  کے  جال سے نکالنے کا بیڑا اٹھایا اور اپنی قوم کو انکے  جاگیردارانہ  وڈیرانہ نظام سے نجات دلانے کا عزم  کیا جس کاعملی دن وہ دن تھا جب الطاف حسین نے اپنے قوم کے حقوق کیلیے جامعہ کراچی میں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ 11 جون 1978 کو ایک طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او کے قیام کا اعلان کیا 

Image     Image     Image

Image  Image   Image

یہ ایک تاریخی اور انقلابی دن تھا جس دن ایک عام طالب علم الطاف حسین نے اپنی قوم کے حقوق کیلیے اپنی نوجوانی کے ایام میں طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی جس کے بعد الطاف حسین کو بہت آزمائشوں سے گزرنا پڑا طلبہ کو  الطاف حسین کا عزم و مشن و مقصد فکر فلسفہ متاثر کرنے لگا جوق در جوق طلبہ قریب آرہے تھے اے پی ایم ایس او نے آتے ہی طلبہ یونین کے الیکشن   میں نمایاں برتری حاصل کی جس  وجہ سے سیاسی و مذہبی جماعتوں کی بغل گیر طلبہ تنظیموں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا یہ  شکست  سایستدانوں  مذہبی ٹھیکیداروں اور اسٹیبلشمنٹ کو ایک آنکھ  نہ  بہائ اور اس دن سے الطاف حسین اور اے پی ایم ایس او اور  مہاجروں کے خلاف ہر سطح پر سازشوں کا جال بچھا دیا گیا اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدان  پریشان  تھے کہ الطاف حسین نے  بنا اسٹیبلشمنٹ کی چھتری اور بنا کسی سیاسی پارٹی  کے  طلبہ تنظیم کی بنیاد کیسے رکھ   دی ؟؟؟  اسٹیبلشمنٹ اپنی  پیدا کردہ جماعتوں کی مقبولیت میں کمی اور شکست سے خوفزدہ ہو کر غیر قانونی حربوں سے الطاف حسین کے عزم و  حوصلہ کو پست کرنے کی کوشش کی اور ہر  طرح  سے انکی تنظیم اے پی ایم ایس او کو دبانے کی  کوششیں کی اور پھر طلبہ یونینز پر پابندی لگا کر الطاف حسین اور اے پی ایم اس او  کے طلباء کے لیے  تعلیمی دروازے بند کردیے گئے

Image   Image Image     Image

ان تمام زیادتیوں کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی اور اپنے عزم و  حوصلوں سے اپنی قوم کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا جذبہ دیا اور سمت دکھائی اور اپنے نظریئے فکرو فلسفے کو تعلیم کے میدانوں  درسگاہوں سے گلی محلوں میں عام عوام تک پہنچایا اور 11 جون 1978 کو جامعہ کراچی میں بننے والی طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او نے ایک انقلابی تحریک ایم کیوایم کو جنم دیا جو اعزاز صرف و صرف الطاف حسین اور اے پی ایم  ایس او کو حاصل ہے کہ  جس نے  طلبہ تنظیم کے بعد18 مارچ 1984 کو   ایک انقلابی تحریک ایم کیو ایم کو جنم  دیا جو پورے پاکستان کے ٪۹۸ غریب مظلوم   عوام کی نمایندہ جماعت ہے.
الطاف حسین ایم کیو ایم کے قیام کے بعد اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کی آنکھ میں اور کھٹکنے لگے کیونکہ جس قوم کو ایسٹیبلشمینٹ قیام پاکستان کے بعد سے دبانے اور کمزور کرنے کی کوشش کررہی تھی وہ قوم الطاف حسین کی قیادت میں منظم ہوکر اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہورہی تھی اور اسی خوف نے الطاف حسین کے مخالفین کی نیندیں اڑادیں الطاف حسین کو اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم کے قیام کے بعد اسٹیبلشمینٹ کی مخالفت اور دیگر مصائب کا سامنا کرنا پڑا مگر انکا حوصلہ ہمت جوش بہت طاقتور تھا انکے عزم کے آگے کوئی ظلم نہ ٹک سکا الطاف حسین اور انکی قوم نے ہر مشکل کا سامنا ایک ساتھ کیا

