مئ 11 2013 کو پاکستان میں عام انتیخابات ہوۓ مگر اس دن کو کچھ حلقے یوم  جمہوریت کہہ رہے ہیں ، کچھ کا کہنا  ہے یہ ایک سیاہ دن تھا اور کچھ  کہتے ہیں یہ دن عام عوام کی مزید بد حالی اور  استحصالی اور مزید معاشی قتل کا دن تھا ،  جس کے نبیجے میں پاکستان مسلم لیگ نواز کو وفاق اور صوبہ پنجاب میں بھاری اکثیریت ملی اسی طرح سندھ میں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کو مینڈیٹ ملا بلوچستان میں مقامی نشنلسٹس قوم پرست جماعتوں کو مینڈیٹ ملا اور خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو مینڈیٹ ملا چاہے یہ مینڈیٹ جعلی ہو یا بوگس سب نے اس نتائج کو تسلیم کیا مگرتحریک انصاف اور عمران خان صاحب اب تک اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں .11 مئ 2013 کے بعد تحریک انصاف اپنی دھاندلی کا رونا بھی روتی رہی اور اپنی بیڈ گورننس کو بھی چلاتی رہی اور دہشت گردوں کو خیبر پختونخواہ میں پال کر پاکستان کو مزید آزمائشوں میں بھی ڈالتے رہے .1 سال ہونے کو ہے مگر تبدیلی کے دعویدار  تحریک انصاف اور عمران خان صاحب اپنے حکومتی دور میں بھی  کوئی تبدیلی نہ لا سکے بلکہ اس کے برعکس دہشت گردوں کو اپنا حکومتی شیلٹر فراہم کرکے انھیں تحفظ دے رہے ہیں اور انکے خیبر پختونخواہ کے وزیر و مشیر بھی انکے بس سے باہر ہیں جو خیبرپختونخواہ کے وزیر و مشیر قانون ساز اسمبلی اپنی تنخواہ اور دیگر مراعات کے لیے تو آواز  اٹھارہے ہیں مگر وہاں غریب عوام کو  تحفظ دینے کے بجاے دہشت گردوں کو تحفظ دے رہے ہیں .تحریک انصاف اور عمران خان اپنی انتیخابی شکست کے بعد بہت پریشان اور کنفیوز نظر آرہے ہیں کیونکہ انتخابات سے پہلے دعوے تو بہت کردیے مگر اتنی اہلیت نہیں رکھتے کہ درپیش چیلینجز سے نمٹ سکیں جس کی وجہ سے انکے سینیئر تحریک انصاف اور عمران خان صاحب سے جان چھڑانے کے لیے پر تول رہے ہیں اور پھر عمران خان کی طالبان دہشت گردوں  کی کھل کر حمایت کرنے سے تحریک انصاف کے کارکن بہت غصہ ہیں یہ ہی وجہ ہے عمران خان صاحب اور تحریک انصاف اپنے ووٹرز سپورٹرز اورعوام کو 11 مئ 2014 کو احتجاج اور دھرنے کی سیاست میں الجھا کر عوام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش لگتی ہے   جس   سے  عمران  خان  صاحب کو پاکستان کی سیاست میں زندہ کیا جاسکے یہ محض ایک ڈرامہ لگتا ہے .

Image  Image  

 

… … Rigging in by

 

Image      Image   

 

عمران خان صاحب  ہماری یادداشت اتنی کمزور نہیں ہے حال ہی میں آ پکی وزیراعظم نواز شریف صاحب سے   ہونے والی معلاقات ہم بھولے نہیں ہیں  آپکی منطق بھی خوب ہے دھرنے احتجاج  اور مظاہرے  نواز شریف صاحب کی انتخابات میں  دھاندلی کے خلاف کرنے جارہے ہیں اور وزیراعظم نواز شریف صاحب سے معلاقات بھی کررہے ہیں خوب ہیں عمران خان صاحب ، تحریک انصاف نے 11 مئ 2014 کو عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کا اعلان تو کردیا مگر اس دھاندلی کا کیا ہوگا جو آپ نے خوشاب اور ملتان این اے 250 کراچی اور خیبرپختونخواہ میں کی؟ جس کے  ثبوت بھی موجود ہیں  آپ پہلے اپنا احتساب کریں ایسا نہ ہو جس دھاندلی کے لیے آپ آواز  اٹھا رہے ہیں وہ آپکے گلے کا ہار بن جاے .

Image   Image 
 مئ 2014 11 کے تحریک انصاف کے احتجاج کے مقاصد سے  پاکستان کی عوام بخوبی واقف ہیں اب عوام کو بے وقوف بنانا اتنا آسان نہیں جس طرح آپ نے عوام کو الیکشن  سے پہلے تبدیلی کے نام پر بےوقوف بنایا .
عمران خان صاحب لیڈر بننے کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں دھرنوں اور احتجاج اور مک  مکا کی سیاست سے کوئی لیڈر نہیں بنتا ابھی آپ میں ایسی کوئی صلاحیت نہیں کہ آپ کو کسی جماعت کا رہنما یا لیڈر بھی کہا جاے پاکستان کی قیادت تو دور کی بات  ہے فی الحال  آپ کو اللہ نے خیبرپختونخواہ میں حکومت دی ہے اسے غنیمت جانیے اور وہاں کی گورننس اور وزیر و مشییروں کی بڑھتی ہوئ کرپشن پر دیہان دیجیے کس طرح سے آپ  کے  مشیر و وزیر قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں دھرنے اور احتجاج کو چھوڑیے مہنگائ بے روزگاری آپکے رفقاء اور ہمدرد دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھایے 1 سال میں آپ نے خیبرپختونخواہ کی عوام کے لیے کچھ نہیں کیا  ادھر ادھر کا رونا چھوڑیں جہاں موقع ملا ہے وہاں کچھ کر کے دکھایے  اپنے وزیروں کے قبلے درست کیجیے اب عوام کی  یادداشت بہت مضبوط ہوگئ ہے
عمران خان صاحب  ، تحریک انصاف  ہم بھی  دیکھیں گے کہ آپ 11 مئ 2014 کو کون سا طریقہ اپنائیں گے

 

Advertisements