پاکستان کی آزادی اور پاکستانیت ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے پاکستان 1947 میں اردو بولنے والے مہاجروں کی 20 لاکھ سے زائد شہادتوں کے عوض معرض وجود  میں  آیا مگر افسوس کہ 20 لاکھ سے زائد جانوں کے نذرانے کے باوجود بانیان پاکستان کی اولادوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا یہ کیسا  دوہرا معیار ہے ؟؟ اورپاکستان میں بہت تیزی سے مہاجروں میں احساس محرومی پیدا ہو رہی ہے کہ بانیان پاکستان اور انکی اولادوں کو ابتک پاکستانی کیوں تسلیم نہیں کیاجارہا ہے ؟؟ حکومت پاکستان یا تواب کوئی سرٹیفیکیٹ تیارکرے یا پھر    ہمیں واضح طور پربتایا جاے کون  پاکستانی ہے کون نہیں ، مہاجروں کو مزید دیوار سے نہیں لگایا جاسکتا ، سندھ میں کوٹہ سسٹم کے نام پر ، دیہی اورشہری کے نام پر ، اردو بولنے والے مہاجر کے نام پر بہت امتیازی سلوک ہوگیا جس کا اندازہ   اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ پاکستان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کے لیے اردوبولنے والے مہاجروں ، %98 مظلوم محکوم غریب عوام کے قائد  کروڑوں عوام کی دل کی دھڑکن الطاف حسین کے ساتھ کس طرح سے امتیازی سلوک کیا جارہاہے تمام کاغذی اور قانونی کاروائی پوری کرنے کے باوجود انکے شناختی کارڈ اور  پاسپورٹ کے حصول  کے لیے رکاوٹیں پیدا کیں جارہی ہیں .آخر کیا وجہ ہے جس کی وجہ سے  انکے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول میں تاخیری کی جارہی ہے

ImageImage

http://www.mqm.org/englishnews/6659/rabita-committee-deplores-the-suspension-order-of-nadra-london-staff : #MQM‘s Rabita Committee deplores the suspension order of NADRA #London Staff #Pakistan #NICOPforAH

Video: #MQM‘s Rabita Committee condemns NADRA for using delaying tactics in the issuance of #NICOPforAH #Pakistan http://fb.me/6vKlx53oo

Image   Image

.ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین 1992 سے برطانیہ میں جلاوطن ہیں اور اب انکے شناختی کارڈ کی معیاد ختم ہوچکی ہے جس کے بعد انھوں  نے 4-04-2014 کونئے  شناختی کارڈ کے لیے درخواست دی جس کی ریسیونگ  اور ٹوکن نمبر بھی موجود ہے اسکی تردید 17 اپریل 2014 کو تسنیم اسلم صاحبہ نے بھی کی تھی کہ انھیں الطاف حسین کے شناختی کارڈ بنوانے کی درخواست مل چکی ہے اور ان سب عمل کے گواہ برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن بھی ہیں مگر 12 مئ 2014 کو  پاکستان کے سیکریٹری داخلہ اور ڈی جی پاسپورٹ کہتے ہیں انھیں کوئی درخواست نہیں ملی جو ایک قابل مزمت  اور  تشویش کی بات ہے تمام دستاویزات اور تمام عمل ہونے کے باوجود اداروں کا  مکر جانا حکومت کو مشکل میں ڈال سکتا ہے ایم کیوایم کے  قائد نے  جو درخواست  دی وہ ریکارڈ پر موجود ہے جسے کوئ جھٹلا نہیں    سکتا .حکومت اس اوچھے ہتھکنڈے کے پیچھے چھپے عناصر کو بے نقاب کرے 

ImageImage      Image      Image

قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرنا ہرپاکستانی شہری کا حق ہے چاہے وہ کہیں بھی ہو اور یہ حق کوئ نہیں چھین سکتا الطاف حسین ایک پاکستانی ہیں کروڑوں مظلوم عوام کے قائد ہیں انکے ساتھ متعصبانہ رویہ بہت برا امر ہے حکومت سے درخواست ہے کہ جلد سے جلد الطاف حسین کو قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنا کر دیا جاۓ اگر  الطاف حسین کے چاہنے والوں نے اس متعصبانہ رویہ  کے خلاف  احتجاج کیا تو حکومت سنبھال نہیں سکے گی ملکی حالات کے تناظر میں دیکھا جاۓ تو پاکستان کسی بڑے احتجاج کا متحمل نہیں ہوسکتا وزارت داخلہ، سیکریٹری داخلہ اس معاملے کو جلد  سے جلد   حل کرلیں کیوں  کہ الطاف حسین سب کے حقوق کے لیے آواز بلندکرنے والے ایسے قائد  ہیں  جنھوں نے تمام مسالک تمام قومیت اور تمام تعصب سے بالاتر ہوکر تمام دوست دشمن تمام مکاتب فکر کے  افراد کے حقوق کے لیے آواز  اٹھائی اور آج اسی قائد کو  اسکے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے  اگر جلدسے  جلد الطاف حسین کو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ نہیں دیا گیا تو پورا ملک سراپا احتجاج ہوسکتا ہے اور اسکے نتیجے میں  معاشی حب کراچی کئ ماہ کے لیے بند بھی  ہوسکتا کیونکہ الطاف حسین  کے چاہنے والوں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ہر جگہ  بے چینی اور غیریقینی کا ماحول ہے اور مسلسل مہاجروں   پر   ظلم اور پھر انکے قائد کے ساتھ متعصبانہ رویہ حکومت کو  بہت بڑی مشکل میں ڈال سکتا   ہے بھلائ اسی  میں ہے کہ  اس  معاملے کو جلدی حل کرلیا  جاۓ  کسی بھی احتجاج سے پہلے

 Image     Image     Image   Image

Advertisements