Image    Image   Image   Image  Image    Image

Image

الطاف حسین نے اپنے نظریے حقیقت پسندی و عملیت پسندی کے زریعے غریب متوسط طبقے کے عوام کو وہ تحفہ دیا جو کبھی کسی نے نہیں دیا تھا الطاف حسین اور انکے عزم کو پست کرنے کے لیے ایک خاص قوم کا خون بہایا  گیا اور کئ لوگوں کو الطاف حسین کا ساتھ دینے اور مڈل کلاس  اور غریب متوسط طبقے کا انقلاب لانےکی سزا کے طور پر شھید کردیا گیا اور الطاف حسین کے بھائی بھتیجے کو بھی اسکی سزا ملی تقریبن 20 ہزار سے زائد مہاجروں کو  الطاف حسین کی جدوجہد میں  ساتھ دینے کی وجہ سے شھید کردیا گیا اسٹیبلشمنٹ اور نام نہاد ٹھیکیداروں کو معلوم تھا کہ الطاف حسین جو خود ایک مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے اور جس کے آباؤاجداد نہ تو کوئ سردار تھے اور نہ جاگیر دار وڈیرے الطاف حسین صرف عریب محکوم مظلوم کی بات کرتا ہے اور انکے جائز حقوق کی بات کرتا ہے اور اگر وہ ایک ہوگئے تو اس ملک میں انقلاب آنے سے کوئی نہیں روک سکتا اس انقلاب کو روکنے کے لیے الطاف حسین کو عوام سے دور رکھنے کی سازشیں کی گئ پاکستان میں سب سے پہلا خودکش حملہ الطاف حسین پر کیا گیا جس کے بعد الطاف حسین کو ملک سے باہر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا جو زمہ داران اور کارکنان کا مشترکہ فیصلہ تھا تاکہ الطاف حسین اپنی تحریک کے مشن و مقصد کو مزید آگے بڑھاسکیں  کیونکہ انقلابی تحریک کے لیے متفقہ قائد کی زندگی بہت اہمیت رکھتی ہے الطاف حسین 22 سال سے جلاوطن  ہیں  مگر اسکے باوجود وہ اپنے مشن و مقصد پر گامزن  ہیں انکے عزم آ ج بھی وہی ہیں جو 36 سال پہلے تھے 92 کے بعد پیدا  ہونے  والی موجودہ  نسل اتنی ہی محبت کرتی ہے جتنی انکے قریب رہنے والے ان سے محبت کرتے ہیں .اور الطاف حسین بھی اپنی قوم اور اپنی عوام سے بہت محبت کرتے ہیں اور کچھ دنوں میں  انکے ہاتھ سے لگایا گیا پودا اے پی ایم ایس او جو کہ وہ پودا  اب تناور درخت بن چکا ہے اور 11 جون 2014 کو اے پی ایم ایس او اپنا 36 واں یوم تاسیس مناے گی ان 36 سال بعد بھی  الطاف حسین  اور انکی جدوجہد کے خلاف سازشیں آج بھی جاری ہیں مگر 11 جون 1978  کو الطاف حسین صرف مہاجروں کے قائد تھے اور اب 11 جون 2014 الطاف حسین پاکستان کی تمام قومیت اور ٪۹۸ مظلوم محکوم عوام کے قائد  ہیں   الطاف حسین کا  فلسفہ پورے پاکستان میں  پھیل رہا ہے  مگر متعصب  رہنما و سیاستدان الطاف حسین کے خلاف سازشوں سے باز نہیں آرہے ہیں اور انتہائی متعصب رویہ ٪۹۸ مظلوم محکوم عوام کے قائد الطاف حسین کے ساتھ کہ اب انکے بنیادی حق نیکوپ سے انکو محروم کر کے انکی پاکستانی شناخت چھیننے کی سازش کی جارہی ہے جو کہ مذمتی اقدام ہے خداراہ الطاف حسین کو  انکا بنیادی حق قومی شناختی کارڈ جلد سے جلد جاری کیا جاۓ ابھی عوام نے  پرامن احتجاج کیا تھا اب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے اس معاملے  کو زیادہ  تاخیر نہ کیا جاے اگر دوبارہ احتجاج ہوا تو اسکے گہرے نتائج پاکستان پر مرتب  ہونگے.

Image  Image  Image  Image  Image

Advertisements